کیا امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ بدعات کے نقیب تھے

in Articles, Tahaffuz, February 2010, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, محمد اسماعیل بدایونی

جج: دانشوروں‘ اہل علم‘ اہل عدل اور عقل و فہم کے حامل‘ عصبیت سے پاک‘ اسلام کے مخلص لوگ

وکیل استغاثہ: مخالفین اہل سنت

وکیل صفائی: اہل حق

استغاثہ: مولانا احمد رضا خان بدعات کے نقیب تھے۔ نت نئی رسومات کو ایجاد کیا اور ان کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔

وکیل استغاثہ: عزت مآب جج صاحب! الزامات کی ان گنت فہرست میں سے اگر مولانا احمد رضا خان صاحب کو کسی الزام سے باعزت یا اعزاز کے ساتھ بری بھی کردیا جائے تب بھی ان کے اوپر ایسے الزامات کا پلندہ موجود ہے‘ جس سے وہ کسی طور بری نہ ہوسکیں گے۔

انہی الزامات میں سے ایک بہت بڑا الزام ان پر یہ بھی عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے ملت اسلامیہ میں نت نئے رسم و رواج کو جنم دیا۔

وکیل صفائی: محترم جج صاحب! وکیل استغاثہ ایک کے بعد ایک الزام کو ثابت کریں‘ انشاء اﷲ پچھلے مقدمے کی طرح یہ مقدمہ بھی محض الزامات کا پلندہ ہی ثابت ہوگا۔ وکیل استغاثہ کو بھی ثابت نہ کرسکیں گے۔

جج: کسی ایک نقطے پر بحث کی جائے۔

وکیل استغاثہ: جناب جج صاحب! بغیر تمہید کے عرض کروں گا کہ مولانا احمد رضا نے آج ہمارے یہاں سوئم‘ میت کا کھانا‘ چالیسویں کی دعوت ایک ایسا رجحان پیدا کردیا کہ غریب آدمی کے لئے جینا تو مشکل تھا ہی مرنا بھی مشکل کردیا۔ اور اس قبیح رسم کے بانی و موجد مولانا احمد رضا ہیں۔

وکیل صفائی: جناب جج صاحب! لفظوں کا سہارا لے کر غریبوں کا رونا رو کر‘ روایتی سیاست دانوں کی طرح اور بیوہ عورت کے بین کی مانند وکیل استغاثہ نے محض الزام ہی لگایا‘ ثابت نہ کیا اور ثابت کریں بھی کیسے۔ مولانا نے جس طرح استعمار اور استعمار کے ایجنٹوں کے خلاف جو ایک طویل جنگ لڑی ہے۔ اس سے استعماری ایجنٹ بوکھلائے پھر رہے ہیں اور بغیر شواہد و ثبوت کے استغاثے دائر کرتے پھر رہے ہیں۔ اگر وکیل استغاثہ کے پاس دلیل ہے تو پیش کریں۔

وکیل استغاثہ : (بوکھلائے ہوئے انداز اور ذرا عجلت میں) جج صاحب! وکیل صفائی الزام کا دفاع کریں۔ ضروری نہیں کہ ہر الزام پر ثبوت ہی پیش کئے جائیں۔ اگر ایسا نہیں تو الزام کے خلاف ثابت کر دکھائیں۔

(عدالت میں وکیل استغاثہ کے جواب پر حاضرین کا قہقہ)

جج  (مسکراتے ہوئے وکیل صفائی سے) آپ کچھ کہنا چاہ رہے ہیں۔

وکیل صفائی: جناب جج صاحب! وکیل استغاثہ تو ابھی مقدمے کی باقاعدہ کارروائی سے قبل ہی بوکھلا گئے اور تمام تعلیمی قابلیت و لیاقت اڑن چھو ہوگئی اور وہ یہ بھی بھول گئے کہ الزام لگانے والا ثبوت پیش کرتا ہے نہ کہ ملزم۔ یہ عقل و دانش کی عدالت ہے۔ رومیوں یا یونانیوں کا عدالتی اکھاڑا نہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ لیکن میں اس کے باوجود اس الزام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا (پرجوش انداز میں)

وکیل استغاثہ: (مداخلت کرتے ہوئے) جج صاحب! ثبوت موجود ہے۔

جج: اگر ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔

وکیل استغاثہ: جناب جج صاحب! یہ کتاب (ایک کتاب جج کی طرف بڑھاتے ہوئے) ایک قابل ڈاکٹر خالد محمود کی ہے (ڈاکٹر پر زور) جو مانچسٹر میں اسلامک اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور پی ایچ ڈی Ph.D ہیں (Ph.D پر زور) لکھتے ہیں : ’’مولانا احمد رضا خان بریلوی نے اپنی وفات سے دو گھنٹے سترہ منٹ قبل پرتکلف کھانوں کی ایک فہرست تحریر فرمائی اور وصیت کی کہ اعزہ سے بطیب خاطر ممکن ہو تو فاتحہ ہفتہ میں دو تین بار ان اشیاء سے بھی کچھ بھیج دیا کریں۔ دودھ کا برف خانہ ساز اگر بھینس کا دودھ ہو تو‘ مرغ کی بریانی‘ مرغ پلائو‘ خواہ بکری کا ہو شامی کباب‘ پراٹھے اور بالائی فرنی‘ اردکی پھریری دال بمع ادرک و لوازم‘ گوشت بھری کچوریاں‘ سیب کا پانی‘ انار کا پانی (جوس) سوڈے کی بوتل‘ دودھ کا برف۔ آخری وقت میں نیک لوگ توبہ و استغفار میں مشغول رہتے ہیں۔ ذکر و تلاوت کی فکر ہوتی ہے۔ آخرت کی طرف دھیان ہوتا ہے مگر خان صاحب ہیں کہ اس وقت بھی چٹ پٹے کھانوں کی فہرست تیار فرمانے میں مصروف ہیں‘‘

