بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, January 2010, د ر خشا ں ستا ر ے

ایک دن حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے رسالت مآبﷺ کی یہ حدیث مبارکہ سنی۔ ’’قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے… اور دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘

اس حدیث مقدس کے سنتے ہی حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی حالت غیر ہوگئی اور پھر آپ پر مسلسل ایک اضطراب کیفیت طاری ہونے لگی۔ دل میں جو کچھ بھی خواہش دنیا رہ گئی تھی وہ اس حدیث مبارکہ کے سنتے ہی فنا ہوگئی اور پھر ہر وقت آپ کی آنکھوں کے سامنے قبر کا ہولناک منظر ابھرنے لگا۔

حصرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ پیرومرشد کا یہ انداز دیکھ کر بعض مرید رشک کا شکار ہوگئے تھے اور کچھ لوگ آتش حسد میں جل اٹھے تھے۔ حصرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اکثر آپ کے بارے میں فرماتے تھے۔

’’جمال… جمال ماست (جمال ہمارا جمال ہے) ایک بار حضرت بہائو الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو تحریر کیا کہ میرے تمام مریدوں اور خلفاء کو لے لیجئے اور ان کے بدلے میں صرف جمال الدین کو مجھے دے دیجئے‘‘

جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ’’جمال میرا جمال ہے‘ معاوضہ مال میں ہوسکتا ہے نہ کہ جمال میں‘‘

حضرت شیخ بہائو الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے کچھ دن بعد پھر اسی مضمون  کا خط لکھا ’’مستقل نہیں تو کچھ دن کے لئے مجھے جمال کو دیجئے‘‘

جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تحریر فرمایا ’’شیخ! کوئی اپنا جمال بھی کسی کو دیتا ہے۔ آپ چند روز کے لئے کہتے ہیں‘ میں چند لمحوں کے لئے بھی جمال کو خود سے جدا نہیں کرسکتا‘‘

کچھ عرصے بعد حضرت شیخ بہائو الدین ذکر ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے پھر اسی خواہش کا اظہار کیا۔

جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’شیخ ! بار بار درخواست کرکے مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔ جمال کے سلسلے میں نہ کوئی سودا ہوسکتا ہے اور نہ کوئی مفاہمت‘‘

شیخ الہدیہ نے اپنی مشہور تصنیف ’’سیرالاقطاب‘‘ میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف سے مایوس ہوکر حضرت شیخ بہائو الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے روحانی طاقتوں کے ذریعے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنے طرف متوجہ کرلیا۔

ایک دن شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ پیرومرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ’’سیدی! مجھے ملتان جانے کی اجازت مرحمت فرمایئے‘‘

’’جمال! تم ملتان جاکر کیا کروگے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حیرت زدہ لہجے میں دریافت کیا ’’کیا وہاں تمہیں کوئی ضروری کام ہے؟‘‘

’’میں حضرت شیخ بہائو الدین ذکر ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں‘‘ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی گفتگو سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ آپ چند روز کے لئے ملتان جانے کی خواہش رکھتے ہیں یاپھر حضرت شیخ ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ سے فیض روحانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

’’کیا کہا…؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ ’’اگر تمہیںوہاں بھیجنا ہوتا تو میں حضرت شیخ کے خطوط کے جواب میں انکار کیوں کرتا؟‘‘

شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اس ناگواری کو محسوس نہیں کیا اور خاموش کھڑے رہے۔

’’کیا تم اپنا ارادہ نہیں بدل سکتے؟‘‘ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کے ہونٹوں پر مہر سکوت دیکھ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’میں کچھ دنوں کے لئے ملتان جانا چاہتا ہوں‘‘ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی اسی خواہش کا اظہار کیا۔ شیخ الہدیہ نے اپنی کتاب ’’سیرالاقطاب‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ بہائو الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کا روحانی تصرف تھا اور اس کے زیر اثر شیخ جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ملتان جانے کے لئے بے قرار و مضطرب تھے۔

’’جائو ! چلے جائو‘‘ اچانک حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ غضب ناک ہوگئے تھے۔ اہل مجلس کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے اس سے پہلے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس قدر غیظ کے عالم میں نہیں دیکھا تھا۔ چہرہ مبارکہ بھی غصے سے سرخ ہوگیاتھا اور لہجے سے بھی قہر کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔

ہم نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے ادا ہونے والے الفاظ کو محتاط انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ نے تو مذکورہ واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جیسے ہی شیخ جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بہائو الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کے پس جانے کی خواہش ظاہر کی تھی تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے انتہائی برہم لہجے میں فرمایا تھا۔

’’جائو اور اپنا منہ کالا کرو‘‘ یہ محبت کی انتہا تھی کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی جدائی کے تصور ہی سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے شیریں دہن انسان کا لہجہ شرر بار ہوگیا تھا۔

ابھی فضا میں حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کا تمام علم روحانی سلب ہوگیا۔ اب شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی حیثیت اس شخص کی سی تھی جس نے محنت شاقہ کے بعد ایک بڑا سرمایہ جمع کیا ہو… اور اچانک کسی نظر نہ آنے والے ہاتھ نے اس کی ساری دولت چھین لی ہو۔

حضرت شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اظہر ناراضگی کے بعد شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے کا رنگ بگڑنے لگا تھا شاید منہ کالا کرنے کا یہی مفہوم ہو۔

پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا چہیتا اور لاڈلا ’’جمال‘‘ خانقاہ کے دروازے سے اس طرح نکلا تھا کہ جیسے وہ روئے زمین پر دنیا کا سب سے زیادہ مفلس اور بدنصیب انسان ہو۔ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کو محسوس ہورہا تھا کہ اب ان کے لئے اس زمین پر کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ بعض روایات سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اظہار غضب کے بعد شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے خانقاہ میں ٹھہرنے کی کوشش کی تھی مگر پیر ومرشد بار بار یہی فرما رہے تھے۔

