قارئین کرام ! گزشتہ قسط میں آپ نے تفصیل کے ساتھ ’’تقیہ بازی‘‘ کی معلومات حاصل کیں۔ اب آیئے تقوی‘ تقیہ اور تبرا پر تفصیلی مضمون ملاحظہ کیجئے۔

چنانچہ علامہ بدر القادری مدظلہ العالی یوں رقم طراز ہیں

تقوی‘ تقیہ اور تبراء

ہزار جان غلاماں فدائے نام علی

علی امام سن است و منم غلام علی

حضرت داتا گنج بخش‘ ابو الحسن سید علی بن عثمان ہجویری علیہ الرحمہ کشف المحجوب میں صوفیا اسلام کے امام و مقتدا حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہ کا ذکر فرماتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔

اور انہی (اہل اﷲ) میں برادر مصطفے‘ غریق بجربلا‘ حریق نار ولا‘ مقتدائے اولیاء واصفیاء ‘ ابوالحسن علی بن ابی طالب شیر خدا کرم اﷲ وجہ ہیں۔ ان کی شان جادۂ طریقت میں بڑی ارفع و اعلیٰ اور بیان حقیقت میں ان کی باریک بینی بہت بلند ہے۔ آپ کا اصول حقائق میں خاص حصہ تھا۔ حتی کہ جنید بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ ان کی شان میں فرماتے ہیں۔

شیخنا فی الاوصول والبلاء علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یعنی اصول عشق و محبت اور راضی برضائے الٰہی کے ماہر ‘ ہمارے شیخ و امام حضرت علی مرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم ہیں۔ گویا صاف فرما رہے ہیں کہ علم معاملات طریقت میں ہمارے امام حضرت علی کرم اﷲ وجہ ہیں۔ اور اصول اصطلاح صوفیہ میں‘ علم تصوف طریقت کو کہتے ہیں اور طریقت میں عمل جو خاص ہے وہ بلائوں کا برداشت کرنا ہے۔

روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض پیرا ہوا کہ یا امیر المومنین مجھے ہدایت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا۔ اپنی مشغولیت کو بیوی بچوں کو اہمیت کے ساتھ نہ لگانا‘ اس لئے کہ اگر وہ اولیاء اﷲ سے ہوئے تو اﷲ تعالیٰ اپنے دوستوں کو خراب اور ضائع نہیں کرتا اور اگر دشمن خدا ہوئے تو دشمنان خدا کے لئے غم خواری و ہمدردی کیوں؟

یہ مسئلہ انقطلاع ماسوی اﷲ سے متعلق ہے۔ اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے رکھتا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی دختر نیک اختر کو سخت حالت میں چھوڑ دیا اور سپرد خدا کردیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ کو اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ لے جاکر ایسے ویرانے میں چھوڑا جہاں کوئی زراعت بھی نہیں تھی۔ بداد غیر ذی زرع

جس کی شان میں ارشاد باری ہے اور خدا کے سپرد کردیا اور ان میں اپنے کو مشغول نہ کیا اور اپنا دل اپنے رب حقیقی کی جانب رجوع کرلیا۔ حتی کہ ان دونوں کی مراد دوجہاں میں پوری ہوئی۔ باوجود اس کے کہ بظاہر انہیں نامرادی کی حالت میں چھوڑا گیا تھا۔ مگر وہ اپنے سب کام اپنے رب عزوجل کے سپرد کئے ہوئے تھے۔

اسی قسم کی بات وہ ہے جو حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے ایک پوچھنے والے کو فرمائی۔ جب کہ آپ سے اس نے سوال کیا کہ پاکیزہ ترین عمل کیا ہے۔ فرمایا غنا القلب باﷲ۔ اﷲ تعالیٰ کے تقرب کے ساتھ دل کا ہر شے سے مستغنی ہوجانا۔ حتی کہ دنیا کے نہ ہونے سے فقیر نہ ہو۔ اور مال کی کثرت سے مسرور نہ ہو۔ اس قول کی حقیقت اسی فقر و صفوت کی طرف جاتی ہے جس کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔

تو اہل طریقت حضرت شیر خدا کرم اﷲ وجہ کی پیروی حقائق عبارات و دقائق ارشادات میں کرتے ہیں اور تجرید علوم دنیا و آخرت سے حاصل کرنے اور نظارۂ تقدیر حق میں رہنا بھی انہی کی اطاعت کے ماتحت ہے اور لطائف کلام میں آپ کے مضامین اس قدر ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہوسکتی (کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش ابو الحسن سید علی ہجویری علیہ الرحمہ مطبوعہ لاہور)

جو عرفان و حقائق کا گنج گرانمایہ تقسیم فرمانے والا ہو‘ مدینہ علم نبوی کا باب عالی ہو‘ صداقت و حقانیت کے انوار جس کے ارشادات و کنایات سے پھوٹتے ہوں۔ اس کی ذات عالی پر یہ کتنی عظیم تہمت ہے کہ انہوں نے حق کو چھپا کر سالہا سال خلفاء ثٰلثہ (رضی اﷲ عنہم) کا ساتھ دیا۔ یہ نہ کسی محب علی کا خیال ہوسکتا ہے اور نہ کسی غلام مرتضیٰ کا عقیدہ‘ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خلفائے ثٰلثہ کی خلافت کو خود حق سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنے پیشروئوں کی بیعت کی اور ان کے مشیرو معاون بن کر رہے۔ تا آنکہ خود ان کی خلافت کا زمانہ آگیا۔

ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند

روبہ از حیلہ چساں بگلد ایں سلسلہ را

امام تقویٰ اور تقیہ

امام متقیاں حضرت علی مرتضیٰ کرم اﷲ وجہ‘ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا اور اہل بیت کے استحقاق کی پامالی کا بہانہ تراش کر اہل تشیع‘ بعد انبیاء روئے زمین کی مقدس ہستیوں کو نشانہ طعن بنائے اور اپنا ایمان خراب کرتے ہیں۔ میں ان کے سامنے خود فرمان مرتضوی سے ثبوت لاتا ہوں کہ آنحضورﷺ اور ان کی باخدا ذریت کو ان باتوں کو خواب و خیال بھی نہیں تھا۔ اہل تشیع جن کے مدعی ہیں۔

زہد کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔

الزہد کلہ بین کلمتین من القرآن قال اﷲ سبحانہ لکی لاتا سوا علی مافاتکم و لاتفرحوا بما اتاکم و من لم یاس علی الماضی ولا یفرح بالا تی فقد اخذ بالزہد بطرفیہ (نہج البلاغہ)

مکمل زہد قرآن کے دو کلموں میں جمع ہے۔ ارشاد رب العالمین ہے جو چیز تمہارے ہاتھوں سے جاتی رہے اس پر افسوس نہ کرو۔ اور جو چیز اﷲ تمہیں دے اس پر اترائو نہیں جو شخص جانے والی شے پر افسوس نہیں کرتا اور آنے والی پر نہیں اتراتا اس نے اس پر جہت سے زہد کو پالیا‘‘

ہم تم سب اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا علی مرتضیٰ‘ سیدنا فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا متقی مردوں اور متقی عورتوں کے سردار اور زہدوورع کی علامت ہیں اور زہد و ورع ابتلا و مصائب سے عبارت ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر کشف المحجوب کے اقتباس میں حضرت مولائے کائنات رضی اﷲ علیہ کا فرمان گزرا۔

اور کیا کوئی ذی شعور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ خود تو حضرت مولائے کائنات رضی اﷲ عنہ تعلیم تقویٰ میں یہ فرمائیں۔

٭ جہاد تقویٰ کا لباس ہے اور خدا کو مضبوط زرہ اور محکم ڈھال ہے (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۷)

اور باوجود اس کے کہ وہ اسد اﷲ الغالب ہیں۔ انہوں نے اپنے حق خلافت کو جانتے بوجھتے اس کے لئے جہاد نہیں کیا۔ نیز تقویٰ کے باب میں جنہوں نے ارشاد فرمایا۔

٭ جس نے اپنے دل کو تقویٰ شعار بنالیا۔ وہ بھلائیوں میں سبقت لے گیا اور اس کا عمل بار آور ہوا۔ لہذا تقویٰ کو اپنانے کے لئے فرصت کو غنیمت سمجھو اور حصول بہشت کے لئے نیک اعمال کرو

(نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۳۰)

٭ تقویٰ کو اپنائو‘ جو مضبوط رسی‘ محکم دستگیر‘ مضبوط قلعہ اور پناہ گاہ ہے (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۹۰)

