قانون توہین رسالت پر اٹھنے والے اعتراضات کے جوابات

in Articles, Tahaffuz, March-April 2010, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

قانون توہین رسالت پر اٹھنے والے اعتراضات کے جوابات

سوال: قرآن مجید میں کہیں بھی گستاخ رسول کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ انسانوں کا بنایا ہوا خود ساختہ قانون ہے کہ گستاخِ رسول واجب القتل ہے؟

جواب: اگر کبھی ایمان کی پختگی کے ساتھ قرآن مجید بمعہ ترجمہ و تفسیر پڑھا ہو تو معلوم ہوکہ گستاخِ رسول کی کیا سزا ہے۔ صرف اور صرف نام نہاد اسکالروں کی باتیں سن کر یہ کہہ دینا کہ قرآن مجید میں کہیں بھی گستاخِ رسول کو قتل کرنے کا ذکر نہیں ملتا، بہت بڑی نادانی ہے۔

آیئے ہم آپ کے سامنے قرآن مجید کی آیات اور شان نزول سے گستاخِ رسول کا واجب القتل ہونا ثابت کرتے ہیں۔

القرآن: ویوم یعض الظالم علیٰ یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا O یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا O لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جاء نی ، وکان الشیطن للانسان خذولا O

ترجمہ: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی، وائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا (سورۂ فرقان، پارہ 19، آیات 27 تا 29)

تفسیر: تفسیر ابن عباس، تفسیر جلالین اور تفسیر ابن کثیر میں مفسرین ان آیات کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ابی بن خلف کے اکسانے پر عقبہ بن ابی معیط نے سید عالمﷺ کی شان میں گستاخی کی اور حضورﷺ نے اس کو تنبیہ کی کہ اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا۔ حضورﷺ نے بدر کی جنگ کے موقع پر اس کو گرفتاری کی حالت میں قتل کیا تھا۔

القرآن: وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر، انہم لاایمان لہم لعلہم ینتہون O (سورۂ توبہ آیت 12)

ترجمہ: اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔

تفسیر: مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی معرکۃ الآراء تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو کافر ذمی دین اسلام پر ظاہر طعن کرے اس کا عہد باقی نہیں رہتا، وہ ذمہ سے خارج ہوجاتا ہے، اس کو قتل کرنا جائز ہے۔

جو کافر دین اسلام پر ظاہر طعن کرے اس کو قتل کرنا جائز ہے تو جو بدنصیب اﷲ تعالیٰ کے محبوبﷺ کی شان میں گستاخی کرے ایسے شخص کو قتل کرنا کیونکر جائز نہ ہوگا؟

گستاخ رسول مسلمان ہوکر بھی کافر

ارشاد باری تعالیٰ:

القرآن: ولئن سالتہم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب O قل اباﷲ ایاتہ ورسولہ کنتم تستہزنون O ولا تعتذرواقد کفرتم بعد ایمانکم (سورۂ توبہ آیت 66-65)

ترجمہ: اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کہ اﷲ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ہو مسلمان ہوکر۔

تفسیر: تفسیر در منثور اور الصارم علی المسلول میں ہے کہ یہ آیت مبارکہ اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ تبوک کے موقع پر بعض منافقین نے ایسی باتیں کیں جو حضور اکرمﷺ کو اذیت کا باعث بنی مثلا حضرت مجاہد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کی اونٹنی گم ہوگئی تو جناب سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اونٹنی فلاں جنگل میں ہے۔ اس پر ایک منافق بولا محمدﷺ غیب کیا جانیں۔ تب یہ آیات اس کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرمﷺ کے علم غیب میں طعن کرنا بھی رسول ﷺ کی توہین اور علامت کفر ہے۔

القرآن: ان الذین یحادون اﷲ ورسولہ اولئک فی الاذلین O

ترجمہ: بے شک وہ جو اﷲ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں (سورۂ مجادلہ، پارہ 28، آیت 20)

القرآن: انما جزؤا الذین یحاربون اﷲ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف او ینفوا من الارض، ذلک لہم خزی فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم O

ترجمہ: وہ کہ اﷲ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں، ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں، یا زمین سے دور کردیئے جائیں۔ یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب (سورۂ مائدہ، پارہ 6، آیت 33)

جب فسادی کی سزا قتل ہے تو پھر اس سے بڑھ کر فسادی کون ہوسکتا ہے جو حضور اکرم نور مجسمﷺ کی شان میں گستاخی کرکے امت مسلمہ میں فساد برپا کرے، توہین رسالت کا جرم سب سے بڑا جرم ہے لہذا توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل ہے۔

سوال: آپﷺ رحمتہ للعالمین بن کر اس کائنات میں تشریف لائے، آپﷺ نے تو اپنے دشمنوں کو بھی معاف کردیا تھا؟

جواب: بڑی سادگی سے محبت بھرے لہجے میں میڈیا پر اور لبرل سوچ کے مالک یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ حضورﷺ رحمتہ للعالمین بن کر تشریف لائے۔ آپﷺ نے اپنی ذات کے لئے کوئی انتقام نہیں لیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ کی ذات اس کائنات میں رحمت بن کر تشریف لائی جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے سخت سے سخت مخالفین کے لئے بھی عام معافی کا اعلان کیا مگر توہین کے مرتکب ہونے والے افراد کے بارے میں ارشاد فرمایا۔

حدیث شریف: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب سید عالمﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپﷺ نے اپنے سرِ انور پر ’’خود‘‘ (آہنی ٹوپی) پہن رکھی تھی، جب آپﷺ نے اسے اتارا تو ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اﷲﷺ! ابن حنظل (گستاخ) کعبۃ اﷲ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے تو آپﷺ نے حکم دیا اسے قتل کردو (مسلم، کتاب الحج، حدیث نمبر 3312، ص 572، مطبوعہ دارالسلام)

حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف (یہودی) کو کون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت (تکلیف) دی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ! کیا آپﷺ پسند فرماتے ہیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔ آپﷺ نے فرمایا جی ہاں! وہ کعب بن اشرف کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے یعنی حضورﷺ نے ہم کو اوامرنواہی کا مکلف بنادیا ہے اور ہم سے صدقات طلب کرتے ہیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ کعب نے مجھ سے کہا بخدا تم اس کے بعد اس سے بھی زیادہ تنگ پڑ جاؤ گے۔

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے کہا ہم نے اس کی اتباع کی ہے اور اس کا فراق پسند نہیں کرتے حتی کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ کدھر جاتا ہے۔ وہ بہت دیر تک اس کے ساتھ محو گفتگو رہے حتی کہ اس پر قادر ہوگئے اور اس(گستاخ رسول) کو قتل کردیا (بخاری، جلد دوم، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 281، ص 153، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

