ملعونہ آسیہ کا مسئلہ دراصل کیا تھا؟

in Articles, Tahaffuz, March 2011, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

محمدﷺ کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے

اسی میں گر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

الحمدﷲ! ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی نعمت اور مرکزِ محبت حضور اکرم نور مجسمﷺ کی ذات ہے۔ آپﷺ کی محبت و الفت ہمارے ایمان کی اساس ہے۔ ایک مسلمان اپنے متعلق، اپنے والدین کے متعلق حتی کہ اپنے بچوں کے متعلق تو ہر غلط بات برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے آقا ومولیٰ جان کائناتﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ آپﷺ کی ذات بابرکات تو بہت ہی بلند و بالا ذات ہے۔ آپﷺ سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی بھی بے ادبی اور گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔

گزشتہ کچھ ماہ سے وطن عزیز میں ایک واقعہ زیر بحث ہے اور وہ واقعہ آسیہ نامی عیسائی عورت سے متعلق ہے جس نے 14 جون 2009ء بروز اتوار شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخی کی تھی، جس کی مکمل داستان آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ کو اس واقعہ کی مکمل آگاہی حاصل ہوجائے گی۔

آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی چک نمبر 3 گ ب تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کردار پورے گاؤں میں قابل اعتراض مشہور ہے۔ مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سرعام قابل اعتراض گفتگو کرتی ہے۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ ہوئی تھی۔ جس سے اس کے خاوند کے تین بچے موجود ہیں۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے کی امیدواری ہوئی اور زچگی کے دن قریب آئے تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کرنے اس کے گھر آگئی۔ اپنی بہن کے گھر چند دن رہائش کے دوران اس کے خاوند (جوکہ اب آسیہ کا بھی خاوند ہی بن چکا ہے) سے ناجائز تعلقات قائم کرلئے اور حاملہ ہوگئی۔ والدین نے حمل چھپانے کی غرض سے شادی کرنا چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق مسیح کے سوا کسی اور سے شادی کروانے سے انکار کردیا بلکہ بغاوت کرکے زبردستی عاشق کے گھر رہنے لگی اور عاشق اپنی بیوی کے گھر موجود ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر کرنے لگا۔ اس پر بیوی نے سخت احتجاج کیا تو عاشق نے مار پیٹ کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اب اصل بیوی، بے گھر اور سالی گھر والی بن کر زندگی گزارنے لگی۔ (ایسی حرکت پر ہی پنجابی میں کہا جاتا ہے ’’اگ لین آئی تے گھر دی مالک بن بیٹھی) عیسائی مذہب میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں، لیکن آسیہ نے اہل دیہہ اور برادری والوں کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے جانے سے انکار کردیا۔ آسیہ اور عاشق کے اس خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے بھی سخت احتجاج کیا اور ان کا معاشرتی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی اور شادی کا سوانگ رچا ڈالا۔ دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے برعکس عاشق نے آسیہ سے نام نہاد شادی کرلی اور دونوں بہنوں کو اکھٹا اپنے گھر آباد کرلیا جوکہ آج بھی دونوں حقیقی بہنیں عاشق کے گھر آباد ہیں۔ آسیہ قدرے پڑھی لکھی اور ’’روشن خیال‘‘ عورت ہے۔ اسی روشن خیالی کی وجہ سے این جی اوز کی آنکھ کا تارا بن گئی اور علاقے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرنے لگی۔ دیہات میں چونکہ عورتیں کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں، آسیہ نے یہ طریقہ بنا رکھا تھا کہ عورتوں کے ساتھ مزدوری کے بہانے چلی جاتی اور اپنے ساتھ کام کرتی، عورتوں کو باتوں باتوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرتی۔

