ممتاز قادری کے متعلق پاکستان کے ماہرین قانون کی رائے

in Articles, Tahaffuz, March 2011, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ممتاز قادری کے متعلق پاکستان کے ماہرین قانون کی رائے

Lawyers' opinio on Mumtaz Qadri Case

انسداد توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دینے کے بعد قتل ہونے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں زیر حراست پولیس اہلکار ملک ممتاز قادری کے پولیس کے سامنے اقبالی بیان کے بارے میں ماہرین کا موقف ہے کہ اس بیان کی کوئی عدالتی اور قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم ملک ممتاز قادری کے وکیل کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی جانب سے واقعی کوئی ایسا اشتعال انگیز بیان یا اقدام ہوا تھا، جو قتل کا فوری باعث بنا۔ ملک ممتاز قادری کو سزائے موت دیئے جانے کا امکان بہت کم ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق گورنر کے استثنیٰ کا اگر عدالت میں حوالہ دیا گیا تو ملک ممتاز قادری کے دفاع میں پیش ہونے والے وکلاء اپنے موکل کے لئے آسانی یا سزا کے کم سے کم ہونے کویقینی نہ بناسکیں گے۔ ان ماہرین کے مطابق چونکہ ابھی مقدمہ باضابطہ طور پر عدالت میں زیر سماعت نہیں آیا اس لئے اس بارے میں کوئی بھی فریق کے کسی دعوے، اعتراف یابیان اور دلائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پولیس اہلکار ملک ممتاز قادری جسے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی میں رکھا گیا تھا، اس کے خلاف امکانی عدالتی کارروائی کے بارے میں ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ جب تک اقبالی بیان عدالت یا مجسٹریٹ کے سامنے نہ دیا جائے اس کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ ’’مقدمات کے فیصلے عدالتیں عام طور پر ’’میرٹس‘‘ یعنی شواہد اور شہادتوں کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ اگر عدالتیں قتل یا دیگر فوجداری مقدمات میں صوابدید کی بنیاد پر فیصلے کریں تو اعلیٰ عدالتوں میں جاکر وہ فیصلے عام طور پر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو جو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں وہ زیادہ تر ضمانت لینے یا نہ لینے کے حوالے سے ہیں۔ جہاں تک فیصلوں کا تعلق ہے وہ صرف میرٹس یعنی شہادتوں کی بنیاد پر ہوسکتے ہیں‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’جہاں تک ملک ممتاز قادری کے خلاف قتل کے مقدمہ کا معاملہ ہے، یہ ابھی انتہائی ابتدائی مرحلے یعنی تفتیش کی سطح پر ہے، اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ جب یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا تو پولیس کی طرف سے چالان میں کیا کیا شہادتیں پیش کی جائیں گی۔ اب تک جو چیزیں سامنے آئی ہیں ان کی اس لئے کوئی قانونی اور عدالتی حیثیت نہیں ہے کہ اگر اعتراف جرم سے متعلق بیان ہے تو وہ پولیس نے لیا ہے اور جو دوسری چیزیں سامنے آئی ہیں وہ اخباری خبریں ہیں۔ اس سوال پر کہ اشتعال کی بنیاد پر قتل کا ملک ممتاز قادری کو کچھ فائدہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر رانجھا کا کہنا تھا اشتعال کے حوالے سے تو ایسی کوئی بات ابھی سامنے نہیں ہے‘‘ لیکن جب ان سے کہا گیا کہ ملک ممتاز قادری نے ابتدائی بیان میں جو پولیس کی حراست میں دیا ہے، یہی کہا ہے کہ ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا تھا ’’اشتعال کے حوالے سے وہ تشریح تعبیر یا تناظر مدنظر رکھا جاسکتا ہے جو عمومی ہو‘‘

پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین ممتاز مصطفی نے کہا ’’قتل کے اس مقدمہ کا فیصلہ بھی بہرحال قانون اور شہادت کی بنیاد پر ہوتا ہے جس طرح کہ عمومی طریقہ ہے البتہ جہاں کسی ملزم کی ضمانت کا سوال ہو اس میں عدالت کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے جبکہ کچھ جرم قابل ضمانت سمجھے جاتے ہیں اور کچھ ناقابل ضمانت جرم کی ذیل میں آتے ہیں‘‘ ان کا کہنا تھا ’’ایسے جرم جن کی سزا موت و عمر قید یا دس سال تک ہو، عام طور پر ناقابل ضمانت تصور کئے جاتے ہیں اس طرح جن جرائم کی سزا دس سال سے کم ہو، ان کے بارے میں تصور یہ ہے کہ ان کے حوالے سے ملزمان کی ضمانت بالعموم لے لینی چاہئے‘‘ ایک سوال کے جواب میں ممتاز مصطفی نے کہا کہ ضمانت نہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی معقول وجوہات ہوں اور قتل کے حوالے سے ایسی شہادتیں موجود ہوں جن کی بنیاد پر ملزم کو بادی النظر میں سزا ہوسکتی ہو۔ ایک اور سوال پر ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا ’’ممتاز قادری کے اعترافی جرم کا جہاں تک تعلق ہے 1984ء کے قانون شہادت آرڈر کے تحت اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ پولیس کی حراست میں دیا گیا اقبالی بیان ہے، البتہ جو چیزیں ممتاز قادری کے حق میں نہیں ہیں وہ یہ ہیں کہ گورنر کے قتل کے حوالے سے اس واحد شخص پر الزام ہے۔ یہ قتل دن کی روشنی میں ہوا ہے۔ گورنر کے سیکورٹی اسٹاف کے دیگر ممبران نے بھی ابھی تک ایسی ہی باتیں کہی ہیں جو ممتاز قادری کے حق میں نہیں۔ نیز یہ کہ جو اسلحہ سرکاری طور پر ممتاز قادری کے پاس تھا، وہی استعمال ہوا ہے لیکن اس کے باوجود جب تک ممتاز قادری مجسٹریٹ یا عدالت کے سامنے باضابطہ طور پر اقبال جرم نہیں کرے اسے سزائے موت دینا مشکل ہوگا‘‘

ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ کے مطابق ممتاز قادری کو سزائے موت ملنا اس لئے بھی مشکل ہے کہ اس نے گورنر کے قتل کی وجہ اپنے دین و ایمان کو بتایا ہے کہ گورنر نے نبیﷺ کی توہین روکنے سے متعلق قانون کو کالا قانون قرار دیا تھا تاہم اسے عدالت میں ’’میٹی گیٹنگ سرکم اسٹانسز‘‘ کے حوالے سے ایسے شواہد عدالت میں پیش کرنا ہوں گے، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جن چیزوں نے اسے اشتعال کی اس حد تک پہنچایا، وہ کیا تھیں اور کیا اس کے پیش کردہ شواہد ایسے شدید اشتعال کا باعث بن سکتے تھے۔ ماضی میں ایسے بے شمار مقدمات ہیں جن میں اشتعال کی بنیاد پر کئے گئے قتل پر سزائے موت نہیں دی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین ممتاز مصطفی نے کہا کہ اس حوالے سے کوئٹہ کے ایک کیس کی عام طور پر مثالدی جاتی ہے جس میں کسی شخص نے ایک شخص کے والد کی داڑھی نوچی تو طیش میں آکر بیٹے نے توہین کرنے والے کو قتل کردیا۔ اس قتل پر بیٹے کو ابتدائی طور پر سزائے موت سنائی گئی لیکن سپریم کورٹ نے سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کردیا۔ اس تناظر میں ملک ممتاز قادری کے مقدمہ کے امکانات کو دیکھا جائے تو باپ کی توہین، ماں کی توہین یا غیرت کے حوالے سے ہونے والے قتل کے مقابلے میں نبی اکرمﷺ جن کے لئے دنیا کی ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے اور حتی کہ نبیﷺ کی محبت کے لئے اپنی جان تک قربان کرنا شرط ہے، ایسی قابل احترام ہستی کی توہین کی بنیاد پر اشتعال میں آنا تو ضرور عدالت کی توجہ میں آئے گا‘‘

ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ کے مطابق شریعت میں یہ ہے کہ اگر کسی نے بے سبب قتل کیا ہو تو اس کی سزا زیادہ ہے لیکن اگر مرنے والے نے خود کوئی جواز فراہم کیا ہو تو خواہ اس کے نزدیک ایسا جواز اتنا شدید نہ ہو لیکن یہ دیکھا جائے گا کہ جس نے اس فراہم کردہ جواز پر قتل کیا، اس کے ہاں اس جواز کی شدت اسی قدر ہوسکتی ہے جس قدر اس نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔اس لئے میں کہوں گا کہ ممتاز قادری کو زیادہ سے زیادہ عمرقید کی سزا دی جاسکے گی اور اس میں سے بھی وہ عرصہ منہا (کم) کیا جائے گا جو عرصہ ممتاز قادری نے مقدمے کی سماعت کے دوران جیل میں گزارا ہوگا‘‘ عمر قید کی سزا عملاً کتنے سال بنتی ہے؟ اس سوال پر ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عملاً یہ قید 25 سال کی بجائے 15 سال رہ جاتی ہے، اس لئے اگر اس مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر ایک سال میں اس کے سارے مراحل مکمل ہوجاتے ہیں اور حتمی طور پر سپریم کورٹ سے ممتاز قادری کو عمر قید کی سزا ملتی ہے تو ٹھیک پندرہ سال بعد اسے رہا کرنا پڑے گا‘‘

ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ شریعت کی رو سے وہ شخص معصوم الدم نہیں جو خود ایسی حرکت سے جواز فراہم کرے۔ اس صورت میں قتل کے بدلے قتل کے اصول کا اطلاق نہیں ہوگا‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ممتاز قادری کے وکیل کا یہ کہنا کہ گورنر کو استثنی حاصل تھا اس لئے اس کے موکل نے گورنر کو قتل کیا۔ یہ دلیل موکل کے حق میں نہیں جاسکتی ہے اس سے تو یہ کہا جائے گا کہ یہ قتل شعوری طور پر کیا گیا۔ اشتعال کے باعث نہیں کیا گیا۔ بہرحال چونکہ یہ ساری باتیں عدالت سے باہر اور مقدمہ کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہورہی ہیں اس لئے ان کا مقدمہ پرکوئی اثر نہیں پڑے گا‘‘

ادارہ نے اس بارے میں قانون دان احمدرضا قصوری سے بات کی تو ان کا جواب تھا اس وقت تک کسی ملزم کے اقبالی بیان کی کوئی حیثیت نہیں جب تک وہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں اعتراف جرم نہ کرے۔ مجسٹریٹ ایسا بیان لینے سے پہلے ملزم کو یہ بتانے کا پابند ہوتا ہے کہ جو بیان تم دینے جارہے ہو یہ تمہارے مقدمے میں تمہارے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ اس لئے اگر تم نے اس سے پہلے کسی کی تسلی یا دباؤ کے طور پر کوئی بیان دیا ہے، دینے کا سوچا ہے تو اس دباؤ سے نکل کر بیان دو۔ مجسٹریٹ کی طرف سے ملزم کو اس بارے میں یہ کہنے کے بعد چالیس سے پینتالیس منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے تاکہ ملزم ایک مرتبہ پھر بیان ریکارڈ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے۔ واضح رہے کہ مجسٹریٹ ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے سے پہلے اسے یہ بھی بتاتا ہے کہ اس بیان کے ریکارڈ کرائے جانے کے بعد اسے پولیس کی تحویل میں نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے جیل میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد ملزم جو بھی بیان دے گا اس کی بنیاد پر عدالتی ٹرائل شروع ہوگا۔ پولیس کے سامنے دیئے گئے بیان یا بیانات عدالت میں کوئی اہمیت فیصلے کے حوالے سے نہیں رکھتے‘‘

احمد رضا قصوری کا یہ بھی کہنا تھا ’’پولیس سی آر پی سی کی دفعہ 161 کے تحت جن گواہوں کے بیان ریکارڈ کرتی ہے، ا نہیں پولیس ڈائری کا حصہ بنادیا جاتا ہے اور سی پی آر سی کی دفعہ 173 کے تحت عدالت کو پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو عام فہم الفاظ میں چالان پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ چالان محض ایک ورکنگ پیپر ہوتا ہے۔ ملزم کے اقبالی بیان کی طرح گواہان کے ریکارڈ شدہ ان بیانات کی بھی عدالت کے سامنے فیصلے کے حوالے سے کوئی حیثیت نہیں ہوتی‘‘ ایک سوال کے جواب میں احمد رضا قصوری نے کہا کہ اگر ملزم چاہے تو پولیس سے خود کہہ کر مجسٹریٹ کے سامنے جاکر اپنا بیان ریکارڈ کراسکتا ہے‘‘