حدیث شریف: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ بنی نجار سے ایک آدمی جو سورۂ بقرہ اور سورۂ ال عمران کو سیکھ رہا تھا اور کاتب وحی بھی تھا (یہ منافق بارگاہ مصطفوی میں گستاخی کا مرتکب ہوا) اور بھاگ کر اہل کتاب سے جا ملا۔ انہوں نے تعجب کیا ابھی ان کے پاس اسے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ وہ ہلاک ہوگیا لوگوں نے اس کے لئے قبر کھود کر اس میں دفن کردیا۔ صبح ہوئی تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے۔ اسے پھر دفن کیا، اگلے دن زمین نے پھر اسے باہر پھینک دیا، اس سے اگلے دن پھر یہی ہوا۔ اس پر لوگوں نے اسے ایسے ہی بے گوروکفن چھوڑ دیا (مسلم شریف عربی جلد دوم، ص 370، مطبوعہ کراچی)

حدیث شریف: حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک نابینا صحابی کی ام ولد تھی جو نبی کریمﷺ کو سب وشتم کیا کرتی اور بدگوئی کرتی تھی۔ اس کا آقا منع کرتا مگر باز نہ آتی، ڈانٹ ڈپٹ کرتا تب بھی نہ رُکتی۔ ایک رات اس نے حضور اکرمﷺ کی بدگوئی کی اور سب وشتم کرتی رہی۔ پس صحابی رضی اﷲ عنہ نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور دباؤ ڈال کر اسے قتل کردیا۔ چنانچہ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے بچہ بھی برآمد ہوا جس سے وہ خون میں لت پت ہوگئی۔ صبح کے وقت نبی کریمﷺ سے اس بات کا ذکر ہوا تو آپﷺ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا۔ میں ایسا کرنے والے کو اﷲ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے، کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ پس نابینا صحابی کھڑے ہوئے۔ لوگوں کو پھاندتے اور لرزتے ہوئے بڑھے یہاں تک کہ نبی کریمﷺ کے سامنے جا بیٹھے۔ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اﷲﷺ میں اس کا مالک تھا۔ وہ آپﷺ کی شان میں بکواس کرتی تھی، میں منع کرتا تو باز نہ آتی تھی۔ ڈانٹ ڈپٹ کرتا، تب بھی نہ رکتی۔ میرے اس سے دو بیٹے ہیں، موتی جیسے اور میری غمخوار تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپﷺ کو سب وشتم کرنے لگی اور ہجوگوئی (گستاخی) کی تو میں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اس پر دباؤ ڈال کر اسے قتل کردیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا لوگو! گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں گیا (سنن ابو داؤد، کتاب الحدود، رقم الحدیث 4361، ص 613، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)

فائدہ: سرور کونینﷺ کا گستاخ کافر و مرتد ہوجاتا ہے۔ گستاخ رسول ہرگز مسلمان نہیں رہتا۔ وہ اپنی کلمہ گوئی کی اہانت رسول کے باعث خود ہی نفی کردیتا ہے۔ وہ اسلام کے دائرے سے باہر اور ایمان کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے، خواہ دیکھنے والوں کو بظاہر حافظ و قاری و حاجی، مقرر، قاضی، عالم، و فاضل اور مفتی و شیخ القرآن ہی کیوں نہ نظر آئے۔ اس کے تمام اعمال برباد ہیں۔ مرتد واجب القتل ہے۔ حکومت ایسے گندے وجود سے زمین کو پاک کردے جیسا کہ اس حدیث شریف میں خود حضور اکرمﷺ نے اپنی گستاخی کرنے والی عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا اور اس کے قتل کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا گیا لہذا ثابت ہوا کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے۔

سوال: کیا خلفائے راشدین رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور اکابر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نزدیک بھی گستاخِ رسول واجب القتل ہے؟

جواب: جی ہاں! تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نزدیک گستاخِ رسول واجب القتل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

گستاخ رسول صحابہ کرام کی نظر میں

توہین رسالت اور صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو والی یمن حضرت مہاجر بن امیہ کے متعلق خبر ملی کہ وہاں (یمن میں) ایک عورت تھی جو حضور اکرمﷺ کی توہین میں اشعار گاتی تھی تو حضرت مہاجر رضی اﷲ عنہ نے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور اس کے اگلے دانت نکال دیئے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے اسے یہ سزا نہ دی ہوتی تو تمہیں حکم دیتا کہ اس عورت کو قتل کردو۔ کیونکہ انبیاء کرام کی گستاخی کی حد دوسرے لوگوں کی (گستاخی کی) حدود کے مشابہ نہیں ہوتی (کتاب الشفاء ص 222، الصارم علی المسلول ص 194)

توہین رسالت اور فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ

حضرت مجاہد رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا جس نے سرور کونینﷺ کو گالی دی تھی تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسے قتل کردیا پھر فرمایا اﷲ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دے تو اسے قتل کردو۔ (جواہر البحار جلد سوم ص 240، الصارم علی المسلول ص 195)

توہین رسالت اور مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ

امام عبدالرزاق ابن تیمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا جو شخص حضور اکرمﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرے اسے قتل کردیا جائے گا۔

(مصنف: عبدالرزاق جلد پنجم ص 306-307)

حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اور توہین رسالتﷺ

حضرت علی رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کردو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارو (کتاب الشفاء جلد دوم، ص 122، فتاوی خیریہ جلد اول، ص 3)

حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ اور توہین رسالتﷺ

حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک (عیسائی) راہب گزرا جس کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ یہ حضور اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے۔ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا اگر میں اس سے گستاخانہ کلمات سن لیتا تو اس کی گردن اڑا دیتا (جواہر البحار جلد سوم صفحہ نمبر 241، تفسیر مظہری جلد چہارم، ص 191، احکام القرآن جلد سوم ص 85)

ادنیٰ سے بھی ادنیٰ ہو مسلمان تو اس سے

برداشت نہ ہوپائے گی توہین رسالت

ناموس رسالت پر نہ ہو جو مرنے کی خواہش

بیکار ہے بیکار ہے ہر ایک عبادت

حضرت سعد ابن معاذ رضی اﷲ عنہ اور توہین رسالت

حضرت سعد ابن معاذ رضی اﷲ عنہ نے یہود سے فرمایا کہ اگر تم نے دوبارہ بارگاہ رسالتﷺ میں ’’راعنا‘‘ کا لفظ بولا تو میں تمہیں قتل کردوں گا (صاوی جلد اول ص 47، تفسیر خازن جلد اول ص 72) کیونکہ اس لفظ میں توہین رسالتﷺ کاشبہ پایا جاتا ہے۔

آؤ کہ کریں آج سے ہم سب یہ تہیہ

گستاخ نبیﷺ کیفر کردار کو پہنچے

الجھے گا جو عشاق سے مٹ جائے گا آخر

آواز مری دشمن سرکارﷺ کو پہنچے

سوال: کیا علمائے امت کے نزدیک بھی گستاخ رسول واجب القتل ہے؟

جواب: علمائے امت نے اپنے فتاوے میں گستاخ رسول کی سزا قتل تجویز فرمائی ہے۔

:1فتاویٰ قاضی خان میں امام قاضی خان فرماتے ہیں:

کسی شئے میں حضور اکرمﷺ پر عیب لگانے والا کافر ہوجائے گا۔ اسی طرح بعض علماء نے فرمایا اگر کوئی شخص آپﷺ کے بال مبارک کو شعر کی بجائے شعیر (بصیغہ تقصیر) کہے تو وہ کافر ہوجائے گا اور ابو حفص الکبیر سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص حضور اکرمﷺ کے کسی بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کرتا ہے تو وہ بھی کافر ہوجائے گا (فتاویٰ قاضی خان جلد چہارم ص 883)

:2حضرت علامہ امام شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے منقول ہے کہ ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو بھی حضور اکرمﷺ کو گالی دے اس کے قتل کرنے پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے (شرح شفاء شریف جلد چہارم ص 485)

:3امام محمد ابن سخنون علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ حضور اکرمﷺ کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس پر اﷲ تعالیٰ کے عذاب کی وعیدہے۔ پوری امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہے (نسیم الریاض جلد چہارم ص 338)

:4امام ابن ہمام حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو شخص حضور اکرمﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے اور آپﷺ کو گالی دینے والا بدرجہ اولیٰ مرتد ہوگا پھر ہمارے نزدیک اسے بطور حد (سزا) قتل کیا جائے (فتح القدیر جلد سوم ص 407)

5: عثمان بن کنانہ سے مبسوط مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی حضور اکرمﷺ کو گالی دے (نازیبا الفاظ استعمال کرے) اسے قتل کیا جائے گا یا زندہ سولی پر لٹکایا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی (کتاب الشفاء جلد سوم ص 216)

6: امام ابوبکر احمد بن علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

اس مسئلہ میں کسی مسلمان کا اختلاف نہیں کہ جس شخص نے بھی حضور اکرمﷺ کی توہین کی اور آپﷺ کو اذیت پہنچانے کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہو، وہ مرتد ہے اور مستحق قتل ہے (احکام القرآن جلد 3ص 106)

7: علامہ امام ابن عابدین شامی علیہ الرمہ فرماتے ہیں

محیط میں ہے کہ بعض مشائخ کے نزدیک اگر کسی نے حضورﷺ کے شعر (بال) مبارک کو توہین کی نیت سے شعیر کہا تو وہ کافر ہوجائے گا اور بعض مشائخ کے نزدیک اگرچہ توہین کی نیت نہ بھی ہو تو تب بھی قائل کافر ہوجائے گا (رسائل ابن عابدین شامی ص 326، مطبوعہ لاہور)

8: امام قرطبی علیہ الرحمہ تفسیر قرطبی میں لکھتے ہیں

اکثر علماء نے فرمایا کہ ذمی جب حضور اکرمﷺ کو گالی دے یا کسی بھی طریقے سے آپﷺ کی قدرومنزلت کم کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا (تفسیر قرطبی جلد 8ص 83)

9: امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

جو شخص بھی حضور اکرمﷺ کو گالی دے یا آپ کی شان میں گستاخی کرے، وہ مسلمان ہو یا کافر، اسے قتل کیا جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ اس سے توبہ کا کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیا جائے گا (الصارم المسلول ص 296)

10: امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ کتاب الشفاء جلد دوم صفحہ نمبر 29 پر

امام ابن عتاب مالکی علیہ الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قرآن و حدیث اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو بھی حضور اکرمﷺ کی ایذا کا ارادہ کرے یا آپﷺ کی تنقیص کرے اشارتاً یا صراحتاً اگرچہ وہ توہین معمولی سی ہی کیوں نہ ہو تو اس کو قتل کرنا واجب ہے۔

11: تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ فرماتے ہین کہ کوئی بھی شخص جو رسول اﷲﷺ کی ذات عالیہ میں طعن کرے یا آپﷺ کے دین یا آپﷺ کے نسب یا من جملہ صفات میں سے کسی صفت میں یا آپﷺ کی طرف کوئی بھی برائی منسوب کرنے کی وجہ سے آپﷺ کو ایذا پہنچاتا ہے۔ یہ برائی خواہ صراحتاً ہو کنایتاً ہو یا اشارتاً، وہ کافر ہوجائے گا اگر (مسلمان نے ایسا کیا تو مرتد کہلائے گا) یہ کافر و مرتد پر اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اس کے لئے جہنم کا عذاب تیار کررکھا ہے۔

سوال: قانون توہین رسالت ایک فوجی آمر (جنرل ضیاء الحق) کا خود ساختہ قانون ہے، لہذا اس کو ختم کیا جائے؟

جواب: آج کل ہر سیکولر طبقہ خصوصا حکومتی جماعت توہین رسالت پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ یہ قانون ایک فوجی آمر کے دور میں بنا تھا لہذا اس کو ختم کیا جائے۔ یوں تو موجودہ وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے اور ضیاء دور میں وفاقی وزیر بھی رہے۔ آج کی پیپلز پارٹی میں ستر فیصد وہ لوگ شامل ہیں جو جنرل ضیاء الحق کے ساتھی تھے۔ وزراء کی فوج ظفر موج میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ ضیاء الحق اور عام طور پر بات کی جائے تو اسی فیصد سے زیادہ وزراء آمروں کے ساتھی رہے ہیں۔ ضیاء الحق اگر بہت بڑا مجرم تھا تو اس کی مجلس شوریٰ میں شامل رہنے والے کو وزیراعظم اور اس کے دور میں گورنری سے لطف اندوز ہونے والوں کو وزیر بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن سیکولر حضرات کو توہین قانون رسالت برا لگتا ہے تو اس پر ضیاء الحق کی باقیات کا لیبل لگادیتے ہیں اور بات یہیں پر آٹکتی ہے کہ آمر کے دور میں بننے والے قانون توہین رسالت کو ختم کردینا چاہئے۔

قانون توہین رسالت ضیاء الحق کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے۔ یہ اسلامی قانون ہے کہ گستاخ رسول کو سزائے موت دی جائے یعنی اس کو حاکم اسلام قتل کردے۔ یہ قانون کو پاکستان بننے کے ساتھ ہی نافذ ہوجانا چاہئے تھا مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں جناح کے بعد صرف اور صرف سیکولر اور لبرل حکمران نصیب ہوئے جنہوں نے مغرب کو خوش کرنے اور ڈالروں کو حاصل کرنے کے لئے اس قانون کو پس پشت ڈالا۔

پاکستان بننے کے بعد 1980ء میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعہ دفعہ 298/A کا اضافہ کیا گیا جس میں امہات المومنین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا لیکن سید عالمﷺ کی شان میں گستاخی کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔

1985ء کی قومی اسمبلی میں ادارے کے سرپرست اعلیٰ قائداہلسنت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری صاحب، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفی اعظمی، حاجی حنیف طیب اور محترمہ قمر النساء قمر و دیگر حضرات کی کوششوں سے 295/C کا اضافہ کیا گیا جس میں شان اقدس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنایتاً توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرنے کی سزا ’’سزائے موت یا سزائے عمر قید‘‘ مقرر کی گئی جسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں نے مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا۔ اس وقت علمائے اہلسنت کے علاوہ دیوبند، اہلحدیث، شیعہ نمائندوں نیز پارسیوں کے نمائندے ایم پی بھنڈرا، ہندو نمائندے سیٹھ چمن داس، عیسائی نمائندے موجود تھے لیکن کسی نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جبکہ اکتوبر 1990ء فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں سزائے عمرقید کو ختم کرکے ’’سزائے موت‘‘ کو برقرار رکھا گیا کہ اس جرم کی سزا سزائے موت سے کم نہیں۔

2 جون 1992ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہوئی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہئے۔ اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت حکومت کو حکم دے چکی تھی کہ توہین رسالت کی سزا عمر قید کی بجائے موت مقرر کی جائے۔ قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بڑی بحث ہوئی جس کے بعد 295/C کی منظوری ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کے قانون کی تشکیل کے لئے آئینی تحریک قیام پاکستان سے کئی سال قبل مولانا محمد علی جوہر نے شروع کی تھی جب لاہور ہائی کورٹ کے جج کنور دلیپ سنگھ نے ایک قابل مذمت کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کے ناشر راج پال کو محض یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اس کی کتاب مروجہ قانون کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ قصور جج کا نہیں، قانون کا ہے اور یوں توہین رسالت کے لئے قانون سازی کا مطالبہ 1927ء میں شروع ہوا۔ دو سال کے بعد 1929ء میں ایک مسلمان نوجوان غازی علم الدین نے راج پال کو لاہور میں قتل کردیا۔ غازی علم الدین کو سزائے موت دی گئی تو علامہ اقبال نے رہائی کے لئے قائداعظم محمد علی جناح کو وکالت پر آمادہ کیا۔ غازی علم الدین کی پھانسی کے بعد علامہ اقبال نے ان کے جنازے میں شہید کو خراج تحسین پیش کیا۔

سوال: قانون توہین رسالت پر عملدرآمد میں گڑبڑ ہے۔ اس کی آڑ میں جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں لہذا اس قانون کو ختم کیا جائے؟

جواب: یہاں پر درجنوں قوانین کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جن کا غلط استعمال ہوتا ہے، پولیس کا سارا نظام ہی غلط ہے، جگہ جگہ لوگوں پر غلط مقدمات بنائے جاتے ہیں اور وہ سالہا سال تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ کیا اس قانون کو ختم کردینا چاہئے۔

زنا کا قانون یہ ہے کہ عورت شکایت کرے تو زنا ہے۔ کیا اس قانون کا عورتیں غلط استعمال نہیں کررہی ہیں؟ بے شمار ایسے قوانین ہیں جن کا صحیح اور غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ کون سا ایسا قانون ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہورہا؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ملک سے سرے سے قانون ہی ختم کردیا جائے۔

سوال: قانون توہین رسالت 295/C کا نشانہ غیر مسلم خصوصا مسیحی اقلیت کو بنایا جاتا ہے لہذا اس قانون کو ختم کیا جائے؟

جواب: قانون توہین رسالت انصاف پر مبنی اسلامی قوانین کے مجموعے کا نام ہے۔ اس قانون کے تحت مجرم یا ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا اختیار ہے، اس قانون میں کسی پر جھوٹا الزام لگانے والے کے لئے بھی سزا موجود ہے۔ مسیحی قائدین کا یہ کہنا کہ قانون توہین رسالت صرف غیر مسلموں یا صرف مسیحی اقلیت کے لئے ہے، دو وجہ سے غلط ہے۔

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا سردار انبیاء سرور کونینﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالا مسلمان ہو یا کافر، قتل کیا جائے گا۔ اس لئے اس قانون میں صرف غیر مسلموں یا صرف مسیحی اقلیت کی تخصیص نہیں، کافر ہو یا مسلمان، گستاخ رسول واجب القتل ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں سات سو سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے لہذا یہ دعویٰ غلط ہے کہ 295/C کا نشانہ صرف غیر مسلم بنتے ہیں۔

امتناعِ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہوا اور اب تک کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی

Death Punishment on Blaphemy by Lahore High Court

سوال: کیا یورپ یا دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے قوانین ہیں؟

جواب: یورپی ممالک اور اس کے اتحادی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ پاکستان میں قانون توہین رسالت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ وہ پاکستان میں بھی نعوذ باﷲ من ذالک سید عالمﷺ کی ناموس پر ضرب لگالیں۔ اگر وہ اس قانون کو ختم کرانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی منافقت ہے۔

امریکہ اور یورپ میں توہین مسیح کا قانون ہے، امریکہ کی بعض ریاستوں میں توہین مسیح کی سزا موت ہے۔ وہاں پر اس قانون اور اس کی سزا کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ٹھہرتا ہے۔ ہمارے یہاں قانون کی بڑی آزادی ہے۔ برطانیہ میں بھی توہین مسیح پر قانون ہے اور اس کی سزا عمر قید ہے کیونکہ برطانیہ میں سزائے موت ختم ہوچکی ہے۔ سب سے بڑی سزا عمر قیدہے۔ توہین مسیح تو بہت بڑا جرم ہے۔ وہاں پر ان معاملات میں یہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ مدر ٹریسا پر ایک فلم بنی جس میں وہ وجد میں آکر حضرت مسیح (عیسٰی علیہ السلام) کی شبیہ کے بوسے لیتی ہے تو اس فلم کی نمائش پر فورا ہی پابندی لگادی گئی۔ فلم کا معاملہ ہاؤس آف لارڈ میں گیا۔ وہاں اس کی توثیق ہوئی اور وہاں یہ بھی کہا گیا کہ اگر آپ مدر ٹریسا کے حوالے سے بات کررہے ہیں تو آپ توہین مسیح کے قانون کو وسیع کریں اور اسے تمام انبیاء کرام کے لئے رکھیں۔ صرف حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لئے نہیں تو جواب یہ آیا کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ اگر اسلام پر جارحانہ حملہ ہوتا ہے تو ہمارے نزدیک وہ حملہ جائز ہے کیونکہ اسلام ہمارا مذہب نہیں ہے۔

آپ دیکھئے کہ برطانیہ خود کو ایک سیکولر ملک نہیں کہتا بلکہ وہ اپنی شناخت ایک مسیحی ملک کے طور پر رکھتا ہے اس کے پرچم پر صلیب آویزاں ہے۔ فلم بنانے والے یورپی یونین میں گئے۔ وہاں انہیں اجازت نہیں ملی۔ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالتوں نے اس احتجاج کو خارج کردیا اور فلم پر پابندی برقرار رکھی کہ وہ ان معاملات میں دخل نہیں دیں گے کیونکہ یہ برطانیہ کا قانون ہے اور وہ کسی ملک کو اپنا قانون تبدیل کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے لیکن وہ ہمیں کہتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان کا اپنا اصل ہے کہ وہ کتنے مذہبی ہیں اور اپنے معاملات میں کس قدر سخت گیر ہیں، لیکن مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے نبیﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت کا حق نہیں دینا چاہتے۔

