فہم الحدیث

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اﷲ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور بے شک میں تقسیم فرماتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ مجھے عطا فرماتا ہے (الصحیح للبخاری ج 1 ص 16 مطبوعہ مکتبہ غوثیہ کراچی)

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔

نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

رشک نہ کرو مگر دو شخصوں پر :

(الف) وہ شخص جس کو اﷲ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور اس کے ساتھ اسے اس مال کو راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائی۔

(ب) وہ شخص جس کو دین کا علم عطا فرمایا۔ پس وہ شخص اس علم کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور وہ علم دوسروں کو سکھاتا ہے (بخاری‘ مسلم‘ ترمذی ج 2ص 93‘ مطبوعہ کراچی)

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا

ایک فقیہ عالم دین ہزار عابد سے افضل ہوتا ہے شیطان پر (ترمذی ج 2ص 92 سنن ابن ماجہ ص 20 مطبوعات کراچی)

فقیہ کی فضیلت

اﷲ عزوجل نے ائمہ دین علیہم الرضوان کو جو اعلیٰ مقام عطا فرمایا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عالی مرتبت علماء و ائمہ کرام ابتدا ہی سے اﷲ تعالیٰ کے منظور کرم ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ انہیں پہلے ہی سے دین کی اعلیٰ خدمات کے لئے منتخب فرمالیتا ہے۔ پھر ان کو ایسے مواقع عطا فرماتا ہے جن سے ان کی ظاہری‘ باطنی علمی اور روحانی تربیت ہوتی ہے۔ پھر اﷲ عزوجل دنیا اور آخرت میں ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔ دنیا والوں پر ایسے غالب فرما دیتا ہے۔ ایسی اعلیٰ شان عطا فرمادیتا ہے کہ سر خم تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے

’’اﷲ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا‘‘ (المجادلہ 11)

ان کے علم کو اﷲ تعالیٰ نے خیر کثیر قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد کریمہ ہے

’’اور جسے علم دین ملا اسے خیر کثیر ملی‘‘ (البقرہ ۲۶۹)

نائب امام اعظم علیہ الرحمہ

اﷲتعالیٰ کے ان پسندیدہ فقہائے دین میںسے بعض وہ ہیں۔ جو کثرت کے ساتھ ایک ہی زمانے میں پائے گئے۔ عوام الناس کے قلوب واذھان کونورنبوت سے معطرکردیا پھر صدیوں اس کے اثرات رہے۔ اوربعض و ہ ہیں جوتن تنہا ایک جماعت کاکردار ادا کرتے رہے۔ انکی ذمہ داریاں وسیع رہیں۔ ہزاروں اقسام وانواع کی بے دین قوتوں سے ڈٹ کرمقابلہ کیا۔ امت مسلمہ کوان باطلوں کویلغار سے نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ ان کے اندر ایمان کواتنا پختہ کردیا کہ وہ دوسروں کے ایمان کے محافظ بن گئے تاریخ میں ایسے نام توبہت ہیں۔ تاہم برصغیر کی تاریخ میں دوبزرگوں کے نام زیادہ مشہور ہیں۔

۱۔ حضرت عارف باﷲ مجددالف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ

۲۔ نائب امام اعظم امام احمد رضاعلیہ الرحمہ

ہم اس نگارش میں ناموس مصطفیٰ ﷺ کے عظیم محافظ چمن مجتبیٰ ﷺ کے روشن درخشاں پھول نائب امام اعظم علیہ الرحمہ کے متعلق بلامبالغہ مختصر کلام پیش کریں گے۔