کیا ممتاز قادری کے خلاف قتل کے مقدمے کے حوالے سے وکلاء صفائی کے ان دنوں سامنے آنے والے بیانات کی کوئی قانونی حیثیت ہے؟ اس سوال پر ممتاز قانون دان احمد اویس ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ ابھی تک عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوئی، اس لئے دفاع میں کہی گئی باتوں کا فی الحال تو موقع نہیں اس لئے جو بھی باتیں فی الوقت ہورہی ہیں، یہ ذاتی رائے کی حیثیت رکھتی ہیں جو عام طور پر وکلاء میڈیا کے اصرار پردیتے ہیں۔ اصل دفاع تو اسی وقت شروع ہوگا جب ٹرائل شروع ہوگا۔ ایک طرف استغاثہ کے وکلاء ہوں گے اور دوسری جانب وکلائے صفائی ہوں گے۔ عدالت میں پہلے پولیس کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پر بات ہوگی اس کے بعد ملزم کا بیان ریکارڈ ہوگا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ یہ کیسے ہوا کہ اس پر قتل کا الزام لگا‘‘

ایک سوال کے جواب میں احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا اچانک اشتعال کی وجوہات ہوں تو بہرحال اس کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اشتعال کا باعث کیا چیزیں بنی تھیں اور کیا اشتعال کسی فوری وجہ سے پیدا ہوا یا مسلسل ایسے واقعات ہورہے تھے جن کا ردعمل قتل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

***

ممتاز قادری کو موت کی سزا نہیں ہوسکتی
ثابت کریں گے ملزم کا عمل اضطراری تھا( جاوید سلیم شورش ایڈووکیٹ ) دہشتگردی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، سید واجد گیلانی

پولیس کے سامنے اعتراف جرم کی کوئی حیثیت نہیں، ملک وحید انجم ایڈووکیٹ
 اسلام آباد،راولپنڈی اور لاہور کے وکلاء کی اکثریت نے ملک ممتاز قادری کو ہیرو اور مقتول گورنر کے بیانات کو قابل اعتراض قرار دیدیا

سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز قادری کو جب بدھ کے روز اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا تو وہاں اس کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ وکلاء نے پھول نچھاور کئے اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے 300 سے زائد وکلاء نے ممتاز قادری کا وکیل بننے کی پیشکش کی اور اس کا مقدمہ مفت لڑنے کا عزم کیا۔ اسی طرح راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کے تمام وکلاء ممتاز قادری کے وکیل بننے کے خواہش مند ہیں۔ ملاحظہ کیجئے اس حوالے سے تحفظ ناموس رسالت لائرز فورم کے جاوید سلیم شورش ایڈووکیٹ، اسلام آباد بار کے صدر سید واجد گیلانی ایڈووکیٹ اور راولپنڈی بار کے صدر ملک وحید انجم ایڈووکیٹ سے کی گئی گفتگو

سوال: ممتاز قادری نے یہ اعتراف کرلیا کہ اس نے گورنر پنجاب کو قتل کیاہے جبکہ آپ نے اس کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو کس حد تک امکان ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا نہیں ہوگی؟

جواب:ملک ممتاز حسین قادری کے حوالے سے جو تفصیلات اخبارات میں آئی ہیں، اس کا ایسا کوئی بیان ابھی تک عدالت میں نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر سزا کا تعین کیا جاسکے۔ اگر عدالت سے باہر کوئی شخص اعتراف جرم کرتا ہے تو اسے اقبال جرم تصور نہیں کیا جاتا، تاوقتیکہ وہ کسی مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرے اور باقاعدہ بیان ریکارڈ کروائے تو پھر یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے اقبال جرم کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو واقعہ پیش آیا ہے اگر ہم اس کے محرکات کا جائزہ لیں تو سلمان تاثیر گورنر پنجاب کے ایک ذمہ دار عہدے پر فائز تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئے تھے، کیونکہ ذمہ دار شخصیت کی گفتگو میں بھی ذمہ داری جھلکنی چاہئے۔ 295-C کے قانون کے تحت نبی اکرمﷺ کی توہین کرنے والے کی سزا سزائے موت ہے اور اس قانون کو پارلیمنٹ نے باقاعدہ منظور کیا ہے۔ یہ قانون اس وقت ملک میں نافذ العمل ہے۔ اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ خواہ گورنر ہو یا صدر مملکت یا کوئی عام آدمی ہو، وہ اس سزا کا مستوجب ہوگا۔ کیونکہ گورنر صاحب نے اس پر بیانات دیئے، جو اخبارات اور ٹی وی پر آئے۔ انہوں نے اسے کالا قانون قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک ظالمانہ قانون ہے۔ ان کا یہ عمل پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کی خلاف ورزی ہے۔ جرم کا ارتکاب ہے۔ ان کے خلاف ان بیانات پر قانونی کارروائی ہونی چاہئے تھی جو نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں ممتاز حسین قادری نے اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے اور انہیں توہین رسالت کا مرتکب اور گستاخ رسول سمجھتے ہوئے یہ مبینہ اقدام کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص توہین رسالت کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور پھر کوئی شخص عدالت سے باہر اسے اپنے طور پر سزا دے دیتا ہے جوکہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن اس پر اس کو وہی سزا نہیں دی جاسکتی جو 302 کے تحت عام حالات میں دی جاتی ہے۔ اگر قتل اضطراری حالت میں، فوری اشتعال کی کیفیت میں یا مذہبی جوش و جذبے کے تحت ہو تو ایسی کسی کیفیت میں سزا کی تخفیف ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ممتاز قادری کو 302 کے تحت سزا نہیں سنائی جاسکتی۔

سوال: ممتاز قادری کو کتنی سزا مل سکتی ہے؟

جواب: یہ فیصلہ تو جج کو کرنا ہے۔ ہم بحیثیت ایڈووکیٹ کسی شخص کو، اگر اس نے جرم کیا بھی ہو تو قانون کے اندر جو رعایت اس کے لئے ہے، جو تحفظات اسے حاصل ہیں، ان کے تحت ہم اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیگر عام مقدمات کی طرح جو قانونی تحفظات اسے حاصل ہیں ان کے تحت ہم ممتاز قادری کا دفاع کریں گے لیکن اصل فیصلہ ان ججوں کو کرنا ہے جو اس مقدمہ کی سماعت کریں گے۔ وکیل کا کام تو مقدمہ لڑنا ہوتا ہے، ہم انشاء اﷲ بھرپور طریقے سے ان کا مقدمہ لڑیں گے۔

سوال: گزشتہ روز انہیں دہشت گردی کی عدالت میں لے جایا گیا، جبکہ وکلاء کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ دہشت گردی نہیں ہے؟

جواب: ہمارا یہ دعویٰ اس لئے ہے کہ 780 ایکٹ جو دہشت گردی سے متعلق ہے، اس کے مطابق اگر کوئی شخص بم دھماکہ کرتا ہے اور اجتماعی طور پر ایسا عمل کرتا ہے جس سے بڑے علاقے میں خوف پھیلے تو وہ دہشت گردی ہے لیکن ممتاز قادری کے عمل میں زیادہ سے زیادہ 302 کی دفعہ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی کے معاملات اس واقعہ میں نہیں پائے جاتے کہ ان پر اس ایکٹ کا اطلاق ہو۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی متعلقہ عدالت ممتاز قادری کو پیش کیا گیا تو جج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس معاملے کو دہشت گردی نہ قرار دے۔ ہم اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ ملزم کا اضطراری عمل تھا۔ اس مقدمے کے جو حالات ہیں ان کے تحت دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگائی جاسکتی۔ قتل کی دفعہ 302 ہی لگائی جاسکتی ہے اور یہ تو بعد کی بات ہے کہ اس معاملے میں وہ شخص بری ہوتا ہے یا سزا پاتا ہے، یہ فیصلہ تو عدالت کو کرنا ہے۔

سوال: اسلام آباد بار نے ممتاز قادری کا مقدمہ لڑنے کافیصلہ کیسے کیا؟

جواب: اسلام آباد بار کے تحفظ ناموس رسالت لائرز ونگ نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی جس پر 200 وکلاء کے دستخط تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ممتاز حسین قادری نے ایک نیک مقصد کے لئے قربانی دی ہے اس وجہ سے ہم اسے مفت قانونی مدد فراہم کریں گے۔ بحیثیت مسلمان ہم پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے جو کچھ کرسکتے ہیں، وہ خدمات پیش کریں۔ دوسری جانب یہ بات بھی ریکارڈ پر رہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر ملعونہ آسیہ بی بی سے ملنے کے لئے گئے اور انہوں نے یہ بیان دیا کہ توہین رسالت کا جو قانون ہے وہ کالا قانون ہے اور ظالمانہ قانون کو تبدیل کرانے کے لئے میں پوری کوشش کروں گا۔ اس پر ان کے خلاف اسلام آباد میں باقاعدہ قرارداد منظور ہوئی جس میں سلمان تاثیر کے بیان کی مذمت کی گئی اور اسلام آباد بار میں سلمان تاثیر، عاصمہ جہانگیر اور شیری رحمن کے داخلے پر پابندی لگادی گئی جو اب تک جاری ہے۔ ان کے بیانات کو بار نے بھی توہین رسالت قرار دیا کیونکہ یہ ہمارے بھی ایمان کے بنیادی تقاضے شامل ہے۔