یورپ اور قانون توہین انبیاء

پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لاء (Roman Law) کی عملداری تھی۔ چونکہ انجیل میں کوئی قانون احکام موجود نہ تھے لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ (State) پر غلبہ و اقتدار حاصل کرلیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالادستی حاصل ہوگئی۔ تورات کے برعکس انجیل صرف پندونصائح کا مجموعہ تھا۔ اس لئے یورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں، وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لئے اہل کلیسا کو رومی قانون اور یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔

موسوی قانون کے تحت قبل مسیح علیہ السلام کے انبیاء کی اہانت اور تورات کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinain) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528 تا 565 صدی عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کرلیا تو قانون موسوی کو منسوخ کرکے انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام کی بجائے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی۔ اس کے دور سے قانون توہین مسیح سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور اسکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔

روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسر اقتدار آئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتاً خارج کردیا۔ اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جورشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا، اس کی اہانت تو بڑی دور کی بات تھی، اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیئے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور سیاہ کی عقوبتوں کوبھی بھلادیا۔

برطانیہ میں بھی اگرچہ توہین مسیح کی جسمانی سزائے موت موقوف کردی گئی تھی، لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لاء کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ(Blasphemy Act) کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔ مناسب ہوگاکہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف (Definaton)کی بھی وضاحت کردی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہوسکے۔

بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں۔ لاطینی اصطلاح میں خدا کے وجود اور دین مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمو کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لا ڈکشنری (Black’s Law Dictionary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا، یسوع مسیح، انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعہ قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بد کرداری کو فروغ حاصل ہو۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی سان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے ۔ (انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، ج 2، ص 74)

برطانیہ میں توہین مسیح (Blasphemy) کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے، جبکہ بلاس فیمی ایکٹ میں مجرم کے لئے جسمانی موت کی بجائے شہری موت (Civil Death) کی سزا مقرر ہے جس کی رو سے حکومت ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے۔ بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہوگی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔

معروف جج پولاک کے خیال میں بلاس فیمی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو تادیبی موت (Civil Death) کی سزا نہیں دی گئی مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر جج پولاک (Pollock) کی تردید کی ہے۔ ہم برام ویل جج کی تائید میں ڈینس لی مون (Denis Lemon) ایڈیٹر گے نیوز (Gay News) کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیں گے۔ لی مون پر 1978ء میں توہین مسیح کے الزام میں برطانیہ کی عدالت میں کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون پر الزام یہ تھا کہ اس نے حضرت مسیح پر ایک مزاحیہ نظم لکھی ہے جس میں اس نے ان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل دکھلایا تھا۔ اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً (Wilfylly) یا قصداً (Motive) نہیں کیا تھا۔ یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں۔ یہ وہی عذر ہے جو گستاخان رسالت شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا ذکر کلام الٰہی میں آج سے چودہ سو سال قبل ہی کردیا تھا اور انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔

دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:

قل ابااﷲ واٰیاتہ ورسولہ کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ 65)

’’تم اﷲ کے ساتھ ،اس کی آیات کے ساتھ اور اسکے رسولﷺ کے ساتھ استہزا (ہنسی مذاق) کرتے ہو۔ تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا، بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘

لی مون کے مقدمہ میں صفائی کے وکلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز میں ملزم نے مسیح کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے کہ بلاس فیمی یا توہین مسیح کے کیس میں ’’نیت‘‘ یا ’’ارادہ‘‘ غیر متعلق ہیں کیونکہ جو بات جناب مسیح کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت سے ہے جس کی وجہ سے پیروان مسیح کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا، یسوع مسیح اور بائبل کی تضحیک، استہزا، توہین اور تنقیص کا باعث ہو، وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائق تعزیر جرم ہے۔ اس لئے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کردیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس طرح اہانت رسولﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کی استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ بیسوی صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعہ پوری کرکے دکھلادی گئی۔ فیصلہ کا اقتباس برطانیہ کے کثیر الاشاعت روزنامہ THE TIMES LONDON میں 27 اگست 1998ء کو ڈیوڈہالو (David Hollow) نے رپورٹ کیا ہے جو درج ذیل ہے۔

BLASPHEMY AND BIGOTORY

“Sincerity” and an “atmosphere of reverence” are not a sufficient defence against blasphemy. The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of “Gay News” for publishing a poem suggesting that Jesus was a promiscous homosexual established that the intention, or motive, of an artist is irrelevant. It is a question of fact: Is Christian religious feeling “outraged and insulted”?

The law is clear: “Every publication is said to be blasphemous which contains any contemptuous, reviling, scurrilous or ludicrous matter relating to God, Jesus Christ, or the Bible” The law allow you to attack subvert or deny the Christain religion, but not in a way that is “indecent” or “intemperate”

امریکہ اور اس کی اکثر سیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیح کو امریکی آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی نہیں قرار دیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے بڑے دور رس فیصلے دیئے ہیں جو ملک عزیز کے معروضی حالات میں نہایت اہم ہیں۔ یہاں ہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک معرکۃ الآراء فیصلے اسٹیٹ بنام موکس (State Vs. Mokas) سے ضروری اقتباس پیش کریں گے جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بنیادی حقوق سے بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے جو متفقہ فیصلہ دیا ہے اس کی تلخیص حسب ذیل ہے۔

’’اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں، لیکن اسلام، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کی زمام کار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثرورسوخ ہے اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے‘‘ فاضل عدالت نے اپنے بصیرت افروز فیصلہ میں تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے:

’’اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے‘‘

فاضل عدالت نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے ’’صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری، اس کے علاوہ کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب اور عدالتوں کی کارروائی شہادت کا انجیل مقدس پر حلف سے آغاز سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مملکت کے تکون یعنی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا بھی مذہب سے یک گونہ بالواسطہ تعلق ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ریفرنس کا جواب دیتے ہوئے حتمی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق، توہین مسیح کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں۔

یورپ کے قانون داں بلاس فیمی کے قانون کی توجیہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اس قانون کا محرک بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب پر حملہ دراصل ریاست پر حملے کے مترادف ہے۔ ان کی رائے میں اسی وجہ سے اکثر سیکولر ریاستوں میں بھی بلاس فیمی کو قابل تعزیر جرم بنادیاگیا۔

مقتین کی اس منطقی توجیہ اور امریکہ کی سپریم کورٹ کے ناقابل تردید دلائل کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ مملکت خداداد پاکستان، جسے غلامان محمد عربیﷺ نے علیحدہ قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا تھا، جہاں ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے، جہاں پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسولﷺ کے خلاف کوئی فیصلہ صادر نہ کرے اور نہ ہی انتظامیہ کو شرع پیغمبرﷺ سے سرمو اختلاف کی جسارت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کسی کو یہ کھلی اجازت ہے کہ وہ مسلمانوں کے آقا و مولا سرکار ختمی مرتبتﷺ جن کے نام و ناموس پر مسلمان اپنی جان و مال اور ہرچیز قربان کرنے کو حاصل حیات سمجھتا ہے، کی شان میں گستاخی کرے اور قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔

تاریخ کی یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماضی میں برطانیہ، امریکہ، روس اور یورپ کے کسی ملک میں بھی جب تک چرچ اور اسٹیٹ، دین اور ریاست، ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے، اس وقت تک سارے ملکوں میں چرچ کو مملکت پر برتری حاصل تھی اور وہاں یسوع مسیح کی پرستش ہوتی رہی۔ اس کے درپردہ کلیسا کو ملک کے سیاہ وسفید پر اقتدار کلی حاصل تھا، جس نے نشہ اقتدار میں بدمست ہوکر انسانیت پر لرزہ خیز مظالم کئے جس کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں چرچ اور مملکت، دین اور سیاست کی تفریق عمل میں آئی۔ اس لئے ان ملکوں نے سیکولر یعنی لادینی طرز حکومت کو اپنالیا۔ اس کے باوجود ذوق پرستش ختم نہ ہوسکا اوراس نے ایک نئی صورت اختیار کرلی۔ اب یسوع مسیح کی بجائے ریاست کو فیٹش (Fetish) یعنی پوجمان شے بنالیاگیا اس لئے دنیا میں جہاں جہاں بھی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں وہاں ریاست کی مخالفت کو سنگین جرم بغاوت اور غداری قرار دیا گیا۔

آج دنیا کے تمام ملکوں میں خواہ وہ سیکولر ہوں، یا غیر سیکولر، جرم بغاوت کا قانون موجود ہے، جس کی سزا سزائے موت مقرر ہے۔ جو لوگ اس جرم کے الزام میں ماخوذ ہوں، انہیں گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے یا پھر انہیں تختہ دار پر کھینچا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں انہیں گیس چیمبرز یا الیکٹرک چیئر میں بٹھا کر اذیت ناک طریقہ سے ماردیا جاتا ہے اور جس ملک میں اس جرم کی سزا عمر قید ہے وہاں ایسے ملزموں کو عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے بند کردیاجاتا ہے۔ اس قانون کے خلاف آج تک کسی نے لب کشائی نہیں کی تو پھر کیا پاکستان ہی میں جو اس محسن انسانیتﷺ کی نسبت غلامی کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور جن کا نام نامی ہی اس ملک کے قیام اور بقاء کا ضامن ہے، ان کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون توہین رسالت، قابل اعتراض قانون ہے؟؟؟ قانون رسالت پر اعتراض دین و مذہب بلکہ خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے یکسر انکار ہے۔

کرسمس کے موقع پر کیک کاٹتے ہوئے سلمان تاثیر نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں تبدیلی کے مطالبے پر فخر ہے

Salman Taseer says he is proud of demanding change in Blasphemy Law

سلمان تاثیر نے عیسائیوں کی مشرکانہ رسم کرسمس مناتے ہوئے کہا کہ مجھے توہین رسالت قانون میں تبدیلی کے مطالبے پر فخر ہے۔ محترم قارئین! کیا کوئی مسلمان ایسی بات کرسکتا ہے، کیاکوئی مسلمان گورنر ہائوس کے اندر پادریوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کرسمس کے احترام میں اس طرح کا عمل کرسکتا ہے؟ سید عالمﷺ کا کلمہ پڑھنے والے سلمان تاثیر نے کبھی گورنر ہائوس میں اتنے اہتمام کے ساتھ اپنے تین سالہ دور میں عید میلاد النبیﷺ کی تقریب کا انعقاد کیا؟

گورنر پنجاب سلمان تاثیر ملعونہ آسیہ کو چھڑوا کر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے، فتویٰ

Fatwa on Salman Taseer

سلمان تاثیر کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے نہ ہلاکت پر افسوس کیا جائے، علمائے اہلسنت

Muslims Should not attend the funeral of salman taseer

سلمان تاثیر کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے نہ ہلاکت پر افسوس کیا جائے، علمائے اہلسنت

 

بالآخر سلمان تاثیر کو ان ہی کے محافظ نے قتل کردیا

Salman Taseer Killed by Mumtaz Qadri

ممتاز قادری کو ریمانڈ کیلئے ضلع کچہری لایا گیا تو وکلاء نے ان پر پھولوں کی برسات کی اور پھولوں کے ہار پہنائے

 Reception and Warm Welcome of Mumtaz Qadri at Court on first hearing

ممتاز قادری کی حمایت میں ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے اور ریلیاں، خراج تحسین پیش کیا گیا

Rallies in Support of Mumtaz Qadri all over Pakistan

راولپنڈی کے ممتاز عالم دین مفتی محمد حنیف قریشی صاحب فرماتے ہیں میں نے گورنر سمیت کسی کو بھی قتل کرنے کی ترغیب نہیں دی

ناموس رسالت قانون میں حضورﷺ، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسٰی، حضرت عزیر علیہم السلام سمیت تمام انبیاء کرام کی گستاخی کی سزا ’’موت‘‘ ہے

Blasphemy Law, Statement of Mufti Haneef Qureshi

الحمدﷲ! غلامانِ مصطفیﷺ کی کوششوں سے لاہور ہائی کورٹ نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم سے روک دیا

Ammendment in Blasphemy Law Stopped by Punjab High Court

ممتاز قادری نے کہا کہ میرا کسی مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، ممتاز قادری کا تعلق دعوت اسلامی سے جوڑنے کی کوشش

Religious Links of Mumtaz Qadri

ممتاز قادری پر تشدد کیا جارہا ہے، ممتاز قادری دعوت اسلامی کا کارکن نہیں تھا، دعوت اسلامی کے ترجمان کی وضاحت


Torture on Mumtaz Qadri

سلمان تاثیر کی بیٹی کا بیان!  سیکولر پاکستان میرے والد کا خواب تھا

'Secular Pakistan Was Dream of My Father' says Shehar Bano Taseer

بنیادی حقوق کا احترام کی بات کرنیوالے پوپ نے کبھی فلسطین، افغانستان، عراق اور بوسنیا کے مسلمانوں کے بارے میں کبھی بنیادی حقوق کی بات کی

Pope Benedict's staement about Blasphemy Law and Reply by Babar Awan

 

سوال: ملعونہ آسیہ نے جب معافی مانگ لی تھی پھر اسے سزائے موت کیوں دی جائے؟

جواب: اس بات پر علمائے اسلام کا اجماع ہے کہ اگر گستاخِ رسول گستاخی کے بعد توبہ کربھی لے پھر بھی اسے قتل ضرور کیا جائے

امام مصنف سراج الدین ابراہیم بن نحیم حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

قول: اگر کوئی شخص حضور اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہوا، اگر ایسا شخص توبہ بھی کرلے تو بھی اسے قتل کردیا جائے گا اور قتل کو ساقط کرنے میں اس کی توبہ قبول نہ ہوگی خواہ وہ توبہ کرکے آئے یا اس کی توبہ پر شہادت موجود ہو، باقی امور میں وجۂ کفر کوئی اور شے بن رہی ہو تو توبہ کا مسئلہ دیگر ہے، اہانت رسالت میں نہیں۔