(مطالعہ بریلویت ص ۲۰۔۲۱)

وکیل استغاثہ: ایک ڈاکٹر کے قلم سے نکلی ہوئی اس تحریر کے بعد کیا وکیل صفائی کو کسی اور ثبوت کی بھی ضرورت ہے۔

وکیل استغاثہ (زیر لب مسکراتے ہوئے) چراغ علم جلائو بڑا اندھیرا ہے۔

وکیل صفائی: جناب جج صاحب! وکیل استغاثہ الزام کچھ لگا رہے ہیں‘ ثبوت کچھ پیش کررہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وکیل استغاثہ ذہنی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

جج صاحب! وکیل استغاثہ نے ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ ایک اور الزام عائد کیا ہے۔ اس سے قبل کہ میں ان کے اس دوسرے الزام پر بحث کروں‘ ان کی پہلی الزام تراشی کی دھجیاں بکھیرنا چاہوں گا۔

جناب جج صاحب! قوم کا درد جس طرح مولانا احمد رضا خان کے سینے میں موجزن تھا وہ تو سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ میت کا کھانا اور سوئم کے کھانے سے متعلق وکیل استغاثہ اور ان کے حواریوں نے اگر اعلیٰ حضرت کی کتب کا مطالعہ ہی کرلیا ہوتا تو انہیں یوں الزام تراشیوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔

جناب جج صاحب! یہ فتاویٰ رضویہ کی جلد چہارم ہے (ص ۱۳۸‘ باب الجنائز) اس میں ایک سائل نے سوال کیا کہ اکثر بلاد ہندیہ میں رسم ہے کہ میت کے روز وفات سے اس کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورات (عورتیں) اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں‘ اس اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے پھر کچھ دوسرے دن‘ اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں‘ بعض چالیسویں تک بیٹھتی ہیں۔ اس مدت اقامت میں عورت کے کھانے پینے‘ پان چھالیہ کا اہتمام اہل میت کرتے ہیںجس کے باعث ایک صرف کثیر کے زیر بار ہوتے ہیں۔ اگر اس وقت ان کے ہاتھ خالی ہوں تو اس ضرورت سے قرض لیتے ہیں۔ یوں نہ ملے تو سودی نکلواتے ہیں۔ اگر نہ کریں تو مطعون و بدنام ہوتے ہیں یہ شرعا جائز ہے کیا؟

جناب جج صاحب! سائل نے سوال کے آخر میں یہ معلوم کیا کہ ’’یہ شرعا جائز ہے کیا؟‘‘

(اکیل استغاثہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے)

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ’’سبحان اﷲ! اے مسلمان‘ یہ پوچھتا ہے جائز ہے کیا؟ یوں پوچھ کہ ناپاک رسم کتنے قبیح اور شدید گناہوں‘ سخت شفیع و خرابیوں پر مشتمل ہے‘‘

جناب جج صاحب! وکیل استغاثہ جس رسم کا موجد مولانا احمد رضا کو ٹھہرا رہے ہیں ‘ مولانا احمد رضا اس رسم سے سخت بیزار ہیں اور ناپسندیدہ فرما رہے ہیں۔

جج صاحب! کیا وکیل استغاثہ‘ وکیل صفائی کے اس بیان اور مولانا احمد رضا پر عائد کردہ الزام پر مزید کچھ کہنا چاہیں گے

وکیل استغاثہ: جی نہیں! مگر خالد محمود صاحب کی عبارت پر وکیل صفائی کیا کہیں گے

وکیل صفائی: خالد محمود کے ڈاکٹر اور Ph.D ہونے پر جو غرہ وکیل استغاثہ کو ہے‘ اتنا شیطان کو اپنے علم پر نہیں ہوگا۔

جناب جج صاحب! (انتہائی پرجوش انداز میں) ڈاکٹر اور Ph.D کی ڈگری پر اتنا غرہ۔ جناب والا! امام احمد رضا ملت اسلامیہ کی وہ عبقری شخصیت ہیں جن پر کئی لوگ Ph.D کرچکے ہیں‘ کئی کررہے ہیں اور کئی لوگ کریں گے۔

جناب والا! خالد محمود صاحب کوئی غیر متنازعہ شخصیت نہیں بلکہ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک متعصب شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے علمی خیانت کا جو طریقہ ایجاد کیا ہے‘ اس پر انہیں شیطان سے داد وتحسین مل چکی ہوگی اور ابلیس انہیں گرو جی کہہ کر پکار اٹھا ہوگا۔