اسی معمول کے مطابق 14-6-2009 کو گاؤں کی عورتیں ادریس نامی زمیندار کے کھیتوں میں فالسہ کے باغ میں فالسہ توڑنے گئیں، آسیہ بھی ان عورتوں میں موجود تھی۔ عورتیں عام طور پر دوپہر کا کھانا ساتھ ہی کھیتوں میں لے جاتی ہیں۔ جب عورتیں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھیں تو آسیہ نے مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے گلاس میں پانی پی لیا۔ انہوں نے اس کے جھوٹے گلاس میں پانی پینے کی بجائے اپنا سالن والا برتن خالی کرکے اس میں پانی پی لیا۔ اس بات کو آسیہ نے اپنی توہین سمجھ کر دونوں بچیوں کے ساتھ توتکار کرکے مذہبی گفتگو شروع کردی۔ دوران گفتگو آسیہ نے نبی اکرمﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ جن کا خلاصہ اس طرح سے ہے۔

’’تمہارے نبی موت سے ایک ماہ قبل سخت بیمار پڑے رہے۔ حتی کہ تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں (نعوذ باﷲ) کیڑے پڑگئے تھے۔ تمہارے نبی نے مال و دولت کے لالچ میں خدیجہ سے شادی کی اور مال و دولت بٹورنے کے بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ قرآن اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود سے بنائی گئی کتاب ہے‘‘