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کواﷲتعالیٰ نے وہ بلندمقام عطا فرمایا جوآپ علیہ الرحمہ کے معاصرین سے لیکر اب تک کسی کونہیںملا۔ آپ علیہ الرحمہ نے تنہا وہ ذمہ داریاں نبھائیں جن کیلئے پوری جماعتِ علماء ومفکرین کی ضرورت تھی۔ آپ علیہ الرحمہ نے بدمذاہب کاوہ ردبلیغ کیا کہ آج تک ان کے ہم مذہب میں سے کسی کوجواب دینے کی ہمت نہیںہوئی۔ چودہویں صدی کے بڑے بڑے فتنوں کاڈٹ کرمقابلہ کیا۔ آپ علیہ الرحمہ ہی دور تھا کہ بڑے بڑے فتنوں نے جنم لیا جواسلام کالبادہ اوڑھ کربھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان کے درپے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے ہرایک باطل قوت کوایسی پسپائی پرمجبور کیا کہ وہ آج تک اسی طرح سے سرنہ اٹھا سکی۔ یہ سارا فیضان مصطفیٰ ﷺ تھا کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کوکئی علوم عطافرمائے۔

ان علوم کی روشنی میں آپ رضی اﷲ عنہ نے دین کی ایسی بے مثال خدمات انجام دیں کہ عالم اسلام کے مسلمانوں کاکمزورہوتا ہوا محبت رسول ﷺ کارشتہ مضبوط ترین ہوگیا۔ جس کی بدولت ان کاایمان ہمیشہ کیلئے محفوظ ومامون ہوگیا۔ الغرض آپ علیہ الرحمہ کے محاسن کے پہلوتو ہمہ جہت وہمہ گیر ہیں کہ قلم کماحقہ ان کوبیان کرنے سے قاصر ہیں۔ صرف آپ علیہ الرحمہ کیایک پہلو خدمت علم فقہ کی طرف اگر نظرکریں تو آپ علیہ الرحمہ کی عظیم شخصیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تواپنے غیروںنے بھی آپ علیہ الرحمہ کی عظمت کااعتراف کیاہے۔ عرب وعجم نے دیگر محاسن کے علاوہ آپ علیہ الرحمہ کے بے مثال فقیر کوخوب سراہا اور بڑے بڑے فقہاء آپ علیہ الرحمہ کے آگے زانوئے تلمذ بچھاتے رہے۔ دنیا ئے فقہ میں وہ خدمات انجام دیں کہ اگرآپ علیہ الرحمہ کودوسری صدی کے عظیم فقہاء کے طبقے میں شمار کیا جائے توبے جانہ ہوگا۔ آپ علیہ الرحمہ کوان تمام علوم پرمکمل دسترس حاصل تھی جوایک مجتہد عالم دین کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ کوان کا عملی مظاہرہ پچاس سے زائدعلوم پرمستقل رسائل وکتب تصنیف کرکے کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے برصغیر میں یہ مقام آپ ہی کودیا ہے کہ اردو میں تاحال جس قدر فقہی تحریریں موجود ہیں۔ ان میں سے صرف امام احمد رضا علیہ الرحمہ ہی کی تحریریں اس قابل ہیں کہ ہرہرسطر اور جملے سے اسی شان کے مطابق استدال کیا جاتا ہے جیسے اکابر فقہائے کرام کی تحریروں سے کیاجاتا ہے۔

حیرت انگیز فتوی :

نائب امام اعظم احمد رضا علیہ الرحمہ کواﷲ تعالیٰ نے فقہی استدلال پرکتنااعلیٰ مقام عطا فرمایا اسکی ایک جھلک ملاحظہ کریں!

حضرت علامہ محمد وصی محدث سورتی علیہ الرحمہ نے ایک استفتاء بھجوایا جس میں سوال تھا کہ کیا مشرقی افق سے سیاہی نمودار ہوتے ہی مغرب کاوقت ہوجاتا ہے؟ یا سیاہی کے بلند ہونے پرمغرب کاوقت ہوگا؟

نائب امام اعظم علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ سورج کی ٹکیہ کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہی سیاہی مشرقی افق سے کئی گزبلند ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے پراستدلال کرتے ہوئے فرمایا!