محترم جج صاحب! عصبیت عقل و خرد کے چراغوں کو بجھا دیتی ہے۔ قوت غضبیہ پڑھے لکھے شخص کو بھی جانور سے بدتر کردیتی ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود جو الزام ملت اسلامیہ کی عبقری شخصیت پر عائد کررہے ہیں اس سے خود ان کے اکابر کے دامن اس حد تک داغ دار ہیں کہ اگر وہ اپنے دامن پر ان داغوں کو دیکھ لیتے تو شاید مولانا احمد رضا پر الزامات عائد نہ کرتے۔

وکیل استغاثہ (تھوڑا سا طیش میں) جج صاحب! وکیل صفائی عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور الزامات سے جان چھڑانے کے لئے الزامات عائد کررہے ہیں۔

وکیل صفائی: جناب جج صاحب! عدالت کے سامنے صرف گواہ ہی اہم نہیں ہوتا‘ گواہ کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ وکیل استغاثہ اور ان کے موکل اور گواہ خالد اگر ملت اسلامیہ کی عبقری شخصیت پر الزام عائد کرکے علم و دانش کی مسندوں پر بھنگڑے ڈالنا شروع کردیں اور قلم و قرطاس کی عصمت کو بے آبرو کرکے امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں تو ان میں اتنا حوصلہ بھی ہونا چاہئے کہ اہل دانش‘ اہل حق کی اس عدالت میں اپنے اکابرین کی قبائوں پر لگے ہوئے خونی دھبوں کو بھی ملاحظہ کرسکیں۔

وکیل استغاثہ: چلئے (وکیل صفائی کی جانب دیکھتے ہوئے) اپنی جان چھڑانے کے لئے اور اعتراض کے جواب سے پہلو تہی کرتے ہوئے‘ آپ اس عدالت میں یہ خونی دھبے دکھا دیجئے۔

وکیل صفائی: (وکیل استغاثہ کی جانب دیکھتے ہوئے)

جناب والا! وکیل استغاثہ آئینہ دکھانے سے پہلے ہی برا مان گئے۔ آج اس اہل دانش کی عادلانہ عدالت میں‘ میں وکیل استغاثہ اور ان کے گواہ ڈاکٹر خالد محمود کے اعتراض سے پہلو تہی نہیں کروں گا بلکہ سخت جرح کرتے ہوئے اس اعتراض کی دھجیاں بکھیرنا چاہوں گا۔ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے سیاق و سباق سے ہٹ کر جس طرح امت مسلمہ کی عبقری شخصیت مولانا احمد رضا پر ہرزہ سرائی کی ہے‘ یہ مشق ستم‘ اہل ستم کو بہت بھائی ہوگی مگر اہل علم کے سینوں کو داغ دار کرگئی ہے۔

مولانا احمد رضا خان‘ وصایا شریف نمبر گیارہ میں لکھتے ہیں ’’فاتحہ کے کھانے سے اغنیاء کو کچھ نہ دیا جائے صرف فقراء کو دیں اور وہ بھی اعزاز اور خاطر داری کے ساتھ ‘ نہ جھڑک کر‘ غرض کوئی بات خلاف سنت نہ ہو‘‘

مزید آگے لکھتے ہیں ’’غربا اور مساکین کو عمدہ اور لذیذ چیزیں کب میسر ہوتی ہیں تو وہ اشیاء جو غرباء کو میسر نہیں آتیں ان کے متعلق فرمایا جاتا ہے اعزا سے اگر بطیب خاطر ممکن ہو تو فاتحہ… اشیائ… اگر روزانہ ایک چیز ہوسکے یوں کرو یا جیسے مناسب جانو مگر بطیب خاطر میرے کہنے پر مجبورا نہ…‘‘

وصایا شریف ص ۲۴)

جج صاحب! نمبر گیارہ میں فاتحہ کا ذکر ہے کہ فاتحہ کے کھانے سے اغنیاء کو کچھ نہ دیا جائے اور نمبر ۱۲ میں فاتحہ کی اشیاء کو غربا کو دینے کا ذکر فرمایا‘ وہ بھی بطبیب خاطر۔

جج صاحب! اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرلیجئے‘ ہر دور کا امام‘ ہر زمانے کا مجدد‘ ہر عہد میں مسلمانوں کے اسلاف کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ خلق خدا کو وہ نوازتے رہے۔ جہاں تک ان سے ہوسکا‘ مخلوق خدا کے کام آتے رہے۔ جب یہی کام مولانا احمد رضا نے کیا تو نہ جانے کیوں یہ عمل ڈاکٹر خالد محمود کو برا لگا اور انہوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اس عبقری شخصیت کے اجلے دامن کو داغ دار کرنے کی کوشش کی۔ محترم جج صاحب! وکیل استغاثہ کی شدید خواہش پر میں وہ خونی دھبے بھی دکھا دوں‘ جن سے مولانا احمد رضا کا دامن تو پاک ہے مگر علمائے دیوبند کی قبائیں اس خون میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