یہ باتیں مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے علاوہ یاسمین دختر اﷲ رکھا اور کھیت میں موجود دیگر کئی عورتوں نے سنیں تو مسلمان عورتوں کا مشتعل ہونا ایک فطری عمل تھا۔ انہوں نے آسیہ کو اپنا منہ بند رکھنے اور اپنے الفاظ واپس لینے کی بابت کہا، آسیہ کے انکار پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ جھگڑے کا شور سن کر کھیت کا مالک ادریس اوراس کی بیوی جو قریبی ڈیرہ پر موجود تھے، موقع پرآگئے۔ معاملہ سنا اور آسیہ نے مذکورہ بیان شدہ الفاظ کا کہنا تسلیم کیا۔ ادریس نے اسے اپنے کھیتوں میں سے چلے جانے کاکہا تو وہ چلی گئی۔ مسلمان عورتوں نے گاؤں پہنچ کر یہ بات اپنے اپنے گھروں میں کی تو گاؤں میں اشتعال پیدا ہوگیا اور گاؤں کے معزز افراد پر مشتمل پنچائیت اکھٹی ہوئی جس میں عیسائی لوگ بھی موجود تھے۔ آسیہ کو بلاکر مذکورہ گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ان الفاظ کا کہنا تسلیم کیا اور معافی بھی مانگی۔ اس پر گاؤں میں مزید اشتعال پیدا ہوگیا۔ اور لوگ آسیہ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے۔ گاؤں کے نمبردار نے گاؤں والوں کو سمجھایا کہ اس نے جو جرم کیا ہے، اس کی سزا موت ہی ہے۔ جو عدالت اسے دے گی، تم اسے قتل کرکے کیوں اپنے ذمے جرم لیتے ہو اور اس طرح قتل کردیئے جانے سے دیگر ممالک میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا بھی اندیشہ ہے۔ مناسب ہے کہ اسے قانون کے حوالے کردیا جائے۔ نمبردار صاحب کے سمجھانے پر گاؤں والوں نے اس کے خلاف قاری محمد سالم کی مدعیت میں تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں برائے اندراج مقدمہ درخواست گزاری تو 19-6-2010 کو پولیس نے مقدمہ نمبر 326/09 بجرم 295/C درج کرکے تفتیش محمد ارشد ڈوگر SI کے سپرد ہوئی۔ جس نے ریڈ کرکے ملزمہ کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا اور اس کا ڈاکٹری معائنہ کرانے کی استدعا کی لیکن ملزمہ نے ڈاکٹری معائنہ کرانے سے انکار کردیا۔ ملزمہ سے کوئی برآمدگی مطلوب نہ ہونے کی بناء پر اسی دن اسے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرکے جوڈیشل جیل شیخوپورہ بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی اطلاع جب RPO شیخوپورہ رینج کو ہوئی تو اس نے اس مقدمہ کی حساسیت کے پیش نظر بروئے چٹھی انگریزی نمبری 18523-26/Leagalمورخہ 24-6-2009 اس کی تفتیش سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ کے سپرد کردی۔ سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ نے مثل مقدمہ طلب کرکے ملاحظہ کی اور فریقین کو مورخہ 29-6-2009 کو اپنے دفتر طلب کیا۔ 29-6-2009 کو مدعی فریق کی جانب سے گواہان FIR سمیت 27 افراد نے جبکہ ملزمہ کی جانب سے 4 افراد نے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ وہاں پر ملزمہ آسیہ کے خاوند عاشق مسیح نے آسیہ کی برحلف صفائی دینے سے انکار کردیا۔ فریقین کے بیانات سنے جوکہ ضمنی نمبر 3 مرتبہ مورخہ 29-6-2009 میں مفصل درج ہیں۔ بیانات سننے کے بعد ضمنی نمبر 3 پہرہ نمبر 12 میں لکھا کہ ’’معاملہ سنگین ہے، ریڈر خود کو حکم کیا کہ ادریس نامی کاشتکار جس کے کھیتوں میں وقوعہ ہوا ہے، اسے بھی طلب کیا جائے اور ملزمہ جیل میں بند ہے۔ اس سے ملاقات کے لئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست لکھی جائے‘‘ مورخہ 4-7-2009 کو محمد ادریس مذکور نے SP انویسٹی گیشن کے روبرو پیش ہوکر اپنا مفصل بیان ریکارڈ کروادیا جوکہ ضمنی نمبر 4 مرتبہ 4-7-2009 میں مفصل درج شدہ ہے۔ محمد ادریس نے بتایا کہ وقوعہ کے بعد گاؤں میں حاجی علی احمد کے ڈیرہ اکھٹا ہوا جہاں لوگوں کی موجودگی میں ملزمہ نے حضور پاکﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے کا اعتراف کیا۔ جبکہ اسی دن ریڈر SP انویسٹی گیشن نے علاقہ مجسٹریٹ صاحب کی خدمت میں ملزمہ سے جیل میں دریافت حالات کرنے کی اجازت طلب کی جو اسی دن اجازت دے دی گئی تو مورخہ 6-7-2009کو SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ معہ عملہ متعلقہ، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچا، ملزمہ آسیہ سے جیل کے اندر ملاقات کرکے دریافت حالات کی اور اپنی مرتبہ ضمنی نمبر 5 پہرہ نمبر 5 میں لکھا کہ ’’مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں مسمات آسیہ بی بی کا حضور پاکﷺ کی شان میں اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے جو مقدمہ ہذا میں صحیح گنہگار پائی گئی ہے‘‘ اپنی تفتیش مکمل کرکے ملزمہ کو گنہگار لکھ کر مثل واپس تھانہ صدر ننکانہ صاحب ارسال کردی۔ جہاں سے مورخہ12-7-2009 کو محمد ایوب I/SHO تھانہ صدر نے حالات تفتیش مقدمہ کی روشنی میں ملزمہ کو گنہگار قرار دے کر مثل چالان مقدمہ مکمل کرکے ہمراہ بیانات گواہان متعلقہ دفتر میں جمع کرادیا۔ جوکہ معمول کے مطابق 14-9-2009 کو چالان عدالت میں پہنچا اور سماعت جناب نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب کے سپرد ہوئی۔ 3-10-2009 جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ پر فرد جرم عائد کرکے مقدمہ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا۔ استغاثہ کی طرف سے جناب میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ جبکہ ملزمہ کی طرف سے وکلاء کا ایک مضبوط پینل جن میں ایس کے چوہدری، سید رشید حسین اور میاں محمد اجمل ایڈووکیٹس شامل ہیں عدالت میں پیش ہوتا رہا۔ پرائیویٹ گواہان ہر تاریخ پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے رہے لیکن کبھی وکلاء کی ہڑتال اور کبھی معزز جج صاحب کی چھٹی کی وجہ سے کئی ماہ تک گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہوسکے۔ بالاخر 1-6-2010 گواہان استغاثہ قاری محمد سالم، مافیہ بی بی، عاصمہ بی بی، محمد افضل نے 15-6-2010 کو محمد رضوان SI نے، 6-7-2010 محمد ارشد سب انسپکٹر (تفتیشی افسر) اور سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ (تفتیشی افسر) نے 1-10-2010 کو محمد ادریس (جس کے فالسہ کے باغ میں وقوعہ ہوا تھا) نے بطور گواہ عدالت میں پیش ہوکر اپنا اپنابیان قلمبند کروایا۔ جبکہ 20-10-2010 کو ملزمہ کا بیان ریکارڈ ہوا۔ کئی ماہ تک مقدمہ زیر سماعت رہا۔ اسی دوران ملزمہ نے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواست ہائے ضمانت پیش کیں جونامنظور ہوئیں۔ سماعت مکمل ہونے پر ملزمہ گناہ گار ثابت ہوگئی تو مورخہ 8-11-2010 کو جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سنادی۔ ملزمہ کے وکیل رائے اجمل ایڈووکیٹ نے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جناب نوید اقبال صاحب نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران مجھے کوئی تعصب نظر نہیں آیا۔ ملزمہ آسیہ کے دفاع میں شہادت کمزور ہونے کی بناء پر میں نے شہادت عدالت میں پیش نہیں کی۔ وکیل موصوف کا یہ بیان مورخہ 26-11-2010 ملکی اخبارات میں شائع ہوا۔ مکمل پولیس ریکارڈ جس میں مدعی، گواہان، ملزمہ اور پولیس کے مفصل بیانات لگے ہوئے ہیں اور مفصل عدالتی فیصلہ جس میں پورے مقدمہ کا خلاصہ اور حالات و واقعات بیان کرنے کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے، کی فوٹو اسٹیٹ کاپی میرے پاس موجود ہے جس کی روشنی میں یہ تحریر تیار کی جارہی ہے۔

اگلے دن معمول کے مطابق یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو میڈیا میں شور برپا ہوگیا جوکہ آج تک جاری ہے۔ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر صاحب اس سلسلہ میں بہت پیچ و تاب کھارہے ہیں۔ 20-11-2010 کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے اپنی بیٹیوں اور بیوی کو ساتھ لے کر جیل کے اندر ملزمہ سے ملاقات کی۔ ملزمہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کی۔ پولیس اور عدلیہ کی کئی ماہ کی انکوائری اور تحقیقات پر بیٹھے بٹھائے قلم پھیر کر ملزمہ کو بے گناہ قرار دے دیا اور اسے جلد ہی بری کردیئے جانے کی نوید سنا کر اور ایک درخواست پر دستخط کروا کر چلے گئے۔ میڈیا پر یہ خبربھی آچکی ہے کہ ملزمہ کو شیخوپورہ جیل سے کہیں اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایف آئی آر

ابتدائی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری نمبر 15682326/9 تھانہ صدر ننکانہ ضلع ننکانہ صاحب تاریخ وقوعہ 14-4-09

1     تاریخ و وقت رپورٹ     بحوالہ 23-19-6-09     بوقت 6/15 بجے شام     6     تھانہ سے روانگی کی تاریخ و وقت     اسپیشل پورٹ

2 نام و سکونت اطلاع دہندہ و مستغیث     درخواست ازان قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی مرسلہ مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ

3   مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) و مال اگر کچھ کھویا گیا ہے     جرم 295/C

4  جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے اور سمت     بحد رقبہ چک نمبر 3 اٹانوالی بفاصلہ 7 میل جانب شمال از تھانہ

5 کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج     کرنے میں کچھ توقف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جائے     بلا توقف

دستخط محمد رضوان ASI      عہدہ محرر

 (ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو)