’’ اس پرعیان وبیان وبرہان میں شاہد عدل میں……الحمدﷲ عجائب قرآن منتھی نہیں۔ ایک ذرا غور سے نظر کیجئے توآیہ کریمہ

’’تولج اللیل فی النھارو تولج النھارفی اللیل‘‘

کے مطالعہ رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں چمک رہی ہیں۔ رات یعنی سایۂ زمین  کی سیاہی کوحکیم قدیر عزجلالہ دن میں داخل فرماتا ہے۔ ہنوزدن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اوردن کوسوادِ مذکور میںلاتا ہے ابھی ظلمت شبینہ موجود ہے کہ عروس خاوربے نقاب اٹھائی‘‘

(فتاویٰ: رضویہ: ۱۷ص۸)

امام احمدرضا علیہ الرحمہ کے فتاویٰ کواگردیکھا جائے توبرملا اعتراف کرناپڑتا ہے کہ آپ کے فتاویٰ ’’فتوائے حقیقیہ‘‘ جیسے اعلیٰ درجے پرفائز ہیں اس کے باوجود آپ کی عاجزی وانکساری اور اکابرین کی بارگاہ کی تعظیم وتوقیر دیکھیئے کہ آپِ نے اپنے فتاویٰ جات کو’’فتویٰ عرفیہ‘‘ کے درجے میں شمار کیا ہے۔

جوکہ فتاویٰ کادوسرا درجہ ہے۔

اب ہم قارئین کی علمی معلومات میں اضافے کیلئے نائب امام اعظم احمد رضاعلیہ الرحمہ کے چندفتاوی اپنے الفاظ میںتحریرکررہے ہیں۔

مہاتمایاجے کہنا کیسا ہے؟

آپ نے دیکھا ہوگاکہ بعض لوگ بالخصوص ہمارے ہاں بعض کالم نگار گاندھی وغیرہ ہندو رہنمائوں کیلئے مہاتما اور جے کالفظ استعمال کرتے ہیں۔ آنکھیں کھولیئے اوردیکھئے کہ ایسے لوگ آنے والی نسل کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں۔ شعوری یالاشعوری طورپراپنے ساتھ ساتھ دوسروں کوبھی کس قدر بدترین گناہ میں مبتلاکررہے ہیں۔

امام احمدرضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

مہاتما بمعنی روح اعظم ہے یہ خالصتاً حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کالقب ہے۔ (فتاوی: رضویہ: جلد ۱۵ص۱۰۱) مشرک کومہاتما کہنا حرام بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے(

 فتاویٰ:رضویہ: جلد۱۵ص۲۶۷)

ایسے ہی لفظ ’’جے‘‘ زندہ باد کے معنی میں ہے۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’جے‘‘ جوکافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ھنود کی یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے۔ درمختار وغیرہ میں ہے تبجیل الکافر کفر ‘‘ (کافر کی تعظیم کفرہے) ایضاً۔

’’حضرت امیرخسرو رضی اﷲ عنہ کاایک شعر‘‘

من توشدم تومن شدی من تن شدم توجان شدی

تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تودیگری

امام احمدرضا علیہ الرحمہ اس شعر کے متعلق فرماتے ہیں:

فارسی شعرحضرت خسروقدس سرہ العزیز کاعاشقانہ غزل میں ہے۔ اسے نعت شریف میں لیجانا اور کلام الہی ٹھہرانا(کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب سے یوں کہا ہے) اور اﷲورسول عزوجل و ﷺ میں یوں اتحاد ماننا بلکہ حضور کوجان اور اﷲ تعالیٰ کوتن ماننا صریح کفر ہے ’’(فتاوی رضویہ ج۱۵ص ۳۰۰) اس کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ مذکورہ شعر حضرت امیرخسروعلیہ الرحمہ کی غزل میں سے ہے جوانہوں نے حالت عشق میں اﷲ تعالیٰ سے مخاطب ہوکراپنی ذات سے متعلق کہی ہے چونکہ یہ عارف لوگ ہیں ان کامعاملہ عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے اس لئے ان کے متعلق چوںچراکرنامناسب نہیں ہے۔ تاہم اس شعرکواگرکوئی بصورت نعت حضورﷺ کیلئے کہے تو ایسا کہنا کفرہوگا کیونکہ ایسی صورت میں اﷲتعالیٰ کیلئے جسم ماننا اور اﷲ ورسول عزوجل وﷺ دونوں کوایک ماننا لازم آئے گا۔ جوکہ صراحتاً کفر ہے۔

مشرکین کو مسجدمیںبطور تعظیم لیجانا

قارئین جہاں میڈیا کاایک مثبت پہلوہے وہیں اس کاایک خطرناک پہلویہ ہے کہ بے دین اورغیرت سے عادی لوگوں کے ایک طبقے نے اسکا ہمیشہ غلط استعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں سے دین کی رمق کونکالنے کی ناپاک سازش کی اور کررہے ہیں۔ اسی میں سے یہ بھی ہے کہ مساجدکوغیرمسلم کیلئے کھول دینا چاہیے انہیں بھی اپنے مذاہب کے مطابق عبادات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ بعض دفعہ شان وشوکت کے ساتھ غیرمسلم حکمرانوں کومساجد کے دورے کراتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

امام احمدرضا علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

مشرکوں کوتعظیم وتوقیر کے طورپرمسجد میں لیجانا حرام ہے۔

رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’انما ھی لذکراﷲ والصلوۃ وقراء ۃ القرآن‘‘ (صحیح مسلم جلد اول ص۱۳۸)

ترجمہ : بے شک مساجداﷲ تعالیٰ کے ذکراورنماز اور قرآن پاک کی تلاوت کیلئے بنائی گئیں۔ (فتاوی رضویہ جلد ۵‘ص۲۷۱)

ایک غلط روایت:

لوگوں میں ایک روایت مشہور ہے کہ’’حب الوطن من الایمان (وطن کی محبت ایمان کاحصہ ہے)

اس کے بارے میںنائب امام اعظم احمدرضا علیہ الرحمہ نے فرمایا: ’’یہ حدیث سے ثابت نہیں ہے امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جزئ، امام شمس الدین محمد سخاوی نے مقاصد حسنہ اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق۔ اس روایت کے متعلق فرمایا ’’لم اقف علیہ‘‘ یعنی میں اس سے آگاہ نہیں ہوں۔ امام سخاوی علیہ الرحمہ نے اسے ایک اعرابی بدوی اورحکیمان ھند کاکلام قرار دیاہے۔

اس کے بعدامام احمد رضاعلیہ الرحمہ نے قرآن مجید کی آیات اورمتعدد احادیث کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں اپنے بندوں کی کمال مدح فرمائی جواﷲ عزوجل ورسول ﷺ کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں یارودیار سے منہ موڑیں اور ان کی سخت مذمت فرمائی جوحب وطن لئے بیٹھے رہے‘‘ (فتاوی رضویہ: ۱۵۷ص۲۹۶)

یاد رہے کہ امام احمدرضا علیہ الرحمہ کامقصد یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ اور رسولﷺ کی محبت وطن کی محبت سے زیادہ ہونی چاہیے۔ ان کی ناموس وطن سے مقدم ہونی چاہیے۔ کیونکہ انہی کے دم سے وطن ہے ورنہ کچھ نہیں۔

یزید کے بارے میں حکم:

یزید علیہ ماعلیہ کے متعلق امام احمدرضا علیہ الرحمہ نے مفصل فتویٰ تحریرفرمایا ہے جسکو مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔

’’یزید پلیدفاسق وفاجراور جری علی الکبائرتھا اس پرسب ائمہ دین کااتفاق ہے۔ صرف اسکو کافر قراردینے اور اس پرلعنت کرنے میں علمائے دین کااختلاف ہے۔ امام احمد علیہ الرحمہ سورۃ محمد کی آیت ۲۲سے استدلال کرتے ہوکافر قرار دیتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ یزید نے زمین میں فساد پھیلایا حرمین طیبین کی بے حرمتی کی مسجدنبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں گھوڑے باندھے ان کی لید اور پیشاب منبرِاطہر پرپڑے تین دن تک مسجد نبوی  ﷺ میں اذان ونماز نہیں ہونے دی، ہزاروں صحابہ وتابعین علیھم الرضوان بالخصوص رسول اﷲﷺ کے جگر پارے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کوتین دن تک بے آب ودانہ رکھ کرمع ہمراہیوں کے انتہائی ظلم وبربریت کے ساتھ شہید کیا۔ مدینہ طیبہ کی پاکدامن خواتین کوتین دن تین رات اپنے لشکرخیبر پرحلال کردیا۔ آقاﷺ کے گودکے پالے ہوئے تن نازنین پربعد شہادت گھوڑے دوڑائے حضور اکرمﷺ کی بوسہ گاہ امام عالیمقام امام حسین رضی اﷲعنہ کاسرانور کاٹ کرنیزہ پرچڑھایا اور منزلوں پھرایا اور خانوادئہ رسالت کی پاکدامن محترم خواتین کوقیدکرکے اس خبیث کے دربار میں لایاگیا۔ الغرض اسکی خبیث وملعون حرکات بہت زیادہ ہیں۔ اس نے آقائے دوجہاں ﷺ کواورساری امت مسلمہ کوسخت تکلیف دی ہے۔ وہ شخص ملعون ہے جواسکی حرکات کوملعون اورفسق وفجورنہ جائے قرآن عظیم میں ایسے شخص پرصراحتاً لعنت ہے۔ تاہم امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے اسے ملعون اورکافر قراردینے سے احتیاطاً سکوت فرمایا ہے کہ اس سے فسق وفجور تومتواتر ہیں مگرکفرمتواترنہیںہے اوراحتمال کی صورت میں کفرتوکفرکبیرہ گناہ کی نسبت بھی جائز نہیںہے۔

الحاصل یزید کونہ کافر کہیں گے نہ مسلمان بلکہ سکوت کریں گے۔ البتہ وہ فاسق وفاجر، پلید ہزاروں صحابہ، تابعین اور جگرپارہ رسول ﷺ ورضوان اﷲ علیھم کاقاتل نامراد تھا۔ (مخلص ازفتاوی رضویہ ج۱۴ص۵۹۱)

اسلام میں لچک ہے مگر!!!!

جیساکہ فتاوی مبارکہ میں چند امورغیرشرعیہ مشرکین کی تعظیم وغیرہ کی حرمت کابیان ہوا اس سے کسی کے ذہن میں یہ آنا چاہیے کہ اسلام بے لچک مذہب ہے نعوذباﷲ بلکہ اس میں لچک ہے لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ دین کے بنیادی قوانین ہی بدلتے جائیں کہ دین کاتشخص ہی ختم ہوجائے۔ یہی بے خیالی کاتونتیجہ ہے کہ آج عالم اسلام کاحال زار سب کے سامنے ہے۔ اتنی لچک دکھائی جائی جس سے اپنے مفادات بمطابق شریعت مطھرہ حاصل ہوں اوردین کاتشخص بھی قائم رہے۔ چنانچہ اگرکوئی کافر………امان (ویزہ) لیکرپاکستان آئے تواسے کوئی تکلیف نہیںدیںگے۔ اس کی سہولیات عامہ سے نہیں روکیں گے۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے تشخص کی پامالی کرتا پھرے اسلام کی ممنوعہ چیزوں کاسرعام ارتکاب کرے۔ یادرکھنا چاہیے دنیافانی ہے بالآخر اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔

مقام شکر:

قارئین ! آپ نے امام احمدرضا علیہ الرحمہ کے چند فتاویٰ کامطالعہ کیا جس سے آپ علیہ الرحمہ کے فقہی مقام کوسمجھنے میں کافی حدتک مددملی۔اس کے علاوہ بے شمار مسائل ایسے ہیں جوسراسرآپ رضی اﷲ عنہ کااستنباط ہیں۔ سچ فرمایا میرے رب کریم نے ’’اور اسکاٹھیک پہلو اﷲ ہی کومعلوم ہے اور پختہ علم والوں کو‘‘ (آل عمران آیت7)