٭ اے بندگان خدا جان لو کہ تقویٰ مضبوط قلعہ ہے۔ جبکہ برائی اور گناہ کمزور ‘ بوسیدہ اور متزلزل گھر ہے (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۵۷)

٭ تقویٰٰ (آج (دنیا) کے لئے ڈھال اور حفاظت ہے اور کل (آخرت کے لئے) جنت کا راستہ ہے (نہج البلاغہ‘ خطبہ نمبر ۵)

٭ زہد و تقویٰ سے مضبوط تر کوئی قلعہ نہیں (نہج البلاغہ‘ کلمات قصار نمبر ۳۷۱)

ایسے معلم زہد و تقویٰ سے یہ امید کہ انہوں نے اپنی عمر شریف میں ایک لمحہ کے لئے بھی خلاف حق سن کر خاموش اختیار کی ہوگی یا دل میں کچھ اور رکھ کر زبان سے کچھ اور کہتے رہے ہوں گے۔ آیا ایسا کہنا ان کی مدح و ستائش ہے یا توہین و تذلیل (جس کے مرتکب کو ان کا رب کبھی معاف نہ کرے) کیونکہ ان کے خالق و مالک نے انہیں دارین میں عزتوں اور کرامتوں سے مالا مال کیا ہے۔

اے دعویداران تولا! وہ مقدس حضرات تو تقویٰ کے بلند مینار ہیں۔ ان کو تقیہ جیسے قبیح غیر شریفانہ اور منافقانہ عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس لئے کہ تم خود غور کرو تو تقویٰ اور تقیہ میں نور وظلمت جیسی نسبت ہے۔ جو اہل تقویٰ ہیں ان سے تقیہ منسوب کرنا بھی بدترین جرم ہے۔ جس طرح مشرق و مغرب کے دونوں کنارے نہیں مل سکتے اسی طرح تقویٰ کی ردائے مقدس پر تقیہ کا داغ نہیں لگ سکتا۔

صفائے قلب ہے جن کے قدم کی مٹی میں

عیوب اہل ہوا ان کو چھو نہیں سکتے

جن کے عقد میں علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے اپنی شہزادی دی

سیدنا اسد اﷲ الغالب کی یہ شان کہ حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے عقد میں اپنی اس شہزادی کو دے رہے ہیں‘ جو نور نگاہ فاطمہ زہرا ہیں۔ (رضی اﷲ عنہما) مگر اہل تشیع ہیں کہ ان کی بدگوئی سے زبان کو آلودہ کرنا ہی اپنی عبادت سمجھتے ہیں۔ مسلمانان اہل سنت کی کتابوں میں تو یہ بات موجود ہی ہے۔ شیعوں کی کتابیں بھی اس کا ثبوت دیتی ہیں۔

محسن الملک جناب مہدی علی خان منیر جنگ جو بادہم کے شیعی خاندان سے مجتہد وقت تھے اور بعد میں شیعیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے تھے۔ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔

’’روایت نکاح ام کلثوم شیعہ کی کتب احادیث‘ اخبار‘ فقہ اور کلام میں اس کثرت سے مذکور ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہوسکتا اور ایسی متواتر خبر کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ تاحیات حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ام کلثوم رضی اﷲ عنہا ان کے نکاح میں رہیں۔ ان سے زید بن عمر خطاب ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اور حضرت عمر کی وفات کے بعد حضرت ام کلثوم کا دوسرا نکاح محمد بن جعفر طیار سے ہوا (آیات بینات‘ محسن الملک نواب مہدی علی خان منیر جنگ ص ۱۹۳)

اس کتاب میں محسن الملک نے نکاح ام کلثوم کے سلسلہ میں شیعوں کی کتب کافی‘شافی‘ تہذیب‘ نزہتہ‘ شرائع‘ مسالک‘ مواعظ حسینہ‘ مجالس المومنین‘ ازالۃ الغین اور مصائب النواصب کے حوالے قلمبند کئے ہیں۔

فروع کافی میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا گیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو وہ عدت کے ایام خاوند کے گھر پر گزارے یا جہاں مناسب خیال کرے وہاں؟ تو انہوں نے جوابا فرمایا

تعتد فی بیتھا او حیث شاء ت ان علیا صلوات اﷲ علیہ لما توفی عمر اتیٰ ام کلثوم فانطلق بہا الی بیتہ (فروع کافی ج ۲ ص ۲۱۱)