(بحوالہ: النہر الفائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ بیرون لبنان جلد تیسری ص 253)

2: بحر الرائق جلد پنجم صفحہ نمبر 125,126 مطبوعہ کوئٹہ، الشیخ امام زین الدین ابن نحیم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

ہر وہ شخص جو رسول اﷲﷺ سے دلی بغض رکھے وہ مرتد ہوگا، اس لئے آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ مرتد ہوگا لہذا ایسے شخص کو قتل کردیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ ہوگی جس کی وجہ سے قتل کو ساقط کیا جاسکے یہی اہل کوفہ (احناف) اور امام مالک کا مسلک ہے۔

3۔ قاضی صاحب مالابد کے صفحہ نمبر 126 پر رقم طراز ہیں:

جو ملعون سرکار دوعالمﷺ کی ذات عالیہ کی شان میں بکواس کرے یا اہانت کا مرتکب ہو یا دینی امور میں سے کسی امر کا یا حضور اکرمﷺ کے حلیہ مبارک میں سے کسی عضو کا یا آپﷺ کے اوصاف میں کسی وصف کا عیب نکالے، ایسا کرنے والا خواہ مسلمان تھا یا ذمی کافر یا حربی اگرچہ یہ سب کچھ اس نے مذاق میں کیا وہ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی اس پر تمام امت کا اتفاق ہے۔

4۔ علامہ امام خیر الدین رملی علیہ الرحمہ فتاویٰ خیریہ صفحہ 103 مطبوعہ بیرون لبنان میں لکھتے ہیں۔ خیر الدین رملی علیہ الرحمہ نے فرمایا جو سرور کونینﷺ کے لئے نازیبا کلمات کہتا ہے، وہ مرتد ہے اور اس کا حکم مرتدین کا حکم ہے (یعنی قتل کیا جانا) اس کی توبہ اصلاً قبول نہ ہوگی نیز اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے جو ایسے شخص کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

5: ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول میں لکھتا ہے

گستاخ رسولﷺ سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اسے قتل کیا جائے گا چاہے وہ اسلامی ملک کا رہنے والا ہو یا نہ ہو۔

6: امام مالک علیہ الرحمہ کا فتویٰ

خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو حضور اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ عراق کے علماء نے شاتم رسول کو کوڑے لگانے کی سزا تجویز کی ہے۔ آپ کا اس مسئلہ میں کیا فتویٰ ہے تو امام مالک علیہ الرحمہ نے غضب ناک ہوکر فرمایا ’’وہ امت زندہ کیسے رہے گی، جو نبی مکرمﷺ کی شان میں سب وشتم (توہین رسالت) پر خاموش رہے جو کسی بھی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔ (کتاب الشفاء جلد دوم صفحہ نمبر 223)

7: امام ابوبکر احمد بن علی الرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

حضرت لیث نے ایسے مسلمان کے بارے میں فرمایا جو نبی پاکﷺ کو گالی دیتا ہے بے شک اس (نام نہاد مسلمان) سے نہ مناظرہ کیا جائے نہ اسے مہلت دی جائے اور نہ ہی اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور اسے اسی مقام پر ہی قتل کیا جائے (یعنی فورا قتل کردیا جائے) اور یہی حکم توہین رسالت کرنے والے یہودی و نصرانی کا ہے (کتاب: احکام القرآن)

سوال: جب گستاخ رسول کی توبہ قابل قبول نہیں تو پھر توبہ کرنے سے کیافائدہ؟

جواب: گستاخ رسول اگر غیر مسلم ہے تو اس کو اس کی توبہ کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور اگر کوئی مسلمان گستاخی سے توبہ کرلے تو اس کو سزائے موت دینے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اس طرح وہ ہمیشہ جہنم میں جلنے سے بچ جائے گا۔

اگر کسی گستاخ رسول نے توبہ نہ کی اور وہ مسلمان تھا تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔

گستاخ کے لئے نار جہنم ہے مناسب

جو آپ سے جلتا ہے وہ جل جائے تو اچھا

سوال: اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو کیا ہوگا؟

جواب: اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو پھر مجرموں (گستاخوں) اور ان کے خلاف مشتعل ہونے والے مدعیوں پر عدالت کے دروازے بند ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ہر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مجرموں سے انتقام لے گا۔ جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی اور یہ ملکی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ہوگا جہاں تک قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو یہ غلط استعمال تو تمام قوانین کا ہورہا ہے۔ انگریز کے بنائے ہوئے تمام قوانین میں خرابی اور سقم موجود ہے اور انہیں غلط طور پر استعمال کیا جارہا ہے مثلا محض FIR کاٹنے پر ملزم کو جیل بھیج دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی نظام میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن و سنت کی واضح تعلیمات پر مبنی قوانین کا نفاذ کیا جائے جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا، حق پرستی و عدل وانصاف جیسی قدروں سے آشنا ہوئی، ان کی شان میں گستاخی کو کوئی مذہب،کوئی معاشرہ برداشت نہیں کرسکتا اور جب بات سید عالمﷺ کے احترام کی ہو جو آج بھی اس گئے گزرے دور میں امت کو متحد رکھنے کا آخری سہارا ہے۔

سوال: اگر یہ قانون ختم ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟

جواب:اگر یہ قانون ختم ہوا تو پھر احتجاج کا ایک طوفان اٹھے گا، ہر گلی سے عاشقان مصطفیﷺ نکلیں گے اور گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے کیونکہ گستاخ رسول کی سزا ’’موت‘‘ پر پوری امت کا اجماع ہے۔ کیونکہ توہین رسالت کا مرتکب مرتد ہوجاتا ہے اور مرتد واجب القتل ہے۔ غلامان مصطفیﷺ صرف گستاخوں کو نہیں بلکہ ان کے حمایتیوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور دنیا نے دیکھا کہ سلمان تاثیر کو انہی کے محافظ ممتاز حسین قادری نے قتل کیا۔ ایسے واقعات پھر معمول کے واقعات بن جائیں گے پھر اس سیلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا جو اس سیلاب سے ٹکرائے گا وہ تہنس نہس ہوجائے گا۔ اسی لئے عافیت اسی میں ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ ملک کی سلامتی اور ملک کی معیشت کی فکر کریں، ان نازک معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں افراد چھوٹے بڑے جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ لاتعداد ہیں جن پر ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، لیکن وہ سال ہا سال سے کال کوٹھریوں میں بند ہیں۔ ان میں سینکڑوں غریب اور بے بس و لاچار خواتین بھی ہیں۔ سلمان تاثیر نے ان سب میں سے صرف ایک خاتون کا انتخاب کیوں کیا جو قانون و انصاف کے پہلے مرحلے سے گزر کر سیشن کورٹ سے سزا پاچکی تھی۔ ابھی اس کے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جانے کی گنجائش موجود تھی اور سلمان تاثیر کو صرف وہی خاتون مظلوم اور ستم رسیدہ کیوں دکھائی دی جس پر توہین رسالت کا الزام تھا؟ صوبے کا آئینی سربراہ ہونے کے ناتے انہیں یہ اختیار کیسے مل گیا کہ وہ نہ صرف معاملے کی حساسیت بلکہ اپنی منصبی ذمہ داریوں سے بھی انحراف کرتے ہوئے شیخوپورہ جیل پہنچیں، اولین مرحلے میں مجرم ثابت ہوجانے والی خاتون کو ساتھ بٹھائیں اور وہ کچھ کہیں جو کچھ انہوں نے کہا؟ کیا آج تک پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی وزیراعظم، کسی وزیراعلیٰ، کسی صدر مملکت اور کسی گورنر نے ایسا کیا ہے؟ کیا کسی دوسرے ملک میں بھی اس طرح کی کوئی نظیر ملتی ہے؟ اور پھر انہوں نے قانون توہین رسالت کے بارے میں انتہائی ناتراشیدہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے خود آسیہ بی بی سے ایک درخواست وصول کی اور اعلان کیا کہ وہ صدر زرداری سے اس کی سزا معاف کرائیں گے۔ باقاعدہ ٹی وی کیمرے سجاکر کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سوموٹو نوٹس لے کر آسیہ کی سزا ختم کریں۔ اس کے بعد بھی انہوں نے درجنوں بار یہی کچھ ہدرایا۔ لبرل فاشسٹوں کی ستائشی تالیوں میں انہیں اندازہ ہی نہ ہوپایا کہ وہ کس راہ پر چل نکلے ہیں اور ان کا بے ڈھب رویہ پاکستانیوں کے دلوں میں کیسے چرکے لگا رہا ہے۔

پاکستان میں صرف ناموس رسالتﷺ ہی کا قانون نہیں، یہاں تو صدر کے ناموس، گورنر کے ناموس، پاکستانی پرچم کے ناموس، عدلیہ کے ناموس، فوج کے ناموس اور نہ جانے کس کس کے ناموس کے قوانین بھی موجود ہیں۔ صدر اور گورنر کے ’’ناموس‘‘ کو اتنا کڑا تحفظ دیا گیا ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ یا کرلیں، انہیں عدالت میں نہیں لایا جاسکتا۔ فوج کے ناموس کی بے حرمتی کے جرم میں جاوید ہاشمی برسوں جیل میں سڑتا رہا۔ عدلیہ اپنے ناموس پر خراش آنے کا محاسبہ خود کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ کیا یہ کالا قانون نہیں کہ صدر اور گورنر کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور انہیں کٹہرے میں نہ لایا جاسکے؟ کیا اسلامی ملک میں ایسا قانون ہونا چاہئے؟ جہاں بھانت بھانت کے ’’کالے قوانین‘‘ کی کارفرمائی ہو اور بڑے بڑے منصب دار ان کا قوانین کو اپنے کرتوتوں کی پناہ گاہ بنائے بیٹھے ہوں، وہاں نہ جانے کیوں سلمان تاثیر کی نظر میں ناموس رسالتﷺ ہی کا قانون کانٹے کی طرح کیوں کھٹکا اور انہوں نے پاکستانی قوم کے جذبہ و احساس کی پرواہ کئے بغیر ایک ایسی مہم اٹھائی جو کروڑوں دلوں میں گھاؤ ڈال گئی؟

اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ مغرب نے نبی کریمﷺ کی حرمت و عظمت سے کھیلنے کو ایک مشغلہ بنالیا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی مکروہ واردات ہوتی رہتی ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیم نسرین جیسے مکروہات کو انہوں نے ہیرو قرار دے کر تکریم و تعظیم کی مسندوں پر بٹھا رکھا ہے۔ ان کے سینوں پر انہوں نے تمغہ ہائے فضیلت سجا رکھے ہیں۔ مسلمان اس رویئے پر انگاروں پر لوٹتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔ اندرون ملک کسی غیر محتاط شخصیت کی طرف سے کسی ناروا عمل کا ردعمل اس لئے شدید ہوتا ہے کہ آتش کدہ پہلے ہی دہک رہا ہوتا ہے۔ اس ساری صورت حال کو مجموعی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اگر یہاں انتہا پسندی اور جنون کی کارفرمائی ہے تو صرف داڑھیوں اور پگڑیوں تک محدود نہیں، وہ لبرل فاشسٹ بھی ذمہ دار ہیں جو نبی کریمﷺ کے مقام بلند کا شعور ہی نہیں رکھتے اور گز گز بھر لمبی زبانیں نکال کر انگارے اگلتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ کسی جرم کو کسی دوسرے جرم کا جواز نہیں بنایا جاسکتا لیکن تانگے میں جتے گھوڑے کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھا کر صرف ایک ہی رخ پہ دیکھنا بھی تو قرین انصاف نہیں۔

اسلام اور مسلمانوں کے دشمن امریکی ارکان کانگریسی، یورپی یونین کا مطالبہ

Demand of American Congress and Europian Union

٭ امریکی ارکان کانگریسی اور یورپی یونین نے اپنے بیان میں سلمان تاثیر، عیسائیوں اور قادیانیوں کی نام لے کر حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ تاثیر کے قتل کے حامی پاکستانیوں کو امریکہ کا ویزا نہ دیا جائے۔ ہمارا سوال ہے انسانی حقوق کے چمپئن امریکی ارکان کانگریس اور یورپی یونین سے کہ کیا کبھی آپ لوگوں نے مظلوم فلسطین کی حمایت کی جنہیں ظالم اسرائیلی یہودیوں نے دباکر رکھا ہے، ہمیشہ سے ڈرا دھمکا کر رکھا ہے؟ اور جب تاجدار کائناتﷺ کی ناموس کی بات آئی تو فوراً انسانیت یاد آگئی؟

وزیراعظم اور سیکریٹری اطلاعات کے بیانات میں تضاد

Contradictory Statements of Prime Minister and Secretary Information of Blasphemy Issue

اسی18 جنوری کو فوزیہ وہاب نے قانون توہین رسالت میں مرحلہ وار ترمیم کا یقین دلایا، وزراء کے بیانات میں تضاد کیوں؟

وزیراعظم کے بیان کے باوجود قانون توہین رسالت میں ترمیم کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی کو تحلیل کیوں نہیں کیا گیا

Committee Made for Amendments in Blasphemy Law still exists

٭ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جب یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون توہین رسالت میں ترمیم نہیں ہورہی تو پھر صدر پاکستان نے اب تک ترمیم کے لئے بنائی گئی کمیٹی کو تحلیل کیوں نہیں کیا؟ ترمیم سے متعلق شیری رحمن کا بل قومی اسمبلی میں اب تک کیوں موجود ہے؟ اسے واپس کیوں نہیں لیا گیا؟ جبکہ دوسری جانب سیکریٹری وزیر اطلاعات فوزیہ وہاب قانون توہین رسالت میں مرحلہ وار ترمیم کی باتیں کیوں کررہی ہیں؟