ککڑی کی تلاش

مولوی ظہور الحسن صاحب‘ مولوی اشرف علی صاحب کی تصدیق کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں ’’خاں صاحب نے فرمایا کہ مولانا (محمد قاسم) نانوتوی جب مرض وفات میں مبتلا ہوئے تو کہنے لگے کہ کہیں سے ککڑی لائو۔ مولوی محمود الحسن صاحب فرماتے تھے کہ تمام کھیتوں میں پھرا مگر صرف ایک ککڑی چھوٹی سی ملی۔ اس کی خبر کسی ذریعہ سے لکھنو مولوی عبدالحئی صاحب فرنگی محلی کو ہوگئی کہ مولانا نانوتوی کا جی ککڑی کو چاہتا ہے۔ اس پر مولوی عبدالحئی صاحب نے لکھنو سے مولانا(نانوتوی) کی خدمت میں بذریعہ ریلوے ککڑیاں بھیجیں اور چند مرتبہ بھیجیں‘‘

(ارواح ثلثہ‘ حکایت نمبر ۲۲۴‘ ص ۲۲۶‘ کتب خانہ امدادیہ سہارنپور)

سردے کے لئے بے چین

اور لیجئے یہ ہیں شیخ الاسلام دارالعلوم دیوبند مولوی حسین احمد۔ ان کے متعلق ’’شیخ الاسلام نمبر‘‘ یوں رقم طراز ہے ’’کچھ عجیب اتفاق ہے کہ عموما تمام مشائخ (دیوبند) اور خصوصا مولانا محمد قاسم نے آخر وقت میں پھل کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ مولانا محمد قاسم کے لئے لکھنو سے ککڑی منگائی گئی۔ حضرت حسین احمد مدنی نے بھی آخری وقت میں سردے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ اور منجانب اﷲ اسلاف کی سنت پر طبیعت اس درجہ مجبور ہوئی کہ مولانا قاسم صاحب اور شاہد صاحب فاخری ملاقات کو تشریف لائے تو فرمایا کہئے کیا آج کل سردا نہیں مل سکتا؟ انہوں نے فرمایا ضرور مل جائے گا (چونکہ اس سے قبل مولانا اسعد صاحب‘ مولانا فرید الوحیدی صاحب وغیرہ نے دہلی‘ سہارنپور‘ میرٹھ ہر جگہ تلاش کیا مگر کہیں دستیاب نہ ہوا) اس لئے حضرت نے فرمایا کہاں مل سکتا ہے؟ مولانا وحید الدین صاحب قاسمی نے عرض کی انشاء اﷲ دہلی میں مل جائے گا۔ مولانا شاہد صاحب نے عرض کیا جی ہاں! تلاش کے بعد بہت امید ہے کہ مل جائے گا اور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ حضرت نانوتوی کے لئے لکھنو سے ککڑی منگائی گئی تھی تو حضرت (حسین احمد) کے لئے مولانا سجاد حسین کی معرفت کراچی سے اور مولانا حامد میاں صاحب نے لاہور سے سردا بھیجا‘‘

(شیخ الاسلام نمبر ص ۱۱۴‘ کالم ۲۔۳)

مرتے وقت چندہ مانگنا

اور لیجئے! یہ آپ کے حکیم الامت مولوی اشرف علی صاحب تھانوی مرتے وقت اپنی اہلیہ کے لئے امداد مانگ رہے ہیں‘ اور وصیت فرما رہے ہیں کہ ’’میرے بعد بھی میرے تعلق کا لحاظ غائب ہو۔ وصیت کرتا ہوں کہ ۲۰ آدمی مل کر اگر ایک ایک روپیہ ماہوار ان (بیوی صاحبہ) کے لئے اپنے ذمہ رکھ لیں تو امید ہے کہ ان کو تکلیف نہ ہوگی‘‘

(تنبیہات وصیت ص ۲)

وکیل استغاثہ: جناب جج صاحب! مولانا احمد رضا خان صاحب کو وکیل صفائی کے اس مختصر بیان پر اس الزام سے بری نہیں کرسکتے۔

جج (وکیل استغاثہ سے): کیا آپ مزید کوئی اعتراض داخل کرنا چاہتے ہیں۔

وکیل استغاثہ: جی ہاں! جج صاحب ‘ میں کچھ اور اعتراض بھی داخل کرنا چاہتا ہوں۔

جج : اجازت ہے۔

وکیل استغاثہ: جناب والا! عورت کسی بھی قوم کے لئے ایک سرمایہ ہوتی ہے۔ قوم کا ایک حساس ادارہ ہوتی ہے‘ جس سے ملت کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ مولانا حمد رضاخان بجائے اس کے ‘ اس عورت کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کرتے‘ اسلامی تعلیمات کے مطابق اس کو تحفظ دیتے‘ اسے مزارات پر حاضری دینے والی کنیز بنادیا جو اپنے بچوں کو سنبھالے گرتی پڑتی‘ سات جمعراتیں پوری کرنے آرہی ہے۔ مگر مولانا احمد رضا مجاور کے گھر کی چاندنی کروانے اور ملت اسلامیہ کے مستقبل کو تاریک کرنے اور قوم کے اس ادارے کو تباہی کی جانب مائل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

