تندرستی کا راز

in Articles, Tahaffuz, February 2010, متفرقا ت

طبی تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ دل کی زیادہ تر بیماریاں معدے سے جنم لیتی ہیں۔ کوئی شخص جتنی زیادہ غذا کھاتا ہے۔ اتنی ہی بیماریوں کو مول لیتا ہے‘ جبکہ زائد کھانے سے اجتناب دل کے امراض سے بچائو میں بہت عمدہ ثابت ہوتا ہے۔ زیادہ خوراک کھانے کی عادت انسانی صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی لئے اسلام نے ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانے اور متوازن غذا کھانے کے متعلق سختی سے احکامات صادر فرمائے ہیں۔ ایک وقت میں خوراک کی زیادہ مقدار کھا جانا یا ہر روز بھاری ناشتہ کرنا یا روزانہ دوپہر کا بھرپور کھانا‘ شام کا بھرپور کھانا‘ اچھی صحت کے لئے ضروری خوراک سے کافی زیادہ ہے۔ روزانہ ان میں سے تین وقت کا بھرپور کھانا‘ خاص طور پر زیادہ کیلوریز پر مشتمل خوراک اور سیر شدہ چکنائیاں نہ صرف صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہیں بلکہ امراض قلب اور دوسری بہت سی خطرناک بیماریاں مثلا ہائی بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ قرآن مجید نے متوازن غذا کی عادت کو برقرار رکھنے کے لئے خوراک کے زائد استعمال سے دور رہنے کی سختی سے تلقین کی ہے۔

ترجمہ: کھائو اور پیو اور ضائع مت کرو اور اﷲ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن مجید افراط و تفریط سے بچا کر معتدل خوراک کی بات کررہا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے اس بات کو تشہیباً اس انداز میں بیان فرمایا ہے۔

مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سانت آنتوں میں کھاتا ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں بسیار خوری کو اﷲ کی ناپسندیدگی قرار دیتے ہوئے فرمایا

اﷲ تعالیٰ بھوک سے زیادہ کھانے والے کو ناراضگی سے دیکھتا ہے۔ بسیار خوری بیماری کی جڑ ہے۔ اس لئے اس کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے سختی سے ناپسند کیا ہے۔ تاجدار حکمتﷺ کا فرمان ہے جو شخص دنیا میں جتنی زیادہ شکم پروری کرے گا قیامت کے روز اسے اتنا ہی لمبا عرصہ بھوکا رہنا پڑے گا۔ اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا انسان کی کمر سیدھی رکھنے کے لئے چندلقمے ہی کافی ہیں اور اگر زیادہ کھانے کو دل چاہے تو یاد رکھو کہ معدہ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے اور ایک تہائی مشروبات کے لئے استعمال کرو اور ایک تہائی سانس لینے میں آسانی کے لئے چھوڑ دو۔ کثرت طعام ذیابیطس جیسے مہلک مرض کا باعث بھی بنتی ہے۔ جس کی اصل وجہ لبلبے کے ہارون یعنی اندرونی رطوبت انسولین کی کمی ہے۔ زیادہ خوراک کھانے کی وجہ سے لبلبے کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور بارہا ایسا ہونے سے لبلبے کے خلئے تھک جاتے ہیں اور کام چھوڑ دیتے ہیں۔ انسولین کی کمی کا ایک بڑا سبب بسیار خوری بھی ہے۔ ذیابیطس ام الامراض ہے جس کی موجودگی میں بڑے امراض بلڈ پریشر‘ فالج اور امراض قلب کے حملہ آور ہونے کا تناسب بڑھ جاتا ہے تو کم کھانے کی عادت بنایئے اور تندرست رہئے۔ اس عادت کی وجہ سے انشاء اﷲ ٹانگوں اور بدن کے مختلف حصوں کے درد‘ قبض‘ سینے کی جلن‘ منہ کے چھالے‘ باربار ہونے والے نزلے‘ کھانسی اور گلے کے درد اور مسوڑھوں میں خون آنا وغیرہ بہت سارے امراض کے ساتھ ساتھ منہ کی بدبو سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ بھوک سے کم کھانے میں 80 فیصد امراض سے بچت ہوسکتی ہے۔ ڈٹ کر کھانا سنت نہیں‘ زیادہ کھانے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اس طرح سمجھایئے کہ صرف زبان کی نوک سے جڑ تک لذت رہتی ہے۔ حلق میں پہنچتے ہی لذت ختم ہوجاتی ہے تو لمحہ بھر کے ذائقے کی خاطر سنت کا ثواب چھوڑنا دانشمندی نہیں۔ نیز زیادہ کھانے سے طبیعت بوجھل ہوجاتی۔ عبادت میں سستی آتی‘ معدہ خراب ہوتا اور بعض کو موٹاپا آتا ہے‘ قبض‘ گیس‘ شوگر گردہ‘ دل وغیرہ کی بیماریوں کا امکان بڑھتا ہے۔ ہر وقت کھاتے پیتے رہنے سے معدہ خراب اور ہاضمہ تباہ ہوجاتا ہے۔ کھانے کے بعد ڈیڑھ‘ دو گھنٹے تک نہ سویئے‘ گوشت کم اور سبزی اور پھلوں کا استعمال زیادہ کیجئے۔ حتی الامکان روزانہ ایک گھنٹہ ورنہ کم از کم آدھا گھنٹہ پیدل چلئے۔ رات کا کھانا کھا کر کم از کم 150 قدم چلئے۔ بدہضمی کی وہ بیماریاں جو کسی دواء کو جواب نہیں دیتیں انشاء اﷲ درست ہوجائیں گی۔ 80 فیصد امراض سے تحفظ حاصل ہوگا۔ جن میں ہارٹ اٹیک‘ فالج اور لقوہ‘ دماغی امراض‘ ہاتھ پائوں کا درد‘ زبان اور گلے کی بیماریاں اور پھیپھڑے کے امراض‘ جگر اور پتے کے امراض وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اچھی صحت کا راز خوش رہنا اپنے آپ سے پیار کرنا‘ یاد رکھئے ٹینشن‘ ڈپریشن‘ مسائل کا حل نہیں‘ تندرستی کا ایک اور راز صفائی بھی ہے۔ لہذا اپنے جسم‘ لباس‘ دانتوں کو صاف رکھئے۔ روزانہ غسل کیجئے۔ صبح اٹھ کر ورزش کرنا‘ تازہ ہوا میں سانس لینا صحت کے لئے بہت مفید ہے۔ روزانہ کم از کم دس سے بارہ گلاس پانی پینے کا معمول بنا لیجئے۔ اس کے ساتھ اپنی نیند کو پورا کیجئے۔ اپنی صحت کا خاص خیال رکھئے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