پاپائے اعظم! اپنی حدوں میں رہیں

عیسائیوں کے روحانی پیشوا، پاپائے اعظم پوپ بینڈکٹ نے فرمان جاری کیا ہے کہ ’’پاکستان کے حکمران حوصلہ کریں، آگے بڑھیں اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرکے آسیہ بی بی کو فوراً رہا کریں۔ ’’سال نو کی روایتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ناموس رسالت قانون کے ذریعے مذہبی آزادی کا حق چھینا جارہا ہے اور یہ اقلیتوں کے خلاف جبر کا ایک ہتھیار بن گیا ہے۔ دنیا بھر کے ایک سو ستر ملکوں سے آئے سفارتکاروں کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے پوپ نے مصر، عراق، نائجیریا، سعودی عرب اور چین میں مذہبی آزادی خصوصاً عیسائیوں کے جان و مال کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

عزت مآب پوپ بینڈکٹ ایک بڑے مذہب کے مبلغ اعظم ہیں لیکن اسے المیہ ہی کہنا چاہئے کہ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے حوالے سے ان کے دماغ میں کدورت کے جالے تنے ہیں اور ان کے دل پر میل کی تہیں جمی ہیں۔ کوئی سوا چار سال قبل، 12ستمبر 2006ء کو بھی انہوں نے ایسی ہی ٹھوکر کھائی تھی۔ تب انہوں نے ایک یونیورسٹی میں خطبہ دیتے ہوئے اسلام کے تصور جہاد کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ایک بازنطینی بادشاہ کا ایسا قول دہرایا تھا جس میں حضور پاکﷺ کی شان میں مکروہ نوعیت کی گستاخی کی گئی تھی۔ وہ ایسے ناتراشیدہ الفاظ تھے کہ انہیں یہاں نقل کرنا بھی ممکن نہیں۔ پاپائے اعظم نے اس قول سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ پیغمبر اسلام نے، اپنا نظریہ تلوار کے زور پر پھیلایا۔ ان کے خطاب کا نفس مضمون یہ تھا کہ ’’اسلام طاقت آزمائی، جبر، زیادتی اور زور زبردستی پر یقین رکھنے والا نظریہ ہے۔‘‘ اس وقت ان کی تقریر پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ بیشتر اسلامی ممالک میں مظاہرے ہوئے۔ پانچ دن بعد، 17ستمبر 2006ء کو پاپائے اعظم اپنے دربار کی بالکونی میں نمودار ہوئے اور نیم دلانہ سی معذرت کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے صرف کسی اور کے قول کا حوالہ دیا تھا، وہ میرے اپنے الفاظ نہ تھے۔‘‘ کون پوچھتا کہ عالی جناب! آپ کو دنیا بھر کے ذخیرہ ارشادات و فرمودات میں سے صرف وہی قول کیوں پسند آیا جس کے ایک ایک حرف سے تعفن اٹھ رہا تھا؟

ایک بار پھر پوپ بینڈکٹ نے اپنے منصبی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون ناموس رسالت پر ناروا تبصرہ کیا ہے۔ وہ یہ بنیادی بات بھی بھول گئے کہ ہر مذہب اپنے عقائد و نظریات اور برگزیدہ مذہبی ہستیوں کے حوالے سے تقدس و حرمت کا مخصوص دائرہ رکھتا ہے۔ یہ دائرہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ یہ اصول دنیا کے ہر مذہب پر لاگو ہوتا ہے۔ اللہ کی آخری کتاب اور اللہ کا آخری رسولﷺ، اسلامی عقائد و تعلیمات کے دو بنیادی ماخذ ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں عمومی زندگی کے ضابطے، قاعدے اور قوانین وضع کرنا ہمارے مفسرین، محدثین، فقہا، علما اور اہل حکمت و دانش کا کام ہے، جس طرح عیسائیت کے بارے میں مسلم علماء کی کوئی رائے، کسی عیسائی کیلئے قابل قبول نہیں اور نہ ہی کسی مسلم عالم دین کو عیسائیوں کی دلآزاری کا حق حاصل ہے، اسی طرح کسی عیسائی پیشوا کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلامﷺکے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کرے اور یہ بھی کہ اگر اس جمہوری اصول کو سند کا درجہ حاصل ہے کہ قانون سازی کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمانوں کو ہے تو پاکستان کے بارے میں یہ استثنیٰ کیوں؟

عیسائیت کے پیشوائے اعظم کو اگر تہذیبوں کے مابین ہم آہنگی، انسانوں کے درمیان خیر سگالی اور امن عالم سے دلچسپی ہے اور وہ خلوص دل سے تحمل، برداشت اور رواداری کے جذبوں کا فروغ چاہتے ہیں تو انہیں ایک نظر ان ممالک پر بھی ڈال لینی چاہئے جہاں ان کے پیروکاروں کی حکمرانی ہے اور جہاں ان کے کروڑوں عقیدت مند بستے ہیں۔ کیا پوپ بینڈکٹ کو خبر ہے کہ تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ کہاں سے پھوٹا؟ کس نے اسے ایک باضابطہ فلاسفی کے طور پر پیش کیا اور تقسیم کی لکیر ابھاری؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ کون ہیں جنہوں نے برس ہا برس سے مسلم بیزاری اور اسلام دشمنی کو اپنی پالیسیوں کا جزو اعظم بنا رکھا ہے؟ کیا پاپائے اعظم کو خبر ہے کہ بیسیوں ممالک پر محیط ان کی مذہبی سلطنت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا رویہ اپنایا جارہا ہے؟ کہیں وہ اپنی مساجد کو مساجد نہیں کہہ سکتے۔ کہیں وہ مینار اور گنبد نہیں بناسکتے۔ کہیں نقاب اور حجاب کو نشانہ عتاب بنایا جارہا ہے۔ کہیں مسلم خواتین سکارف نہیں لے سکتیں۔ کہیں داڑھی کا ناتا دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کسی کے نام میں اسم محمد کا شامل ہونا، اس کیلئے جرم بنا دیا گیاہے۔ امریکہ میں قانوناً مکمل مذہبی آزادی سہی لیکن مسلمان گراؤنڈ زیرو کے نواح میں ایک ایسا کمیونٹی سینٹر نہیں بنا سکتے جس کے ایک کمرے میں نماز کی سہولت رکھی گئی ہو۔ پوپ بینڈکٹ کے مقلدین کھلے بندوں کہہ رہے ہیں کہ ’’یہاں دہشت گردوں کو عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘

جناب پاپائے اعظم! نائن الیون کے فوراً بعد آپ ہی کی پیشوائی کا دم بھرنے والے فرعونی مزاج حکمران نے مسلمانوں کے خلاف یلغار کو ’’کروسیڈ‘‘ کا نام دے کر اس بغض اور عناد کا مظاہرہ کیا تھا جو غالباً آپ کے دل و دماغ میں بھی بِس گھول رہا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ افغانستان میں اترنے والے آپ کے پیروکاروں نے تورا بورا، قلعہ جنگی اور دشت لیلیٰ میں انسان دوستی، مذہبی رواداری اور امن و آشتی کے کیسے کیسے لالہ و گل کھلائے؟ آپ کے شیدائی کوفہ و بغداد کے گھروں اور گلی کوچوں میں کیا کھیل کھیلتے رہے ہیں؟ آپ کو فلوجہ کے وہ معصوم بچے یاد ہیں جن کے سینے گولیوں سے چھلنی کردئیے گئے اور ان کی ماؤں نے انہیں گھروں کے باغیچوں میں دفن کردیا؟ آپ کو علم ہے کہ دجلہ و فرات کا پانی کیوں خوں رنگ ہوگیا تھا؟ کیا آپ کو کسی نے بتایا کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے گذشتہ دس سالوں میں کم و بیش بیس لاکھ انسان قتل کر چکے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غارت گری کے اس مکروہ کھیل پر بیس ارب ڈالر ماہانہ خرچ کررہا ہے؟ کیا آپ کو کسی نے ڈرون حملوں کے بارے میں بتایا جو ہر روز بے گناہ مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلتے ہیں؟ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہے۔ پاکستانی آئین کے تحت قانون و انصاف کے مروجہ نظام کے تحت اس کا فیصلہ ہوگا لیکن آسیہ کی اطلاع دینے والے مخبر نے آپ کو عافیہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جو صرف مسلمان بیٹی ہونے کے سبب امریکی عقوبت خانوں میں پڑی ہے؟ آپ کو ، ابو غریب کی فاطمہ کے بارے میں کچھ علم نہیں؟ آپ نہیں جانتے کہ امریکی حراست گاہوں میں قرآن کریم کی کیسی کیسی بے حرمتی ہوئی؟ کیا آپ اس وحشت ودرندگی سے بے خبر ہیں جس کا نشانہ فلسطین کے مسلمان بنے ہوئے ہیں اور کیا آپ نہیں جانتے کہ اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست، سب سے بڑا پشتیبان آپ ہی کا پیروکار ہے؟

مصر نے پوپ بینڈکٹ کے بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ویٹی کن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے مصری ترجمان نے کہا کہ ہم کسی کو اپنے ذاتی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہمارے وہ حکمران خاموش ہیں جنہیں پوپ بینڈکٹ نے براہ راست مخاطب کیا ہے۔ ہم ایک ایسی بے درد و دیوار سی ریاست بن چکے ہیں جس کے کوئی ’’اندرونی معاملات‘‘ ہیں ہی نہیں۔ نہ کوئی دیوار ، نہ کوئی فصیل خودی۔ کیا ہمارا دفتر خارجہ پاپائے اعظم کو دو ٹوک جواب نہیں دے سکتا۔‘‘