اپنے گھر میں جہاں چاہے عدت گزارے‘ جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی وفات ہوگئی تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی شہزادی ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے تھے۔

دور پہلوی کی ایرانی سلطنت میں مجلس شوریٰ کے ایک وزیر تھے۔ ان کا نام مرزا عباس قلی خان تھا۔ انہوں نے شاہ ایران مظفر الدین قاچار کی سرپرستی میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام طراز المذہب مظفری ہے۔ اس کتاب کی جلد اول ص ۴۷ سے ص ۶۷ تک نہایت تحقیق کے ساتھ شیعوں کی ان معتبر روایات اور علمائے شیعہ کے مندرجات جمع کئے گئے ہیں کہ حضرت علی شیر خدا کی شہزادی ام کلثوم حضرت عمر فاروق کے نکاح میں تھیں (رضی اﷲ عنہم)

زمین میں غرق کیوں نہیں ہوجاتا

دنیائے شیعیت کے لئے سیدہ ام کلثوم کا حضرت عمر فاروق کے نکاح میں دیا جانا اتنے قلق ‘ دکھ‘ درد اور تکلیف و آزار کی بات ہے کہ تفسیر لکھنے والے محدثین نقل کرنے والے ‘ شارحین حدیث شیعہ‘ مجتہدین و محققین و منقشفین میں سے شاید کوئی ایسا ہوگا جس نے اس عنوان پر پہنچ کر حضرت علی کرم اﷲ وجہ الکریم کی ذات کو اپنے سب وشتم کا نشانہ نہ بنایا ہوگا۔ ایسی ایسی بکواس‘ ایسی ایسی بدگوئیاں اور گندے الفاظ ان دعویداران تولانے سیدنا علی مرتضیٰ  رضی اﷲ عنہ کی شان میں بکے ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان کا خون کھول جائے۔

آیئے میں ماضی قریب کے عالم ربانی شیخ الاسلام علامہ محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ کے تاثرات چند جملوں میں نقل کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں۔

’’اس نکاح کا ثبوت اہل تشیع کی تقریبا ہر کتاب میں موجود ہے مگر جن الفاظ کے ساتھ اہل بیت کی عقیدت کا دم بھرنے والوں نے اس نکاح کا اقرار کیا ہے مجھے اﷲ تعالیٰ کی قسم ہے کوئی ذلیل سے ذلیل انسان بھی اپنے متعلق ان الفاظوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ جن الفاظ کو اہل بیت نبیﷺ کے متعلق ان مدعیان تولا نے استعمال کیا ہے۔ کوئی شخص ان الفاظ کو دیکھ کر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے الفاظ بدترین دشمن ہی منہ سے نکال سکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اﷲ کے مقبولوں کے متعلق یہ الفاظ استعمال کرنے والا زمین میں غرق کیوں نہیں ہوجاتا لہذا میں یہ جرأت نہیں کرتا اور اپنی آخرت تباہ نہیں کرتا کہ وہ الفاظ لکھوں… شان حیدری میں کس قدر بکواس اور سب وشتم شیعان علی نے کئے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا بدبخت خارجی بھی ان کے حق میں اس قسم کے کلمات لکھنے کی جرات نہیں کرے گا۔ حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے حق میں یہ بکواس صرف اس لئے کی گئی کہ آپ نے سیدنا امیر المومنین عمر رضی اﷲ عنہ کو رشتہ کیوں دیا ہے اور بس (مذہب شیعہ‘ شیخ الاسلام علامہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ)

شیعوں کے یہ مغلظ کلمات اگر کوئی شخص دیکھنا چاہے تو اسے چاہئے کہ ذیل میں مذکور کتابوں کے متعلقہ صفحات دیکھے۔

(فروع کافی جلد ۱‘ مطبوعہ لکھنو ص ۱۴۱‘ ناسخ التواریخ جلد ۲‘ ص ۳۶۳‘ ۳۶۴‘)