وکیل صفائی (وکیل استغاثہ کی جانب دیکھتے ہوئے) وکیل استغاثہ کا وہی بے سود تجسس‘ وہی بے کار سوال‘ وہی ذہنی مفلسی میں نکلا ہوا بے تکا اعتراض۔ جناب جج صاحب! وکیل استغاثہ اعتراض دراعتراض کے چنگل میں پھنس کر ذہنی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

وکیل استغاثہ: جناب جج صاحب! وکیل صفائی مجھ پر لفظوں کے تیر برسانے کے بجائے اپنے موکل کا دفاع کرنے میں یہ لفظوں کا خزانہ خرچ کردیں تو زیادہ مفید ہوگا۔

وکیل صفائی: جناب والا! میں اس عدالت میں یہ درخواست کرنا چاہوں گا کہ وکیل استغاثہ اس اعتراض پر عدالت کے سامنے دلیل پیش کریں۔

وکیل استغاثہ: جناب والا! بجائے اس کے کہ میں اس عدالت میں تحریری یا لفظی ثبوت پیش کروں‘ میں مولانا احمد رضا کے عملی پیروکاروں کو اس ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہوں اور آپ پاک وہند کے کسی بھی شہر میں‘ کسی بھی قصبے میں اور کسی بھی دیہات میں تشریف لے جایئے‘ آپ کو یہ بریلوی حضرات‘ مزاروں کو چومتے‘ ان کی عورتیں مزارات کی زیارت اور ان کے مرد دھمال کھیلتے نظر آئیں گے۔ قوالی کی محفل میں رقص و سرور کرتے نظر آئیں گے‘ تعزیہ نکالنا اس قومکا شعار ہے۔

وکیل صفائی: جناب والا! وکیل استغاثہ کی دلیل اتنی بے ہودہ ہے کہ اس کی دیوار پر مار دینے کا دل چاہتا ہے۔ ان کی اس دلیل سے نہ صرف اس عدالت کا تقدس پامال ہوا بلکہ علم و دانش پر جہالت کی کیچڑ بھی اچھالی گئی۔

جناب والا! یہودیوں کا کردار آپ کے سامنے ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں فرعون سے نجات دی اور ابھی یہ دریائے نیل سے نکلے ہی تھے اور پانی سے ان کے پائوں خشک بھی نہ ہونے پائے تھے کہ انہوں نے ایک قوم کو دیکھا جو کسی بت کی پرستش میں مصروف عمل تھی۔ تو موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمیں بھی ایک ایسا ہی بت بنادو اور جناب جج صاحب! کیا بنی اسرائیل میں سامری نے بچھڑا نہیں بنایا اور کیا یہودیوں نے اس کی پرستش نہیں کی؟ کیا کوئی مسلمان یا اہل حق اس کا الزام موسیٰ علیہ السلام پر عائد کرنے کی جرأت فاسدہ کرسکتا ہے؟

جواب سادہ سا ہے‘ جی نہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ وکیل استغاثہ دلیل دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔ میں اہل عقل و دانش کی عدالت میں اس جھوٹے اور بے ہودہ اعتراض کی دھجیاں بکھیرنا چاہوں گا۔

جناب والا! مولانا احمدرضا خان ہی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے بلاد ہند میں ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھ کر نہ صرف ملت کے مستقبل کو محفوظ کیا بلکہ عورت کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی عطا کیا۔ اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ حضور اجمیر شریف میں خواجہ کے مزار پر عورتوں کا جانا جائز ہے یا نہیں؟ تو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزارات پر جانا جائز ہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اﷲ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے‘ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ رسول کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں‘‘

(امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات ص ۲۸۴‘ مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا بحوالہ الملفوظ حصہ دوم ص ۱۰۶۔۱۰۷)

جناب والا! وکیل استغاثہ نے حساس لفظوں کے استعمال سے مولانا احمد رضا پر کیچڑ اچھالی تھی‘ ان کا دامن اس سے نہ صرف پاک اور اجلا ہے بلکہ وہ ملت کی بیٹیوں کی چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وکیل استغاثہ نے مقدمہ کے دوران عدالتی قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے چند اور اعتراض وارد کئے تاکہ وہ اپنے سابقہ الزام کو مضبوط کرسکیں مگر کچی مٹی کی چھت کو ریت کے ستون پر سہارا نہیں دے سکتے۔ مجھے یقین ہے کہ وکیل استغاثہ‘ مولانا احمد رضا پر عائد کردہ نئے اعتراض پر حسب معمول دلائل دینے سے ہچکچائیں گے۔

اگرچہ میں قانونی اور اخلاقی طور پر اس سے آزاد ہوں کہ اگر وکیل استغاثہ عائد کردہ الزامات پر دلائل نہ دیں تو میں ان الزامات کا جواب نہ دوں‘ مگر ملت کی اس عبقری شخصیت پر عائد کردہ جھوٹے الزامات سے قوم کے ذہنوں کو آلودہ کرنے کی سازش کے تاروپود بکھیر کر آج کی اس عدالت کوضرور آگاہ کرنا چاہوں گا کہ مولانا احمد رضا خان ان تمام الزامات سے پاک ہیں۔