سوال: آپ کی بار کے وکلاء نے یہ فیصلہ کیوں کیا کہ وہ ممتاز قادری کا مقدمہ مفت لڑیں گے؟

جواب: کل جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ملک ممتاز قادری اسلام آباد کی عدالت میں آئے تو وکلاء نے ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قتل بھی گورنر پنجاب کے اس بیان پر ہوا جو انہوں نے توہین رسالت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کے سامنے دیا۔ جس حساس عہدے پر وہ بیٹھے تھے، انہیں اس کی نزاکت کا خیال رکھنا چاہئے تھا۔ سلمان تاثیر کا علم اس معاملے میں اگر کم تھا تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ اس بارے میں علماء سے پوچھتے کہ مجھے کیا بیان دینا چاہئے۔ مشاورت اسی لئے ہوتی ہے۔ انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے تھا کہ اس مسئلہ پر لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ گورنر پنجاب نے ایسا متنازعہ بیان دیا اور پھر اس پر ڈٹے رہے۔ گورنر پنجاب کے بیانات سے پھیلنے والے اشتعال کے سبب ہی ان کے گارڈ نے انہیں قتل کردیا۔ ملک ممتاز قادری کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اپنا وکیل مقرر کریں۔ وکلاء اپنی مفت خدمات خود بھی انہیں دے سکتے ہیں، وہ ماضی میں بھی ایسا کرتے رہے ہیں اور بطور مسلمان ہم یہ اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔

سوال: کیا ممتاز قادری پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانا درست ہوگا؟

جواب: 780-A کی دفعہ وہاں لگتی ہے جہاں خوف و ہراس پھیل جائے۔ اگر کوئی عام قتل ہوتا ہے تو اس پر 780-A کا اطلاق نہیں ہوتا۔ 780-A ملک ممتاز قادری پر اس دلیل کے تحت لگایا گیا ہے کہ اس نے گورنر پنجاب کو قتل کیا ہے جس سے پورے ملک میں دہشت گردی پھیل گئی ہے۔ لیکن ایف آئی آر کے مطابق780-A کا اس معاملے پر اطلاق نہیں ہوتا، یہ میرا نقطہ نظر ہے۔ بصورت دیگر عدالت اس ضمن میں بہتر فیصلہ کرے گی کہ دہشت گردی کی شق لگائی جائے یا نہیں۔ ہمیں یہ معاملہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہئے۔

ملک وحید انجم ایڈووکیٹ، صدر راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار

سوال: آپ نے ملک ممتاز قادری کا وکیل بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟

جواب: میں نے یہ شرف حاصل کیا ہے کہ میں ملک ممتاز قادری کا وکیل بنوں۔ میں خود عاشق رسول ہوں۔ میری بار اور میرے ساتھی وکلاء کی خواہش تھی کہ راولپنڈی بار ممتاز قادری کا مقدمہ لڑے تو بطور صدر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن یہ میرا اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے جو میں انجام دینے جارہاہوں، مجھے اس پر فخر ہے۔

سوال: ملک ممتاز نے تو اعتراف جرم کرلیا ہے؟

جواب: اس نے کوئی اعتراف جرم نہیں کیا۔ پولیس کے سامنے کئے جانے والے اعتراف جرم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب مقدمہ چلے گا تو ہم آپ کو بتائیں گے۔

سوال: کیا یہ کیس دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب: دہشت گردی کا الزام تو لگا سکتے ہیں جب اس کا چالان آئے گا تو ہم دیکھیں گے کہ یہ دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔ انشاء اﷲ ہم اس پر بھی بحث کریں گے۔

سوال: کیا انہیں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے؟

جواب: انشاء اﷲ انہیں پھانسی کی سزا نہیں ہوگی۔