یہ کیسا تبرا ہے؟

دین و دیانت سربگریباں ہیں اور تولا کی یہ کون سی قسم ہے کہ ان کے عمل و کردار کے سانچے میں اپنی زندگیوں کو سنوارنے اور درست کرنے کے بجائے ان کے مزعومہ  مخالف سے (جو درحقیقت اﷲ اوراس کے رسول و اہل بیت کا پیارا ہے) حضرت اسد اﷲ الغالب نے اپنی صاحبزادی کا رشتہ کردیا تو خود ان کی ذات شیعوں کی بدکلامی کا نشانہ بن گئی۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود کو اقوال نبی و علی اور ائمہ پر استوار نہیں کیا ہے۔ بلکہ اپنے خود ساختہ سانچہ میں ان مقدس ہستیوں کو فٹ کرتے رہے ہیں۔ جسے اور چاہے جو نام دیا جاسکے‘ مگر اسلام ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ تبراء کے نام پر خلفائے ثلاثہ‘ مقدس امہات المومنین اور صحابہ کو سب و شتم کرنا تو ان کے دین کا شعار ہی ٹھہرا‘ اور جو زبانیں بد گوئی اور گالی گلوچ کی عادی ہو ہی چکیں تو کیا فرق کہ جنہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں ان پر زبان کھل رہی ہے یا جن کے تولانے ادعاء میں دین و ایمان کا سرمایہ لٹا بیٹھے انہیں مطعون کررہے ہیں (العیاذ باﷲ)

تبراء شیعیت کا جزو ہے

پروفیسر رضیہ جعفری تبراء کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’اﷲ کی وحدانیت اور رسول اﷲ کی رسالت اور ائمہ معصومین کی امامت کا اقرار اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک ان کے دشمنوں سے بیزاری اور نفرت نہ ہو… منافقین اور منکرین اہل بیت سے بیزاری ضروری ہے‘ ظالم لوگ ملعون ہیں۔ ان سے بیزاری و نفرت واجب ہے (فرق اسلام‘ پروفیسر رضیہ جعفری‘ شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ص ۳۱)

تحفتہ العوام میں بنیادی عقائد کے بیان ہے۔

’’اہل بیت اور ان کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں اور دشمنوں کے دوستوں سے بیزاری ضروری ہے‘‘ (تحفتہ العوام‘ ص ۲۲)

’’وفاق علمائے شیعہ‘‘ کے اعلامیہ میں صاف صاف لکھا ہے کہ ان کے دین کی اصولی چیزوں میں تبرا بھی ہے جسے اشتہار میں دسواں نمبر حاصل ہے۔ لکھا ہے۔

’’تبرا اہل بیت کے دشمنوں سے دشمنی اور ان کے دشمنوں کے جو دوست ہیں‘ ان سے بھی دشمنی رکھنا‘ تبرا شیعہ مذہب اور فقہ جعفریہ کا اہم ترین جزو ہے‘ یعنی غیر شیعوں سے نفرت کرنا‘ خواہ وہ کوئی بھی ہو‘ چاہے صحابی تک بھی…

محب خلفائے راشدین مسلمانان اہل سنت ہی ہیں‘ لہذا ان کے لئے صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ

’’ہم تمام بریلوی‘ دیوبندی اور اہل حدیث کو قادیانیوں کے برابر نجس‘ اور پلید سمجھتے ہیں۔ یہ سب نجس اور پلید ہیں جبکہ شیعہ ہمیشہ پاک ہوتا ہے (وفاق علمائے شیعہ‘ کا اشتہار مجریہ ۲۶ ستمبر ۱۹۸۵ئ)

ہم اہل تشیع کے تبرا کو اس سے زیادہ کس طرح واضح کرسکتے ہیں۔ اہل فکر و دانش غور فرمائیں گے تو ان کے بارے میں راقم الحروف کے لکھے ہوئے مضامین ہی باذن اﷲ ہدایت کا دروازہ کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ ان کی اہانت سے لبریز عبارتیں نوک قلم پر لاتے ہوئے کلیجہ تھر تھر کانپتا ہے۔ مگر خدا شاہد ہے کہ غلاظت کے اس ڈھیر کو کریدنا محض اپنے مسلمان بھائیوں کی واقفیت اور شیعیت رسم و رواج کا فرق سمجھنے والوں کی ہدایت کے لئے ہے۔ تبراء کا ایک بدترین نمونہ دیکھئے۔ معتبر شیعی مصنف باقر مجلسی کی کتاب ’’رسالہ رجعیہ‘‘ میں امام صاحب الزمان کی طرف منسوب ایک قول‘ توہین صحابہ کے لئے نقل کیا ہے۔

’’صحابہ کبار نے یہود کے بتلانے کے مطابق دو اسلامی کلمے زبان سے پڑھ لئے تھے۔ اس امید میں کہ شاید رسول اﷲﷺ انہیں حکومت سپرد کردیں۔ دلی طور پر یہ کافر ہی تھے (معاذ اﷲ ‘ استغفر اﷲ) (آیات بینات  ص ۸۵۔۸۶)

مذہب شیعہ میں اپنے مخالف کو گالی بکنا‘ اس پر بہتان طرازی کرنا‘ باعث ثواب‘ بلندی درجات کا ذریعہ اور سبب ہے۔ ان کی اہم الکتب میں ہے۔

اذا رائتم اہل الریب والبدع من بعدی فاظہرو البراء ۃ منھم واکثروا من سبھم والقول فیہم والوقیعۃ و باہتوہم کیلا یطمعوا فی الفساد فی الاسلام ویحذرہم الناس ولایتعلمون من بدعھم یکتب اﷲ لکم بذلک الحسنات ویرفع لکم بہ الدرجات فی الاخرۃ (اصول کافی‘ مطبوعہ لکھنو ص ۵۵۴)

’’میرے بعد جب تم شک اور بدعت والوں کودیکھو تو ان سے بیزاری ظاہر کرو‘ اور انہیں خوب گالیاں دو‘ برا کہو‘ بے عزتی کرو‘ ان پر بہتان باندھو‘ تاکہ وہ اسلام میں طمع فساد نہ کریں۔ لوگ ان سے بچیں اور ان کی بدعت کو نہ سیکھیں۔ اﷲ تعالیٰ تمہارے ان کاموں کے بدلے نیکیاں لکھے گا۔ اور آخرت میں تمہارے درجے بلند کرے گا‘‘

امام جعفر صادق کی طرف منسوب ہے کہ انہوں نے یہ کہا

ان الناس کلھم اولاد بغایا ما خلا شیعتنا (فروع کافی‘ کتاب الروضہ ص ۱۲۵)

ہمارے شیعوں کے سوا جتنے لوگ ہیں سب کنجریوں کی اولاد ہیں

ان لوگوں کے نزدیک ان کے مخالفین پر لعنت و نفریں بھیجنا ایک قسم کی عبادت ہے اور یہ اتنی اہم عبادت ہے کہ جناب خمینی صاحب نے اپنے وصیت نامہ میں ایرانی قوم کو اس کی بھی خاص ہدایت کی ہے۔ لعن ونفرین میں کوئی کسر نہ رکھی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کی گھٹیا ‘ رزیل حرکتیں بھی کیا کسی مذہب کا حصہ ہوسکتی ہیں اور کیا ائمہ کی جانب ایسی باتوں کو منسوب کرنے والوں کی حقیقت اہل تولا نے اب نہ سمجھی؟

سیدنا علی مرتضیٰ اور اہل بیت رضی اﷲ عنہم کی حق تلفی کے غم میں نڈھال ہونے والوں سے عقل و دیانت بار بار یہ سوال کرتی ہے۔

٭ اصحاب ثلثہ‘ امیر معاویہ اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہم اور دیگر مقدس صحابہ نیز مسلمانوںکو منہ بھر بھر کر گالیاں دینے سے کیا حضرت علی اور اہل بیت رضی اﷲ عنہم کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے یا تبرائیوں کا کچھ بھلا ہوتا ہے؟

٭ موت کے بعد ہر ظالم و مظلوم احکم الحاکمین کے قانون مکافات کے گہوارہ میں خود بخود پہنچ جاتا ہے۔ بفرض محال اگر ان حضرات میں سے کسی نے کچھ زیادتی کی ہوگی تو رب العالمین خود سب سے زیادہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اگر اس پر یقین ہے تو پر آپ کے واویلا مچانے سے کیا فائدہ؟

٭ حب علی کے دعویداروں کو کیا خبر نہیں کہ حضرت اسد اﷲ الغالب نے جان کے دشمن کو بھی کبھی گالی نہیں دی اور اپنی ذاتی رنجش کی بنیاد پر کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا۔ بلکہ اپنے ماننے والوں کو اس بات سے منع فرمایا۔ انہی کا ارشاد ہے۔

’’میں تمہارے لئے اس بات کو برا خیال کرتا ہوں کہ تم گالی دینے والے بنو‘‘ (نہج البلاغہ ص ۴۴۶)