وکیل استغاثہ نے جو استغاثہ جمع کرایا‘ وہ صرف بغض و حسد کا پلندہ ہے‘ اس کے علاوہ اس کی کچھ حقیقت نہیں۔ میں اس عدالت سے درخواست کروں گا کہ وکیل استغاثہ کو تمام اعتراضات جمع کرانے کا حکم دیں۔

جج صاحب! کیا وکیل استغاثہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

وکیل استغاثہ: جناب والا! وکیل صفائی کی تقریر اگرچہ میرے خلاف ہی جاتی ہے مگر میں اسے کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں‘ مگر چند اعتراضات اب بھی داخل ضرور کرانا چاہوں گا۔

(۱) کیا مولانا احمد رضا نے سجدہ تعظیمی کو جائز نہیں ٹھہرایا؟ قبروں پر سجدہ‘ پیر کو سجدہ مولانا نے جائز نہیں ٹھہرایا؟

(۲) قوالی سے متعلق مولانا کا موقف واضح کریں گے کیا وکیل صفائی؟

(۳) ۱۰ محرم الحرام کو تعزیہ داری کی رسم کو فروغ دینے میں کیا مولانا کے کردار سے انکار کیا جاسکتا ہے؟

(۴) (i) بعض اہل سنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے اور نہ جھاڑو دیتی ہیں‘ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔

(ii) دس دن کپڑے نہیں اتارے۔

(iii) ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔ ان ایام میں سوائے امام حسن و امام حسین رضی اﷲ عنہم کے کسی کی نیاز وفاتحہ نہیں دلاتے۔ اس پر مولانا احمد رضا نے کہیں منع نہ کیا۔

(۵) طواف قبر پر مولانا کا موقف کیا ہے؟

وکیل صفائی: رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے (زیر لب مسکراتے ہوئے)

جناب والا! وکیل استغاثہ نے سچائی کو تسلیم کرلیا۔ میں ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ آنکھیں بند کرنے سے سورج غروب نہیں ہوجاتا‘ بلکہ اس کی کرنیں عالم میں اجالا کرتی رہتی ہیں۔

وکیل استغاثہ نے مجھ سے سجدہ تعظیمی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا مولانا احمد رضا نے اس کو جائز نہیں ٹھہرایا… یا اعتراض وارد کیا؟

جناب والا! مولانا احمد رضا نے اس مسئلہ پر جو موقف اپنایا ہے‘ وہ درج ذیل ہے ’’مسلمان ! اے مسلمان! … اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان… جان اور یقین جان… کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کے لئے اور اس کے غیر کو سجدۃ عبادت تو یقینا اجماعاشرک مہین و کفر مبین… اور سجدہ تحیت حرام و گناہ کبیرہ بالیقین

(امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات ص ۴۶۰ بحوالہ الزبدۃ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ ص ۵)

جناب والا! اس مسئلہ پر الزبدۃ الزکیہ کے نام سے پورا رسالہ رقم کیا‘ مزید آگے فرماتے ہیں: (قرآن عظیم نے ثابت فرمایا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے کہ مشابہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالیٰ‘ صحابہ کرام نے حضورﷺ کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی‘ اس پر ارشاد ہوا‘ کیا تمہیں کفر کا حکم دیں معلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا۔ جب حضور اقدسﷺ کے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کا کیا ذکر؟‘‘

(ایضا‘ ص ۴۶۱)

عزت مآب جج صاحب! وکیل استغاثہ نے دوسرا الزام قوالی اور بھنگڑوں کا بھی عائد کیا۔ مولانا احمد رضا ان مزامیر اور بھنگڑوں کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں ’’ایسی قوالی حرام ہے ‘ حاضرین سب گنہ گار ہیں اور اب سب  کا گناہ ایسا عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے۔ اور قوالوں کا بھی گناہ اس عرس کرنے والے پر بغیر اس کے عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کا گناہ جانے سے قوالوں پر سے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے اور قوالوں کے ذمہ حاضرین کا وبال پڑنے سے حاضرین کے گناہ کی کچھ تخفیف ہو۔ نہیں‘ بلکہ حاضرین میں ہر ایک پر اپنا پورا گناہ اور قوالوں پر اپنا گناہ الگ اور قوالوں کے برابر جدا۔ اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ۔ وجہ یہ کہ حاضرین کو عرس کرنے والے نے بلایا یا کسی کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا‘ اگروہ سامان نہ کرتا‘ یہ ڈھول سارنگی نہ سناتے تو حاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے۔ اس لئے ان سبکا گناہ ان دونوں پر ہوا پھر قوالوں کے اس گناہ کا باعث وہ عرس کرنے والا ہوا وہ نہ کرتا‘ نہ بلاتا تو یہ کیونکر آتے بجاتے‘ لہذا قوالوں کا بھی گناہ اس بلانے والے پر ہوا ۔ الخ

(رد بدعات و منکرات ص ۴۷۷ بحوالہ احکام شریعت ص ۲۹)

جناب والا! تیسرا اعتراض وکیل استغاثہ نے یہ داخل کیا کہ کیا ۱۰ محرم الحرام کو تعزیہ داری کی رسم کو فروغ دینے میں مولانا احمد رضا کے کردار سے انکار کیا جاسکتا ہے۔

اس پر میں کہوں گا کہ اگر وکیل استغاثہ اور مخالفین مولانا احمد رضانے اعلیٰ حضرت کی کتابوں کا مطالعہ کرلیا ہوتا تو ان اعتراضات کی جرات و ہمت نہ کرتے اور یوں بہتان و الزام تراشی کا طوق اپنے گلوں میں نہ ڈالتے۔

تعزیہ داری سے متعلق مولانا احمد رضا کے پاس سوال آیا‘ آپ فرماتے ہیں ’’وہ جاہل خطاء وار مجرم ہے مگر کافر نہ کہیں گے۔ تعزیہ آتا دیکھ کر اعتراض و روگردانی کریں۔ اس کی جانب دیکھنا ہی نہ چاہئے۔ اس کی ابتدا سنا جاتا ہے کہ امیر تیمور بادشاہ دہلی کے وقت سے ہوئی۔ واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب

(عرفان شریعت حصہ اول ص ۱۵ مطبوعہ سنی دارالاشاعت لائل پور)

ایک اور جگہ پر آپ سے سوال کیا گیا کہ تعزیہ داری میں لہو و لعب سمجھ کر جائے‘ تو کیسا ہے۔ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’نہیں جایئے ناجائز کام ہے‘ جس طرح جان و مال سے مدد کرے‘ یونہی افراد بڑھا کر بھی مددگار ہوگا۔ ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ بندر نچانا حرام ہے۔ اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم ص ۱۰۰ ناشر مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

جناب والا! فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱ سے ایک آخری حوالہ پیش کرنا چاہوں گا۔ مولانا احمد رضا تعزیوں کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’حاشا تعزیہ ہرگز اس کی نقل نہیں‘ نقل ہونا درکنار بنانے والوں کو نقل کا قصد بھی نہیں‘ ہر جگہ نئی تراش‘ نئی گھڑت جسے اس اصل سے نہ کچھ علاقہ‘ نہ نسبت‘ پھر کسی میں پریاں‘ کسی میں براق‘ کسی میں اوربے ہودہ طمطراق‘ پھر کوچہ بکوچہ… دشت بدشت… اشاعت غم کے لئے ان کا گشت… اور اس کے گرد سینہ زنی‘ ماتم سازی کی شور افگنی… حرام مرثیوں سے نوحہ کنی… عقل و نقل سے جٹی چھنی… کوئی ان کھپچیوں کو جھک جھک کر سلام کررہا ہے… کوئی مشغول طواف‘ کوئی سجدہ میں گرا ہے… کوئی اس مایہ بدعات کو معاذ اﷲ جلوہ گاہ حضرت امام عالی مقام سمجھ کر اس ابرک پنی سے مرادیں مانگتا ہے‘ منتیں مانتا‘ عرضیاں باندھتا‘ حاجت روا جانتا ہے… پھر باقی تماشے‘ باجے تاشے‘ مردوں عورتوں کا راتوں کو میل اور طرح طرح کے بے ہودہ کھیل… ان سب پر طرہ ہیں۔ غرض عشرہ محرم الحرام کی اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک کا نہایت بابرکت و محل عبادت ٹھہرا ہوا تھا۔ ان بے ہودہ رسموں نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا پھر وبال ابتداع کا وہ جوش ہوا کہ کیرات کو بھی بطور خیرات نہ رکھا۔ ریاء و تفاخر اعلانیہ ہوتا ہے‘ پھر ہو بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کو دیں‘ بلکہ چھتوں پربیٹھ کر پھینکیں گے۔ روٹیاں زمین پر گر رہی ہیں۔ رزق الٰہی کی بے ادبی ہوتی ہے‘ پیسے ریتے میںگر کر غائب ہوتے ہیں‘ مال کی اضاعت ہورہی ہے‘ مگر نام تو ہوگیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹا رہے ہیں‘ اب بہار عشرہ کے پھول کھلے‘ تاشے باجے‘ بجتے چلے… طرح طرح کی کھیلوں کی دھوم‘ بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم… شہوانی میلوں کی پوری رسوم… جشن فاسقانہ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ ‘ گویا یہ ساختہ ڈھانچہ بعینہہحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کے پاک جنازے ہیں۔

اے مومنوں! اٹھائو جنازہ حسین کا گاتے ہوئے مصنوعی کربلا پہنچے… وہیں کوئی نوچ اتار… باقی توڑ تاڑ دفن کردیئے… یہ ہر سال اضاعت مال کے جرمو وبال جداگانہ رہے… اﷲ تعالیٰ صدقہ شہدائے کرام کربلا علیہم الرضوان والثناء کا مسلمانوں کو نیک توفیق بخشے اور بدعات سے توبہ دے۔ آمین آمین‘‘