نوٹ: اطلاع کے نیچے اطلاع دہندہ کا دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط بطور تصدیق ہونے چاہئیں۔ بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ صدر ننکانہ صاحب جناب عالی گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 3 گ ب اٹانوالی تھانہ صدر ننکانہ صاحب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور مسجد صدیق اکبر میں بطور امام مسجد خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مورخہ 14-6-09 کو بروز اتوار ادریس ولد احمد علی قوم آرائیں سکنہ دیہہ کی زمین میں آسیہ زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے، گاؤں کی دیگر عورتوں جن میں عاصمہ بی بی دختر عبدالستار، مافیہ بی بی دختر عبدالستار، یاسمین دختر اﷲ رکھا شامل ہیں، فالسہ توڑ رہی تھیں، آسیہ الزام علیہا نے کہا آپ مسلمانوں کے نبی (معاذ اﷲ) کیا ہیں، وہ وفات سے صرف ایک ماہ قبل چارپائی پر بیمار پڑے رہے اور تمہارے نبی کے منہ اور کانوں میں کیڑے پڑے اور تمہارے (نبیﷺ) نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہ سے محض مال کی خاطر شادی کی اور مال لوٹنے کے بعد انہیں گھر سے نکال دیا۔ مزید قرآن پاک کے متعلق کہا کہ وہ اﷲ کا کلام نہیں بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ سب باتیں عاصمہ بی بی، مافیہ، یاسمین مذکوران و دیگران نے مجھے اور گاؤں کے لوگوں کو بتائیں۔ آج مورخہ 19-6-09 کو سائل معہ محمد افضل ولد محمد طفیل قوم گجر، مختار احمد ولد مشتاق احمد قوم راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ الزام علیہا کو بلوایا اور 14-6-09کے وقوعہ کے متعلق آسیہ مذکوریہ سے پوچھا تو اس نے اقرار کیا کہ مجھ سے واقعی میں نے نبی کریم اور قرآن پاک کی توہین کی مرتکب ہوئی ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ آسیہ مذکوریہ ملزمہ نے توہین رسالتﷺ اور توہین قرآن کا ارتکاب کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، دعویدار ہوں، آسیہ ملزمہ مذکوریہ کے خلاف توہین رسالتﷺ اور توہین قرآن پاک کرنے پر مقدمہ درج کرکے کارروائی مطابق قانون کی جاوے عرضے دستخظ اردو قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 اٹانوالی تحصیل و ضلع ننکانہ (امام مسجد صدیق اکبر چک نمبر 3 اٹاموالی)

کارروائی پولیس: اس وقت میں معہ کانسٹیبل ارشد علی 842/C کانسٹیبل نبیل نواز 909/C بسواری سرکاری گاڑی نمری 7631/SAG جس کا ڈرائیور محمد یٰسین نمبر 468/C برائے گشت پل نہر چندر کوٹ موجود ہوں کہ مسمی قاری محمد سالم مستغیث مذکور نے میرے پیش ہوکر درخواست مضمون بالا میرے پیش کی میں نے سردست جرم 295/C پائی جاکر درخواست ہذا بغرض اندراج مقدمہ بدست کانسٹیبل محمد ارشد 842/C ارسال تھانہ ہے، مقدمہ درج کرکے نمبر مقدمہ سے اطلاع دی جاوے میں معہ ہمراہی ملازمان بغرض تفتیش روانہ موقع کا ہوتا ہوں۔ نیز اسپیشل رپورٹ ہائے جابجا افسران مجاز بھجوائی جاویں دستخط اردو مہدی حسنASI تھانہ صدر ننکانہ صاحب از پل نہر چندر کورٹ بوقت 5:45 بجے شام

از تھانہ: حسب آمدہ درخواسدت مضمون بالا مقدمہ عنوان بالا درج رجسٹر کرکے اصل درخواست معہ نقل FIR بغرض تفتیش بدست آرندہ کانسٹیبل عقب بوجہ معاملہ سنگین نوعیت محمد ارشد ڈوگر SI ارسال ہے، نیز اسپیشل رپورٹ ہائے جابجا افسران مجاز بھجوائی جارہی ہیں دستخط اردو محمد رضوان ASI محرر تھانہ صدر ننکانہ صاحب 19-6-09

توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ سلمان تاثیر سے ملاقات کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل

Aasia shifted to unknown lace

  ملعونہ آسیہ نے پہلے اپنا جرم قبول کیا مگر سلمان تاثیر کے سپورٹ پر اس نے اپنا بیان بدل دیا

Aasia Ki Rahem Ki Appeal

سلمان تاثیر کی انوکھی منطق، توہین رسالت کا واقعہ ہوا ہی نہیں

Aasia Appeal

قانون توہین رسالت صرف غیر مسلموں کیلئے نہیں بلکہ ایک نام نہاد مسلمان بھی گستاخی کرے تو اسے بھی سزا ملے گی، خبر ملاحظہ ہو!

blasphemy law is for muslims also