پھر صدیوں سے شیعوں نے پاکان امت کو گالی دینے کا جو سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یہ کس دین و شریعت اور شرافت و انسانیت کا حصہ ہے۔ ہم انہیں سیدنا علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ  کے خطبات ہی پر غور و تامل کی دعوت دیں گے۔

’’اے بندہ خدا! کسی گناہ کے سبب کسی کی عیب جوئی نہ کر‘ شاید وہ بخش دیا گیا ہو اور تو اپنے نفس کے صغیرہ گناہ پر بھی بے خوف نہ رہ کہ کیا عجب اسی سبب سے عذاب دیا جائے۔ تم میں سے اگر کوئی کسی کے عیب پر مطلع ہو تو بہتر یہ ہے کہ اپنے  عیوب پر نظر کرکے اس کی عیب جوئی سے باز رہے (نہج البلاغہ ص ۳۷۷)

نیز فرمایا ’’تقویٰ اختیار کر اس شخص کی طرح کہ جب سنتا ہے تو فورا اپنی ذمہ داری کا احساس کرتا ہے۔ اور جب کوتاہی کرتا ہے تو فورا اپنی غلطی مان لیتا ہے اور جب خدا سے ڈرتا ہے تو اطاعت بجا لاتا ہے اور جب یقین حاصل کرتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب اسے درس دیا جاتا ہے تو عبرت حاصل کرتا ہے اور جب نافرمانی سے روکا جاتا ہے تو رک جاتا ہے۔ اﷲ کی دعوت کو سن کر اس کی جانب پلٹتا ہے تو توبہ کرکے پلٹتا ہے۔ جب اولیاء اﷲ کی پیروی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے قدم بڑھاتا ہے۔ جب اسے دکھایا جاتا ہے تو طلب حق کے لئے سرگرم عمل ہوجاتا ہے اور نافرمانی اور گناہ سے دوری اختیار کرتا ہے۔ دنیا میں رہ کر آخرت کا ذخیرہ کرتا ہے۔ اپنے نفس کو پاک اورآخرت کو آباد کرتا ہے۔ سفر آخرت کے لئے زادراہ فراہم کرتا ہے اور جانے سے پہلے اسے اپنی ابدی اقامت گاہ کی طرف بھیج دیا جاتا ہے (نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۱ ص ۸۳)

معیار صداقت

اﷲ کے نیک اور صالح بندے جو یقینا مومنین کاملین ہی ہیں‘ وہ بصارت ظاہری کے ساتھ ساتھ بصیرت باطنی سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔ آنکھ موند کر ہر خوش کن شے کو قبول کرلینا مسلمان کا شیوہ نہیں۔ بلکہ ہر بات کو ایمان و اسلام کے معیار پر پرکھنا‘ پھر قبول کرنا بندگان حق کا خاصہ ہے۔ ارشاد رب العالمین ہے۔

والذین اذا ذکرو بایٰت ربھم لم یخروا علیہا صما وعمیانا

(سورہ الفرقان آیت ۷۳)

(اور رحمن کے وہ بندے) کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر………

شیعیت نہ اسلام ہے اور نہ اسلام شیعیت‘ بلکہ شیعیت اپنے چند مہلک عقائد و خیالات کی بناء پر اسلام کو فنا کرنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی ایک سازش ہے۔ ائمہ کرام اور اکابرین امت کے نام کا لیبل لگا کر لادینیت اور زندقہ کی ایک لمبی سیریز ہے جو قدم قدم پر قرآن اور فرامین رسول انام سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ اس لئے اس دور پر فتن میں مسلمانوں کو تمام گمراہ فرقوں کی طرح رفض اورشیعیت کے دام ہمزنگ زمین سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم تمام مسلمانان اہل سنت تو انبیاء کی عصمت صحابہ کی عدالت اور اولیاء اﷲ کی محفوظیت کے قائل ہیں۔ ہمارے دین میں صلحاء اور محبوبان حق سے سوء ظن کا تصور بھی نہیں پایا جاتا۔

نہایت ایمان افروز بات فرمائی سیدی امام احمد رضا قادری قدست اسرارہم نے جو اہل محبت کے حرز جان بنانے کے قابل ہے۔

محبوبان خدا اولا تو گناہ کرتے ہی نہیں ان المحب لمن یحب یطیع ہذا ما اختارہ سیدنا الوالد رضی اﷲ تعالیٰ اور احیانا کوئی تقصیر واقع ہو تو واعظ وز اجر الٰہی انہیں متنبہ کرتا اور توفیق انابت دیتا ہے پھر التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ‘ اس حدیث کا ٹکڑا ہے وہذا ما مشی علیہ المناوی فی التیسیر اور بالفرض ارادہ الٰہیہ دوسرے طور پر تجلی شان عفو و مغفرت و اظہار مکان و محبوبیت پر نافذ ہو تو عفو مطلق و ارضائے اہل حق سامنے موجود ‘ ضرر ذنب بحمد اﷲ تعالیٰ ہر طرح مفقود ‘ والحمد ﷲ الکریم الودود‘ وہذا ما ذرتہ بفضل المحمود (العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ج ۱ جزء اول ص ۵۲ مطبوعہ رام پور)

اور یہ جسارت بھی ان پاکان امت کے حق میں جو رفقائے نبی اور طیب امراض قلبی ہیں۔ حاشا وکلاء

روض الریا حین میں امام ابو محمد عبداﷲ بن اسد یمنی یافعی نقل فرماتے ہیں۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہ ایک کوچہ سے گزر فرما رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک مقام پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔ لوگ گردنیں بلند کر کرکے کسی کو دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ نے خیال کیا کہ آخر ایسا کون شخص ہے۔ آپ بھی وہاں گئے۔ جاکر کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان شخص عزت و وقار سے کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اور لوگ اس کو نبض دکھا رہے ہیں۔ کچھ لوگ قارورے کی شیشیاں لئے کھڑے ہیں۔ وہ لوگوں کے امراض کی تشخیص کرتا جاتا ہے اور نسخے تجویز کرتا جاتا ہے۔ حضرت مولائے کائنات رضی اﷲ عنہ نے قریب جاکر اس سے دریافت کیا‘ کیا آپ کے پاس جرم و عصیاں کے مرض کا بھی کوئی نسخہ ہے؟ طیب نے سن کر سر جھکالیا۔ اور کچھ دیر اسی طرح رہا۔ آپ نے دوبارہ وہی سوال دہراہا۔ جواب نہ ملا‘ جب آپ نے اپنا سوال سہ بار دہرایا تو نوجوان نے سر اٹھایا اور گویا ہوا۔ جناب والا! اس مرض کے علاج کے لئے پہلے بوستان ایمان میں جائیں اور وہاں سے یہ مفردات اکھٹا کریں۔ بیخ نیت‘ حب ندامت‘ برگ تدبیر‘ تخم درغ‘ ثمر فقہ‘ شاخ یقین‘ مغز اخلاص‘ قشر اجتہاد‘ بیخ توکل‘ اکمال اعتبار‘ تریاق تواضع‘ خضوع قلب اور فہم کامل۔ ان تمام کوکف توفیق اور انگشتان تصدیق سے پکڑیں پھر طبق تحقیق میں رکھ کر اشکہائے ندامت سے دھوئیں۔ اس کے بعد امید ورجا کی دیگ میں رکھیں اور اس قدر آتش شوق کی آنچ دیں کہ کف حکمت ابُل کر اوپر آجائے پھر اسے رضا کے پیالے میں انڈیل کر استغفار کے پنکھے سے ٹھنڈا کریں۔ اس طرح ایک لاجواب شربت تیار ہوجائے گا۔ اس شربت کو ایسی جگہ بیٹھ کر استعمال کریں جہاں اﷲ کے سوا کوئی نہ دیکھے۔ انشاء اﷲ مرض عصیاں دفع ہوجائے گا۔ نوجوان طیب نے اتنا کہا اور ایک نعرہ مستانہ دل کی گہرائیوں سے مار کر جاں بحق ہوگیا۔ مولائے کائنات رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ واقعی تو جسم و روح دونوں کا طبیب تھا۔

سوال یہ ہے کہ جس دور مبارک میں عام مسلمانوں کے خلوص ایمان کا یہ حال ہو‘ اس دور کے اکابر امت مسلمہ کے علوئے شان کا کیا حال رہا ہوگا۔ اور ان کی پاکیزہ زندگیوں کو حریصان دنیا کے پیمانے میں فٹ کرنا غداران اسلام کے سوا کس کا کام ہوسکتا ہے؟