مزید لکھتے ہیں ’’تعزیہ داری کہ اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت و ناجائز و حرام ہے۔ ان خرافات شیوع نے اس اصل مشروع کو بھی اب مخدور و مخطور کردیا کہ اس میں اہل بدعت سے مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ… اور آئندہ اپنی اولاد یا اہل اعتقاد کے لئے ابتلائے بدعات کا اندیشہ ہے‘ جو چیز ممنوع تک پہنچائے‘ وہ ممنوع ہے‘‘

(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱ ص ۴۲۳‘ ۴۲۴‘ مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور مئی ۲۰۰۲)

وکیل استغاثہ نے چوتھا اعتراض کچھ اس طرح سے کیا کہ

(۱) بعض اہل سنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے اور نہ جھاڑو دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔

(۲) دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔

(۳) ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔ ان ایام میں سوائے امام حسن وامام حسین کے کسی کی نیاز و فاتحہ نہیں دلاتے۔ اس پر مولانا احمد رضا نے کہیں منع نہیں کیا۔

جناب والا! دکھتی آنکھوں کو سورج برا لگتا ہے‘ آنکھیں بند کرکے روشنی کو اندھیرے سے تعبیر کرنا باطل کا ایک اور پرزور ہتھکنڈہ ہے۔ میں پوچھنا چاہوں گا کہ وکیل استغاثہ سے ‘ کیا انہوں نے مولانا کی تمام کتب کا مطالعہ کرلیا ہے جو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مولانا احمد رضا نے کہیں منع نہ کیا؟

جناب والا! اگر علم و دانش کی عدالتوں میں فکر و بصیرت کا لہو یوں ہی چھلکے گا تو مستقبل کا مورخ کیا کہہ کر پکارے گا۔ جناب والا! اگر تحقیق کے بغیر الزام تراشیوں کا یہ گھنائونا کاروبار یونہی چلتا رہا تو ملت اسلامیہ کے گلشن میں پھولوں کے بجائے ببول اگنے لگیں گے۔

اے عقل و دانش کی مسندوں پر تشریف فرما ہونے والے بزرگو! وکیل استغاثہ کے اعتراض کو ایک سائل نے بہت پہلے ایسے ہی پوچھا تھا تو امام نے جواب دیا تھا کہ

’’پہلی تین باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے اور چوتھی بات جہالت ہے۔ ہر مہینے میں‘ ہر تاریخ میں‘ ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے‘‘

(احکام شریعت حصہ اول ص ۷۴)

جناب والا! وقت کی کمی کے سبب ان مسائل پر سیر حاصل بحث نہ ہوسکی۔ اگرچہ حقیقت حال کی وضاحت کے لئے ایک دلیل ہی کافی ہے۔ مگر اہل علم و دانش کی تشنگی کے لئے فتاویٰ رضویہ کا مکمل سیٹ اور یٰسین اختر مصباحی صاحب کی کتاب امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات پیش کروں گا۔

وکیل استغاثہ: وکیل صفائی کو ابھی آخری اعتراض کا بھی جواب دینا ہے۔

وکیل صفائی : جی ہاں! وکیل استغاثہ کے الزامات میں سے آخری الزام یا مولانا احمد رضا کی بلند و بالا شخصیت پر کھینچی ہوئی کمان سے چھوڑا ہوا حسد و کینہ کا پست تیر… کہ طواف قبر سے متعلق مولانا احمد رضا کا موقف کیا ہے؟

جناب والا! مولانا کا موقف میں بیان کئے دیتا ہوں اور اگر وکیل استغاثہ نے اس مسئلے کو اپنے بزرگ و پیشوا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب میں پڑھ لیا ہوتا تو اس الزام کی جرأت نہ کرتے۔

مولانا احمد رضا فرماتے ہیں ’’بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے‘‘

(احکام شریعت حصہ سوم ص ۳)

وکیل استغاثہ کے علم میں اضافے کے لئے اشرف علی تھانوی صاحب کا یہ اقتباس بھی سناتا چلوں۔ حصول برکت کے لئے مزار کے گرد پھرنا تو وہابیوں اور دیو بندیوں کے یہاں بھی جائز ہے۔ اشرف علی تھانوی‘ شاہ ولی اﷲ کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’مولانا شاہ ولی اﷲ صاحب کا ارشاد سو اس میں کچھ حجت نہیں کیونکہ یہ طواف اصطلاحی نہیں ہے جو تعظیم و تقرب کے لئے کیا جاتا ہے اور جس کی ممانعت نصوص شرعیہ سے ثابت ہے بلکہ طواف لغوی ہے۔ یعنی محض اس کے گرد پھرنا واسطے پیدا کرنے مناسب روحی کے صاحب قبر کے ساتھ اور لینے فیوض کے بلا قصد تعظیم و تقرب کے اور وہ بھی عوام کے لئے نہیں‘ جن کو فرق و مراتب کی تمیز نہیں بلکہ اہل سنت کیلئے جو جامع ہوں‘ درمیان شریعت و طریقت‘‘

(حفظ الایمان ص ۶)

جج: دلائل و براہین کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مولانا احمد رضا نے باطل رسم و رواج کو نہ صرف ختم کرنے کے لئے جہاد کیا بلکہ آپ نے بدعات کو مٹانے میں بھی ایک بہت واضح کردار ادا کیا جیسا کہ ان کی کتب سے بھی ظاہر ہے۔