فیتعلمون منہما ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ‘ وماہم بضآرین بہ من احد الا باذن اﷲ‘ ویتعلمون مایضرہم ولا ینفعہم‘ ولقد علموا لمن اشترہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق‘ ولبئس ماشروا بہ انفسہم‘ لو کانو یعلمونO

۱۰۳۔ ولو انہم امنوا واتقوا المثوبۃ من عنداﷲ خیر‘ لوکانو یعلمون O

۱۰۴۔ یاایھا الذین امنوا

تو وہ سیکھا کرتے ان سے جس سے جدائی ڈال دیں میاں اور اس کی بیوی کے درمیان۔ اور نہیں ہیں وہ بگاڑ سکنے والے اس سے کسی کا ‘ مگر اﷲ کے حکم سے۔ اور وہ لوگ سیکھا کرتے وہ ‘ جو نقصان دے انہیں اور نفع نہ دے انہیں۔ اور یقینا جان چکے تھے کہ بلاشبہ جس نے مول لیا اس کو نہیں ہے اس کے لئے آخرت میں کچھ بھلائی۔ اور بے شک کتنا برا ہے وہ کہ خریدا جس سے انہوں نے اپنے نفس کو ‘ اگر علم سے کام لیتے۔

اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ثواب بارگاہ الٰہی کا بہتر ہے‘ اگر وہ جانتے

اے مسلمانو!

 … یہودی جو سیکھنے پر آئے (تو) بس (وہ سیکھا کرتے ان) دونوں فرشتوں‘ ہاروت و ماروت (سے) ایسا جادو (جس سے جدائی ڈال دیں میاں اور اس کی بیوی کے درمیان) (اور) وہ تو یہی مانتے تھے کہ یہ ہمارے جادو ہی کا زور اور اس کی اپنی تاثیر ہے ‘ کہ ہم اس سے دو ملے ہوئے دلوں کو جدا کردیتے ہیں۔ اور ہر ایک کی بنی کو بگاڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ  ہے کہ (نہیں ہیں وہ بگاڑ سکنے والے اس) جادو سے (کسی کا) کچھ بھی‘ (مگر) جس کا کچھ بھی بگاڑ ہوتا ہے وہ (اﷲ) تعالیٰ (کے حکم سے) ہوتا ہے (اور وہ لوگ سیکھا) بھی (کرتے) تو (وہ) جادو ٹونا سیکھتے (جو نقصان) تو (دے انہیں) (اور) ذرا بھی (نفع نہ دے انہیں) کہیں اور کبھی۔ اور (یقینا) سب سیکھنے والے اتنا اچھی طرح (جان چکے تھے کہ بلا) شک و (شبہ) ان میں سے (جس نے) بھی (مول لیا اس) جادو ٹونے (کو) تو (نہیں ہے اس کے لئے آخرت میں کچھ) بھی (بھلائی) اور اجر خیر (اور بے شک) معاذ اﷲ (کتنا برا ہے وہ) کفری جادو (کہ خریدا جس نے انہوں نے) خود اپنے (اپنے نفس کو) اپنی جان کی پرواہ نہ کی‘ اس کو دیا اور جادو لے لیا‘ مگر جان بوجھ کر بھی ان کا علم ان کے کام نہ آیا۔ وہ تو اس وقت کام کرتا (اگر) وہ اپنے (علم سے کام لیتے)

(اور اگر بے شک وہ) یہودی پیغام الٰہی پر (ایمان لاتے)‘ دل سے مان جاتے (اور) اﷲ تعالیٰ سے (ڈرتے) رہتے ‘ (تو) کھلی ہوئی بات ہے کہ (ضرور) بالضرور‘ وہ (ثواب) جو (بارگاہ الٰہی کا) عطیہ ہے۔ دنیا بھر کی چیزوں سے بدرجہا (بہتر ہے) یہ نیکی تو وہ اس وقت کرتے (اگر وہ اس حقیقت کو (جانتے) ہوئے کہا مانے ہوتے۔

(اے مسلمانو!) تم لوگ مجلس نبوی میں جب تمہارے نبی کلام فرماتے اور کوئی لفظ تمہارے سننے سے رہ جاتا‘ تو بڑے ادب کے ساتھ اور نیک نیتی کے ساتھ تم کہتے تھے کہ ’’راعنا‘‘ اے حضور ہماری رعایت فرمایئے۔ تمہارا یہ طریقہ بہت پسندیدہ تھا‘ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ اس لفظ سے یہودیوں نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔ ایک تو وہ زبان کو اینٹھ کر ’’راعنا‘‘ کو راعینا‘‘ کہتے ہیں‘ جس کے معنی ہیں‘ ہمارے چرواہے‘ دوسرے یہ لفظ ’’رعونت‘‘ سے بھی بنتا ہے اور محاورہ میں ’’بے وقوف‘‘ کو کہہ دیا جاتا ہے۔ تیسرے: لغت یہود‘ عبرانی و سریانی میں یہی لفظ گالی کے معنی میں پایا جاتا ہے۔