’’میری نظروں سے دور ہوجائو۔ اپنے سینے میں ملتان جانے کی آرزو رکھتے ہو تو پھر وہیں چلے جائو‘‘

شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ اس آتش جلال کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سینے میں اذیت و کرب کی جو آگ بھڑکی تھی اسے بجھانے والا کوئی نہیں تھا اگر شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ان شعلوں کو سرد کرنے کے لئے کچھ دیر ٹھہر جاتے تو خود بھی جل کر خاکستر ہوجاتے۔ وہ آگ تو اپنے وقت ہی پر بجھتی اور وقت ابھی بہت دور تھا۔ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی عافیت اسی میں تھی کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے۔

پھر وہ جمال مجلس سے نکل کر چلا گیا جس کے بارے  میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے ’’کوئی اپنا جمال بھی کسی کو دیتا ہے‘‘ بڑی عجیب بات تھی کہ آج بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے اسی جمال کو وقت کے حوالے کردیا تھا۔

شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ کا بیان ہے کہ پیرومرشد کی خانقاہ سے اٹھ کر شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ اتنے وارفتہ ہوئے کہ گریبان چاک کردیا اور دشت الم میں تنہا بھٹکنے لگے۔ پورا جسم زخموں سے بھر گیا اور زخم خون دینے لگے۔ کبھی جس کے رخ تابناک سے پوری بزم روشن تھی‘ اب اسی کا چہرہ دھواں دھواں تھا۔

شیخ جمال کیا گئے کہ پوری خانقاہ اداسیوں میں ڈوب گئی۔ اگرچہ روز و شب بھی وہی تھی… مسافران عشق بھی وہی تھے… اور منزل عرفاں بھی وہی تھی… لیکن خود میر مجلس شکستہ تھا…رہنمائے شوق دل گرفتہ تھا… اس لئے ہر شے بجھی بجھی سی لگتی تھی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے جب بھی کوئی شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کا ذکر کرتا تو آپ انتہائی ناخوشگوار لہجے میںفرماتے۔

’’جانے والے چلے گئے تو اس مجلس سے ان کا نام بھی اٹھ گیا‘‘

اس کے بعد پھر کسی کی اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حضور میں  شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی سفارش کرنے کے متعلق سوچتا… اور سفارش کر بھی کون سکتا تھا کہ جانے والا تو خود محبوب تھا جب محبوب ہی زیر عتاب آگیا تو کس میں اتنا حوصلہ تھا کہ لب کشائی کرتا۔

ظاہری آنکھ رکھنے والے بس اتنا جانتے تھے کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ پر مسلسل غضب نازل ہورہا ہے اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان سے اس حد تک خفا ہیں کہ راضی ہونے کا کوئی امکان بھی باقی نہیں… مگر جنہیں درویشی کے مزاج کا اندازہ تھا اور جو اہل دل کی فطرت سے آگہی رکھتے تھے‘ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کا نام لینے پر پابندی عائد کرتے ہیں تو پس پردہ ایک خلش‘ ایک اذیت اور ایک کرب کی آہٹیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی ایک لغزش پر عذاب کب تک برداشت کیا۔ تاریخ سے اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ہاں! اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ یہ مدت فراق کئی ماہ تک طول کھینچ گئی تھی… اور کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی ظاہری حالت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی جو بھی دیکھتا تھا بے اختیار اس کے منہ سے آہ سرد نکل جاتی تھی۔

’’یہ گردش روز و شب کا کیسا ہدف ہے کہ پہچانا بھی نہیں جاتا۔ اﷲ اس پر اپنا رحم کرے‘‘

شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ چپ چاپ لوگوں کی باتیں سنتے رہتے۔ کہتے بھی تو کیا کہتے کہ اس منزل میں کچھ کہنے کا یارا ہی کہاں تھا؟ پھر جب ضبط سخن سے سینہ جل اٹھتا تو آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنے لگتے۔

’’لوگو! تمہیں کیا بتائوں کہ میں کون ہوں؟ جب میری پہچان کھو گئی تو مجھ سے میرا تعارف چاہتے ہو؟ کسے خبر کہ میں کس محفل سے اٹھایا گیا ہوں؟‘‘

پھر اسی زمانہ فراق میں شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی ملاقات عالم نامی ایک شخص سے ہوئی۔ عالم ایک بڑا سوداگر بھی تھا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مرید بھی‘ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ پیرومرشد کے محبوب ترین مرید شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں تو وہ شدت الم سے رونے لگا۔

’’جمال! یہ تم ہو؟ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کے جمال؟‘‘ عالم سوداگر شدت غم سے کانپ رہاتھا۔

’’ہاں! یہ میں ہی ہوں راندہ درگاہ شیخ‘‘ حضرت جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس طرح کہا کہ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والا ایک ایک لفظ حسرت و آرزو کا مرثیہ تھا اور ماضی و حال کا نوحہ تھا۔

’’میں کیا کروں؟ خدا کے لئے مجھے بتائو کہ میں کیا کروں؟‘‘ عالم سوداگر ناقابل بیان اضطراب میں مبتلا تھا ’’جس کی سفارش سے دوسرے لوگ شیخ کی حضوری حاصل کیا کرتے تھے‘ آہ وہ خود سفارش کا محتاج ہے۔ یہ کیسے فاصلے ہیں اور یہ کیسی دوری ہے؟ اور یہ کیسی فرقت ہے اور یہ کیسی مہجوری ہے؟‘‘

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں