گیارہویں شریف کی شرعی حیثیت

 سوال: کیا اسلام میں کسی کی یاد منانے کی کوئی گنجائش ہے؟

جواب: اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی یاد منانا جائز بلکہ ثواب ہے۔
القرآن: وذکرہم بایم اﷲ
ترجمہ: اور انہیں اﷲ کے دن یاد دلائو (سورۂ ابراہیم، آیت 5، پارہ 13)
اﷲ تعالیٰ کے دن سے مراد وہ ایام ہیں جن ایام میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام و اکرام کیا، یعنی جس دن کو اہل اﷲ سے نسبت ہوجائے، وہ ’’ایام اﷲ‘‘ بن جاتے ہیں۔

٭ سرور کونینﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یاد منانے کا حکم دیا:

حدیث شریف: کان یوم عاشوراء تعدہ الیہود عیداً، قال النبیﷺ: فصوموہ انتم (بخاری، کتاب الصوم، حدیث 1901، جلد 2، ص 704)
ترجمہ: یوم عاشورہ کو یہود یوم عید شمار کرتے تھے، حضور اکرمﷺ نے (مسلمانوں کو حکم دیتے ہوئے) فرمایا تم ضرور اس دن روزہ رکھا کرو۔

٭ حضرت نوح علیہ السلام کی یاد:

حضرت امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ اس میں یوم عاشورہ منانے کا یہ پہلو بھی بیان ہوا کہ عاشورہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں پر اﷲ تعالیٰ کے فضل و انعام کا دن تھا۔ اس روز وہ بہ حفاظت جودی پہاڑ پر لنگر انداز ہوئے تھے۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت اس دن کو یوم تشکر کے طور پر منانے لگی، اور یہ دن بعد میں آنے والوں کے لئے باعث احترام بن گیا۔

٭ غلاف کعبہ کا دن حضورﷺ نے منایا:

حدیث شریف: کانوایصومون عاشوراء قبل ان یفرض رمضان، وکان یوما تسترفیہ الکعبۃ، فلما فرض اﷲ رمضان، قال رسول اﷲ ﷺ من شاء ان یصومہ فلیصمہہ، ومن شاء ان یترکہ فلیترکہ
(بخاری، کتاب الحج، حدیث 1515، جلد 2، ص 578)
ترجمہ: اہل عرب رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور (اس کی وجہ یہ ہے کہ) اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو ترک کرنا چاہے، وہ ترک کردے۔
امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ درج بالا حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فانہ یفید ان جاہلیۃ کانوا یعظمون الکعبۃ قدیما بالستورویقومون بہا
(فتح الباری، جلد 3، ص 455)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت سے ہی وہ کعبہ پر غلاف چڑھا کر اس کی تعظیم کرتے تھے اور یہ معمول وہ قائم رکھے ہوئے تھے۔

٭ جمعہ کا دن، ولادت آدم علیہ السلام کی یاد:

حدیث شریف: حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ سے فرمایا۔
ان من افضل ایامکم یوم الجمعۃ ، فیہ خلق آدم، وفیہ قبض، وفیہ النفخۃ، وفیہ الصعقۃ فاکثروا علی من الصلاۃ فیہ، فان صلاتکم معروضۃ علی
(ابو دائود،کتاب الصلاۃ، حدیث 1047، جلد اول، ص 275)
ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت ہوئی اور آپ کو لباس بشریت سے سرفراز کیا گیا) اس روز ان کی روح قبض کی گئی اور اسی روز صور پھونکا جائے گا۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
٭ ہر پیر کو روزہ رکھ کر رسول اﷲﷺ اپنی ولادت کی یاد مناتے تھے (مسلم شریف، جلد دوم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلثۃ ایام من کل شہر، حدیث 2646، ص 88، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
٭ بکرے ذبح کرکے رسول پاکﷺ نے اپنا میلاد منایا (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 64)
معلوم ہوا کہ یادگار منانا، اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ایام منانا جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔

 گیارہویں شریف علمائے اسلام کی نظر میں

1: گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں شریف کے متعلق فرماتے ہیں:
آپ اپنی کتاب ’’ماثبت من السنہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میرے پیرومرشد حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مہاجر مکی علیہ الرحمہ 9 ربیع الآخرکو حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کو عرس کرتے تھے، بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ میں متعارف ہے۔(ماثبت من السنہ از: شاہ عبدالحق محدث دہلوی، عربی، اردو مطبوعہ دہلی ص 167)
2:حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی دوسری کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ امان اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ (المتوفی 997ھ) گیارہ ربیع الآخرکو حضرت غوث اعظم رضی اﷲعنہ کا عرس کرتے تھے۔
(اخبار الاخیار، از: محدث شاہ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمہ ص 498(اردو ترجمہ) مطبوعہ کراچی)
3: کتاب ’’وجیز الصراط فی مسائل الصدقات والاسقاط‘‘ میں مصنف علام ابن مُلا جیون علیہ الرحمہ نے گیارہویں شریف کا بایں الفاظ مستقل عنوان کی حیثیت سے ثابت کیا ہے۔ ’’مسئلہ 9 دربیان عرس حضرت غوث الثقلین بتاریخ یازدھم ہر ماہ و بیان حکم خوردن نذرونیاز وغیرہ صدقات مرا غیارا، حضرت حامد قاری لاہوری در نذریت یازدھم گفتگوی طویل کردہ اندو اور اصدقہ تطوع قرار دادہ اند (وصدقہ تطوع اغنیارانیز مباح است) (بحوالہ: وجیز الصراط، ص 80)
وازھمیں جنس است طعام یازدھم کہ عرس حضرت غوث الثقلین، کریم الطریفین، قرۃ عین الحسنین، محبوب سبحانی، قطب ربانی سیدنا و مولانا فرد الافراد ابی محمد الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی ست چوں مشائخ دیگر را عرسی بعد سال معین میکر دند آنجناب رادر ھرما ھے قراردادہ اند (وجیز الصراط، ص 82)
یعنی حضرت غوث الثقلین کے عرس کے بیان میں جو ہر ماہ گیارہویں تاریخ کو ہوتا ہے اور نذر ونیاز وغیرہ صدقات کھانے کے حکم کے بیان میں حضرت حامد قاری لاہوری نے گیارہویں کی نذر کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے اور اس کو صدقہ نفل قرار دیا ہے (اور صدقۂ نفل، اغنیاء کو بھی مباح (جائز) ہے) اور گیارہویں کا طعام (کھانا) بھی اسی جنس سے ہے کہ حضرت غوث الثقلین، کریم الطریفین، قرۃ عین الحسنین، محبوب سبحانی، قطب ربانی، سیدنا و مولانا، فرد الافراد ابی محمد الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کا عرس ہے جیسے دیگر مشائخ کا عرس سال بعد معین کیا گیا ہے، حضرت محبوب سبحانی علیہ الرحمہ کا عرس ہر ماہ مقرر کیا گیا ہے۔
4۔ سراج الہند محدث اعظم ہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے روضہ مبارک پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے، نماز عصر کے بعد مغرب تک قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے اردگرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکر جہر کرتے، اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی، اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی، تقسیم کی جاتی اور نماز عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہوجاتے‘‘ (ملفوظات عزیزی، فارسی، مطبوعہ میرٹھ، یوپی بھارت ص 62)
5:ملفوظات مرزا صاحب علیہ الرحمہ میں وہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں جوکہ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیف کلمات طیبات میں ہے کہ میں نے خواب میں ایک وسیع چبوترہ دیکھا جس میں بہت سے اولیاء حلقہ باندھ کر مراقبہ میں ہیں اوران کے درمیان حضرت خواجہ نقشبند علیہ الرحمہ دو زانو اور حضرت جنید علیہ الرحمہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ استغناء ماسواء اﷲ اور کیفیات فنا آپ میں جلوہ نما ہیں۔ پھر یہ سب حضرات کھڑے ہوگئے اور چل دیئے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو ان میں سے کسی نے بتایا کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے جارہے ہیں۔ پس مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ ایک گلیمر پوش ہیں جو سر اور پائوں سے برہنہ ژولیدہ بال ہیں۔ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ نے ان کے ہاتھ کو نہایت عزت اور عظمت کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ خیر التابعین حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہ ہیں پھر ایک حجرہ ظاہر ہوا جب نہایت ہی صاف تھا اور اس پر نور کی بارش ہورہی تھی کہ یہ تمام باکمال بزرگ اس میں داخل ہوگئے۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ایک شخص نے کہا۔ آج غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا عرس ہے۔ عرس پاک کی تقریب پر تشریف لے گئے ہیں (کلمات طیبات فارسی، ص 77، مطبوعہ دہلی ہند)
حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مکی علیہ الرحمہ، حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ، حضرت شیخ امان اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ یہ تمام بزرگ دین اسلام کے عالم فاضل تھے اور ان کا شمار صالحین میں ہوتا ہے، ان بزرگوں نے گیارہویں شریف کا ذکر کرکے کسی قسم کا شرک و بدعت کافتویٰ نہیں دیا۔
تمام دلائل و براہین سے معلوم ہوا کہ گیارہویں شریف کا انعقاد کرنا سلف وصالحین کا طریقہ ہے جوکہ باعث اجروثواب ہے۔

 کیا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ وہابی تھے؟

کہ سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حنبلی تھے یعنی حضرت امام احمد ابن حنبل رضی اﷲ عنہ کے مقلد تھے، غیر مقلد نہیں تھے۔ جب آپ مقلد تھے تو وہابی کیسے ہوسکتے ہیں؟ وہ اس لئے کہ وہابی غیر مقلد ہوتے ہیں، امام کی تقلید کو حرام کہتے ہیں جبکہ سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ تقلید کو جائز سمجھتے تھے لہذا ماننا پڑے گا کہ آپ وہابی نہ تھے۔

 غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حنبلی اور ہم حنفی یہ کیسے؟

ہم غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے مرید ہیں۔ ان کے سلسلہ طریقت میں داخل ہیں مگر ہم ان کے مقلد نہیں ہیں۔ مقلد ہم امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ کے ہیں لہذا مقلد کسی بھی امام کا ہو، وہ مرید غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا ہوسکتا ہے۔

 سوال: کیا نذر و نیاز کرنا جائز ہے، کیونکہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر اﷲ کی نذرونیاز کرنا ناجائز ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں؟

اﷲ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا، ان نعمتوں میں سے ایک نعمت حلال اور طیب رزق ہے، جسے رب کریم اپنے بندوں کو محنت کرکے حلال ذرائع سے حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بندے حرام سے بچ کر حلال طیب رزق حاصل کرکے اپنی زندگی گزاریں۔
انہی حلال و طیب رزق میں سے ایک بابرکت چیز نذرونیاز ہے جوکہ رب کریم کی بارگاہ میں پیش کرکے اس کا ثواب نیک و صالح مسلمانوں کو ایصال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس مضمون میں نذرونیاز کی حقیقت اور اسے حرام کہنے والوں کی اصلاح کی جائے گی۔
نذرونیاز کو حرام کہنے والے یہ آیت پیش کرتے ہیں۔
القرآن: انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر اﷲ O (سورۂ بقرہ، رکوع 5، پارہ 2 ، آیت 173)
ترجمہ: درحقیقت (ہم نے) تم پر حرام کیا مردار اور خون سور کا گوشت اور جس پر اﷲ کے سوا (کسی اور کا نام) پکارا گیا ہو۔
القرآن: حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر ومااہل لغیر اﷲ بہ O (سورۂ مائدہ، رکوع 5، پارہ 6، آیت 3)
ترجمہ: حرام کردیا گیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔

ان آیات میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘

سے کیا مراد ہے:
1۔ تفسیر وسیط علامہ واحدی میں ہے کہ ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا مطلب ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
2۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنے ترجمان القرآن میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ سے مراد لکھا ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
3۔ تفسیر روح البیان میں علامہ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ نے ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ سے مراد یہی لیا ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
4۔ تفسیر بیضاوی پارہ 2 رکوع نمبر 5 میں ہے کہ ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ جانور کے ذبح کے وقت بجائے خدا کے بت کا نام لیا جائے۔
5۔ تفسیر جلالین میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ وہ جانور جو غیر اﷲکے نام پر ذبح کیا گیا ہو، بلند آواز سے بتوں کا نام لے کر وہ حرام کیا گیا۔
ان تمام معتبر تفاسیر کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ یہ تمام آیات بتوں کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں، لہذا اسے مسلمانوں پر چسپا کرنا کھلی گمراہی ہے۔

 مسلمانوں کا نذرونیاز کرنا

مسلمان اﷲ تعالیٰ کو اپنا خالق و مالک جانتے ہیں اور جانور ذبح کرنے سے پہلے ’’بسم اﷲ اﷲ اکبر‘‘ پڑھ کر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں پھر کھانا پکواکر اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے لہذا اس میں کوئی شک والی بات نہیں بلکہ اچھا اور جائز عمل ہے۔

 ایصال ثواب کیلئے بزرگوں کی طرف منسوب کرنا

الحدیث: ترجمہ… سیدنا حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا یارسول اﷲﷺ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے کچھ خیرات اور صدقہ کروں۔ آپﷺ نے فرمایا!ہاں کیجئے، حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا۔ ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ’’پانی پلانا‘‘ تو ابھی تک مدینہ منورہ میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہ ہی کی سبیل ہے (بحوالہ: سنن نسائی جلد دوم، رقم الحدیث3698،ص 577، مطبوعہ فرید بک لاہور)

٭ صاحب تفسیر خازن و مدارک فرماتے ہیں:

اگر فوت شدہ کا نام پانی پر آنا اس پانی کے حرام ہونے کا سبب بنتا تو حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اس کنویں پر اُم سعد کا نام نہ آنے دیتے، ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح جانور پر غیر اﷲ کا نام نہ آئے، جان کا نکالنا خالق ہی کے نام پر ہو ۔(تفسیر خازن و مدارک، جلد اول، ص 103)
الحدیث: ترجمہ… حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے سینگوں والے مینڈھے کے لئے حکم فرمایا جس کے سینگ سیاہ آنکھیں سیاہ اور جسمانی اعضا سیاہ ہوں۔ پس وہ لایا گیا تو اس کی قربانی دینے لگے۔ فرمایا کہ اے عائشہ! چھری تو لائو، پھر فرمایا کہ اسے پتھر پر تیز کرلینا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا تو مجھ سے لے لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے لگے تو کہا۔ اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اﷲ تعالیٰ! اسے قبول فرما محمدﷺ کی طرف سے آل محمدﷺ کی طرف سے اور امت محمدﷺ کی طرف سے پھر اس کی قربانی پیش کردی (بحوالہ: ابودائود جلد دوم، کتاب الاضحایا، رقم الحدیث 1019، ص 392، مطبوعہ فرید بک لاہور)
الحدیث: ترجمہ… حنش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو عرض گزار ہوا، یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی، اپنی طرف سے قربانی کرنے کی۔ چنانچہ (ارشاد عالی کے تحت) ایک قربانی میں حضورﷺ کی طرف سے پیش کررہا ہوں۔(بحوالہ: ابو دائود جلد دوم، کتاب الاضحایا، رقم الحدیث 1017، ص 391، مطبوعہ فرید بک لاہور)

 ٭ حضرت علامہ مولانا مُلّا جیون

علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
ذبح سے پہلے یا ذبح کے بعد بغرض ملکیت یا بغرض ایصال ثواب وغیرہ کسی جانور وغیرہ پر آنا یہ سبب حرمت نہیں، مثلا یوں کہا جاتا ہے۔ مولوی صاحب کی گائے، خان صاحب کا دنبہ، ملک صاحب کی بکری، عقیقہ کا جانور، قربانی کا جانور، ولیمہ کی بھینس، ان جانور پر جو غیر اﷲ کا نام پکارا گیا تو کیا یہ حرام اور منت ہوگئے؟ ہرگز نہیں! یہی حکم ہے گیارہویں کے دودھ، حضور غوث الثقلین رضی اﷲ عنہ کی طرف منسوب بکری اور منت والے جانوروں کا‘‘ (بحوالہ: تفسیرات احمدیہ)

٭ تیرہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’واگر مالیدہ و شیر برنج بنا برفاتحہ بزرگ بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پختہ بخورند مضائقہ نیست جائز است‘‘
یعنی اگر مالیدہ اور شیرینی کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکاکر کھلا دے تو جائز ہے، کوئی مضائقہ نہیں
(بحوالہ : تفسیر عزیزی، جلد اول ،ص 39)
آگے فرماتے ہیں ’’طعامیکہ ثواب آں نیاز حضرت امامین نمایندو وبرآں فاتحہ و قل ودرود خواندن تبرک میشود خوردن بسیار خوب است‘‘
یعنی جس کھانے پر حضرات امامین حسنین کی نیاز کریں اس پر قُل اور فاتحہ اور درود پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے
(بحوالہ: فتاویٰ عزیزی، جلد اول، ص 71)

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی مجلس درس آراستہ تھی۔ آپ ’’گناہ اور توبہ‘‘ کے موضوع پر تقریر کررہے تھے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’پرہیز گار اور گناہوں سے توبہ کرنے والا، دونوں برابر ہیں‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے اس ارشاد گرامی پر اہل مجلس کو حیرت ہوئی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ’’اس حدیث مقدسہ کے مطابق دونوں برابر ہیں‘‘
’’گناہوں سے توبہ کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے گناہ ہی نہیں کیا‘‘ (حدیث شریف)
مزید ارشاد فرمایا کہ جس نے گناہ کیا اور گناہ سے لذت حاصل کی تو پھر تائب ہونے کی صورت میں جب وہ نیک عمل کرے گا تو عبادت سے بھی اسے ذوق حاصل ہوگا۔ ممکن ہے کہ عبادت سے حاصل ہونے والی راحت کا ایک ذرہ گناہوں کے کھلیانوں کو جلاکر راکھ کر ڈالے۔
اس کے بعد حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ والوں نے اپنی ذات کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے کمالات کو ظاہر فرمایا ہے۔
حضرت خواجہ ابو الحسن نوری علیہ الرحمہ پابندی کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ ’’یاالٰہی‘‘ تو اپنے شہروں میں مجھے اپنے بندوں کی نگاہ سے پوشیدہ رکھ‘‘
ہاتف غیبی نے انہیں آواز دی ’’اے ابو الحسن! حق کو کوئی شے نہیں چھپا سکتی اور حق کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا‘‘
پھر اس سلسلے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ناگور کے علاقے میں رہنے والے ایک بزرگ خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ کا واقعہ سنایا۔ خواجہ سوالی علیہ الرحمہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے۔ حضرت خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ سے ایک مجلس میں پوچھا گیا ’’یہ کیا راز ہے کہ بعض مشائخ دنیا سے گزر جانے کے بعد اس طرح بے نشان ہوجاتے ہیں، کہ کوئی شخص ان کا نام تک نہیں لیتا… اور بعض بزرگ ایسے ہوتے ہیںکہ اپنی زندگی میں گمنام رہتے ہیں… مگر انتقال کے بعد ان کی کرامت کا شور سارے عالم میں سنائی دیتا ہے‘‘
حضرت خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’جو شخص اپنی زندگی میں شہرت کا خواہاں رہتا ہے، مرنے کے بعد اس کی یہی خواہش گمنامی کا سبب بن جاتی ہے اور جن لوگوں نے زندگی میں اپنے حال کو چھپانے کی کوشش کی ہے، مرنے کے بعد اﷲ نے انہیں شہرت دوام بخشی ہے‘‘
پھر اسی نمائش ذات کے حوالے سے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ ایک عقیدت مند نے حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی خانقاہ مبارک کے دروازے پر ایک شخص کو پڑے ہوئے دیکھا جس کے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے تھے پھر جب وہ عقیدت مند خدمت شیخ میں حاضر ہوا تو اس نے حضرت غوث اعظم علیہ الرحمہ کو اس شخص کا حال سنایا اور اس کے لئے دعا کی درخواست کی۔
جواب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’اس بے ادب کے سلسلے میں خاموش رہو‘‘
عقیدت مند نے دست بستہ عرض کیا ’’سیدی! اس شخص سے کیا بے ادبی سرزد ہوئی ہے؟‘‘
حضرت سیدنا غوث اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’یہ شخص جو خانقاہ کے دروازے پر اس شکستہ حالت میں پڑا ہے، چالیس ابدالوں میں سے ایک ابدال ہے کل یہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ ہوا میں اڑتا ہوا ادھر سے گزرا جب یہ تینوں خانقاہ کے قریب پہنچے تو ایک ابدال نے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے دائیں جانب کا رخ کیا… پھر اسی طرح دوسرا ابدال بھی بائیں طرف چلا گیا… مگر اس بے ادب نے خانقاہ کے اوپر سے گزر جانا چاہا۔ پھر جیسے ہی یہ گستاخ خانقاہ کے مقابل آیا، زمین پر گر پڑا اور اپنے ہاتھ پائوں کھو بیٹھا‘‘
٭…٭…٭
گزرتے ہوئے ہر لمحے کے ساتھ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ہردلعزیزی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ہزاروں بندگان خدا آستانہ عالیہ پر جمع رہتے تھے۔بے شمار بھوکے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے لنگر سے کھانا کھاتے اور لاتعداد ضرورت مند اس طرح فیض یاب ہوتے کہ پھر ان کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔ جسے بھی دنیا کے رنج والم ستاتے، وہ حضرت نظام الدین کی خانقاہ کا رخ کرتا کوئی اس پریشاں حال شخص سے پوچھتا کہ کہاں جارہا ہے، تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا۔
’’شہنشاہ کے دربار میں جارہا ہوں، اپنے دکھ بیان کرنے کے لئے‘‘
سننے والا اس سے دوسرا سوال کرتا ’’اے شخص! تو سلطان علاؤ الدین خلجی کے دربار میں جارہا ہے؟‘‘
کہنے والا کہتا ’’میں کسی سلطان علائو الدین خلجی کو نہیں جانتا۔ میرے شہنشاہ تو حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی علیہ الرحمہ ہیں ان ہی کے دربار پر جارہا ہوں‘‘
یہ آوازیں اتنی شدت اور کثرت سے سنائی دے رہی تھیں کہ عوامی حلقوں میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو ہندوستان کا ’’بے تاج بادشاہ‘‘ کہہ کر پکارا جانے لگا تھا پھر ان صدائوں کی گونج اتنی بڑھی کہ خود علائو الدین خلجی کی سماعت بھی اس شور سے محفوظ نہ رہ سکی۔ فرمانروائے ہند اس بات سے بہت خوش تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ذات گرامی عوام و خواص کی نگاہوں کا مرکز ہے… مگر بدکردار خوشامدی وزیروں اور بے ضمیر مصاحبوں نے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی اس شہرت کو غلط رنگ دے کر پیش کیا۔
کہنے والوں نے سلطان علائو الدین خلجی سے سرگوشیوں میں کہا ’’حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے بھی وہی انداز ہیں جو کبھی سیدی مولہ علیہ الرحمہ کے تھے۔ آج جس طرح حضرت محبوب الٰہی کے در سے ہزاروں افراد فیضیاب ہوتے ہیں، اسی طرح کبھی سیدی مولہ علیہ الرحمہ بھی دہلی کے لوگوں پر انصاف و کرم کی بارش کرتے تھے ‘‘ یہ ایک اشارہ تھا کہ کہیں نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی بڑھتی ہوئی محبوبیت، حکومت وقت کے لئے کوئی سنگین مسئلہ نہ بن جائے۔
بعض حاسدین جو اپنی فطرت بد کے تقاضوں سے مجبور تھے۔ واضح الفاظ میں سلطان کو تنبیہ کرنے لگے۔ ’’عوام کے ساتھ آپ کے بہت سے درباری بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے حلقہ اثر میں داخل ہوچکے ہیں۔ لوگوں کے دل و دماغ پر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی یہ گرفت کہیں کسی سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ نہ ہو‘‘
کچھ ضمیر فروش اور دریدہ دین افراد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اپنے عقیدت مندوں کالشکر جمع کررہے ہیں اور یہی لشکر ایک دن سلطان کے اقتدار کے خلاف بغاوت کرے گا اور پھر ہندوستان کا تاج ایک گوشہ نشیں درویش کے سر کی زینت بن جائے گا۔
چاپلوسوں اور خوشامدیوں کی اس حاشیہ برداری نے کچھ دیر کے لئے سلطان علاء الدین خلجی کے ذہن کو منتشر کردیا اور وہ پریشان سا نظر آنے لگا۔ سیاہ کردار رکھنے والے مصاحبوں نے کچھ اس تسلسل کے ساتھ والی ہندوستان کے کان بھرے تھے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی طرف سے اس کے دل و دماغ پر شکوک وشبہات کا غبار چھانے لگا۔ سیدی مولہ علیہ الرحمہ کے حوالے نے اس سخت اضطراب میں مبتلا کردیا تھا… اور سب سے اہم بات یہ کہ سلطان علاؤ الدین خلجی خود بھی اپنے حقیقی چچا جلال الدین خلجی کو قتل کرکے منصب اقتدار تک پہنچا تھا۔ اس لئے وہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی محبوبیت سے خوفزدہ ہوگیا پھر بھی اس نے ضبط و ہوش کا دامن نہیں چھوڑا۔
سلطان کئی دن تک تنہائی میں اس صورتحال کے متعلق سوچتا رہا۔ بار بار اس کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا تھا کہ آخر ایسی کون سی تدبیر اختیار کی جائے جس سے پتا چل سکے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سیاسی اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں یا وہ اس قسم کے جذبات سے بالکل بے نیاز ہیں؟
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)

دنیا و آخرت میں 6 مصیبتیں

فرمان الٰہی ہے والذین ہم لفروجہم حفظون
(پ 18، المومنون 5)
وہ حرام اور بدکاریوں سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
ایک اور آیت میں ارشاد ربانی ہے۔
ولاتقربوا الفواحش ماظہر منہاومابطن
(پ 8الانعام 152)
یعنی چھوٹے بڑے ظاہر پوشیدہ کسی بھی گناہ کے قریب مت جائو۔
یہاں بڑے سے مراد زنا اورچھوٹے سے مراد بوسہ لینا، بری نظر سے دیکھنا اور چھونا ہے۔ چنانچہ حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہے ہاتھ زنا کرتے ہیں، پیر زنا کرتے ہیں، اور آنکھیں زنا کرتی ہیں۔ فرمان الٰہی قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکیٰ لہم
(پ 18، النور 30)
مومنوں سے کہہ دیجئے اپنی نگاہیں کچھ نیچے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ حرام کی طرف نہ دیکھیں اوراپنی شرم گاہوں کو ارتکاب حرام سے محفوظ رکھیں۔ اﷲ تعالیٰ نے متعدد آیات میں زنا کی حرمت بیان فرمائی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ربانی ہے۔
ومن یفعل ذلک یلق اثام (پ 19 الفرقان 68)
جو شخص زنا کرتا ہے اسے آثام میں ڈالا جائے گا  اثام کیا ہے؟ اثام کے متعلق کہا گیا ہے کہ جہنم کی ایک وادی ہے بعض علماء نے کہا کہ وہ جہنم کا ایک غار ہے جب ان کا منہ کھولا جائے گا تو ان کی شدید بدبو سے جہنمی چیخ اٹھیں گے۔

’’زنا میں 6 مصیبتیں ہیں‘‘

بعض صحابہ کرام رضی اﷲعنہم سے مروی ہے۔ زنا سے بچو اس میں 6 مصیبتیں ہیں جن میں سے 3 کا تعلق دنیا سے ہے اور 3 کا آخرت سے ہے۔ دنیا میں رزق کم ہوجاتا ہے۔ زندگی مختصر ہوجاتی ہے اور چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔ نیکی کی توفیق سے محرومی ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت ہوجاتی ہے اور آخرت میں اﷲ کا غضب، عذاب کی سختی اور دوزخ میں داخلہ جسے اﷲ تعالیٰ نے النار الکبریٰ فرمایا ہے کہ وہ سب سے بڑی آگ ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تمہاری یہ آگ دوزخ کی آگ کا 70 واں حصہ ہے۔ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زانی کی سزا کے بارے میں پوچھا تو رب تعالی ٰنے فرمایا۔ میں اسے آگ کی زرہ پہنائوں گا۔ وہ ایسی وزنی ہے کہ اگر بہت بڑے پہاڑ پر رکھ دی جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، کہتے ہیں۔ ابلیس کو ہزار بدکار مردوں سے ایک بدکار عورت زیادہ پسند ہوتی ہے۔ مصابیح میں رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔ جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان نکل کر اس کے سر پر چھتری کی طرح معلق (لٹکا) رہتا ہے اور جب وہ گناہ سے فارغ ہوتا ہے تو اس کا ایمان پھر لوٹ آتا ہے۔ کتاب اقناع میں رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک نطفہ کو حرام کاری میں صرف کرنے سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے اور لواطت زنا سے بھی بدتر ہے۔ جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کے سفر کی دوری سے آئے گی۔ مگر لوطی اس سے محروم رہے گا۔

امرد ایک فتنہ ہے

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ گھر کے باہر بیٹھے تھے کہ ایک حسین لڑکا (امرد) آتا ہوا نظر آیا۔ آپ دوڑ کر گھر میں گھس گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ کچھ دیر بعد پوچھا فتنہ چلا گیایا نہیں؟ لوگوں نے کہا چلا گیا۔ آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا فرمان نبویﷺ ہے ان کی طرف دیکھنا، گفتگو کرنا اور ان کے پاس بیٹھنا حرام ہے۔
جناب قاضی امام رحمتہ اﷲ علیہ کا قول ہے۔ میں نے بعض مشائخ سے سنا ہے کہ عورت کے ساتھ ایک شیطان اور حسین لڑکے کے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوتے ہیں۔روایت ہے کہ جس نے شہوت کے ساتھ لڑکے کو بوسہ دیا، وہ پانچ سو سال جہنم میں جلے گا اور جس نے کسی عورت کا بوسہ لیا۔ اس نے گویا ستر ہزار شادی شدہ عورتوں سے زنا کیا۔ رونق التفاسیر میں کلبی رحمتہ اﷲ علیہ سے منقول ہے۔ سب سے پہلے لواطت ابلیس نے شروع کی۔ وہ لوط علیہ السلام کی قوم میں ایک حسین و جمیل لڑکے کی صورت میں آیا اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا یہاں تک کہ لواطت ان کی عادت بن گئی جو بھی مسافر آتا، وہ اس سے بدفعلی کرتے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس فعل بدسے روکا۔ اﷲ کی طرف بلایا اور عذاب خداوندی سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے۔ اگر تم سچے ہو تو جائو عذاب لے آئو۔حضرت لوط علیہ السلام نے اﷲ رب العزت سے دعا مانگی۔ جس کے جواب میں ان پر پتھروں کی بارش ہوئی ہر پتھر پر ایک آدمی کا نام لکھا تھا اور وہ اسی آدمی کو آکر لگا۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ مسومۃ عند ربک (پ 12، ہود 83) جو نشان کئے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس ۔
فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی آنحضرتﷺ کی خدمت عالیہ میں اپناجھگڑا لے کر پیش ہوئے۔ ایک نے کہا یارسول اﷲﷺ ہمارا فیصلہ اﷲ کی کتاب کے مطابق فرمادیں اور دوسرا بولا جوپہلے سے کچھ سمجھدار تھا۔ جی ہاں یارسول اﷲ ہمارا فیصلہ اﷲ کی کتاب کے موافق فرمایئے اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت مرحمت فرمایئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہو۔ وہ کہنے لگا۔ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدوری کرتاتھا۔ اس نے اس شخص کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو رجم ہوگا میں نے 100 بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی پھر اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو 100 کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی پر رجم ہوگا۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میںتمہارے درمیان اﷲ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروںگا، تیری بکریاں اور باندی تجھے ملے گی اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور حصرت انیس اسلمی رضی اﷲ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی بیوی کے پاس جاکر دریافت کرو۔ اگر وہ اعتراف کرلے تو رجم کردو چنانچہ اس عورت نے اقبال جرم کرلیا اور وہ رجم کردی گئی۔

شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کیلئے زنا کی سزا 

حدیث شریف سے زنا کا حکم معلوم ہوگیا کہ زانی مرد یا عورت جب کہ شادی شدہ نہ ہوں تو اس پر 100کوڑے لازم ہوتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے کہ زانیہ عورت اور زانی مرد ان میں سے ہر ایک کوسو کوڑے لگائو۔
ولا تاخذکم بہمارا فۃ فی دین اﷲ
اور تم لوگوں کو ان پر اﷲ تعالیٰ کے معاملے میں ذرا رحم نہ آنا چاہئے یعنی اﷲ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں تم پر شفقت اور مہربانی کاغلبہ نہیں ہونا چاہئے کہ کہیں حدود اﷲ کو ہی ختم کردو حالانکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں پر تم سے کہیں زیادہ مہربان ہے اور اس کے باوجود اس نے زانیوں کو حد لگانے کا حکم دیا جس پر دنیا میں حد قائم نہ ہوئی۔ قیامت کے دن سرعام اسے آگ کے کوڑے لگائے جائیں گے۔ پھر ارشاد مبارک ہے۔
ان کنتم تومنون باﷲ والیوم الاخر (النور 2)
یعنی اگرتم اﷲ کی توحید اور قیامت کے دن کا یقین رکھتے ہو تو حد کو معطل نہ کرو۔
ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین (النور 2)
اور حد قائم کرتے وقت مومنوں کا ایک گروہ موجود ہونا چاہئے تاکہ سزا میں شدت پیدا ہو اور لوگوں کے سامنے خوب شرمندگی ہوگی اس طرح آئندہ کو باز رہیں گے اور جرم کا اعادہ نہ کریں گے۔ یہ غیر شادی شدہ کی حد کا بیان ہے اور اگر مرد شادی شدہ ہے کہ نکاح کے بعد دخول کرچکا ہے یا عورت ایسی ہے کہ اس کا خاوند اس کے ساتھ دخول کرچکا ہے، پھر وہ زنا کرلیں تو ان کی سزارجم ہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲﷺ نے حضرت ماغر بن مالک رضی اﷲ عنہ کو رجم کی سزا دی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر زنا کا اقرار کرتی ہے اور اسی گناہ سے اسے حمل بھی تھا۔ آپ نے بچہ پیدا ہونے تک اسے واپس فرمایا۔ ولادت سے فارغ ہوکر پھر وہ حاضر ہوئی تو اسے رجم کی سزا دے دی گئی۔ یہ دنیا کی سزا ہے، اگر دنیا میں مل گئی تو درست ہے ورنہ آخرت میں ملے گی اور آخرت کا عذاب بہت شدید اور دیرپا ہے۔ لہذا زنا سے بہت ہی بچنا چاہئے کہ یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃ (الاسراء 32)
اور زنا کے پاس بھی مت جائو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زنا نہ کرو اور اس سے بہت ہی بچو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے یعنی اہل زنا کیلئے یہ بدترین راستہ ہے جو انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے اور ایک جگہ ارشاد ہے۔
ولاتقربوا الفواحش ماظہرمنہا و مابطن (الانعام 151)
اور بے حیائی کے جتنے بھی طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت جائو، خواہ اعلانیہ ہوں، یا پوشیدہ ہوں۔ ظہر سے مراد بڑا گناہ یعنی زنا اور بطن سے مراد بوس و کنار وغیرہ مراد ہیں اور یہ بھی زنا میں داخل ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ہاتھ زنا کرتے ہیں اورآنکھیں بھی زنا کرتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوافروجہم ذالک ازکیٰ لہم ان اﷲ خبیر بما یصنعون وقل للمومنٰت یضغضن من ابصارہن ویحفظن فروجہن (النور 30)
آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے، بے شک اﷲ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیاکرتے ہیں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔
اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں مردوں اور عورتوں کو نگاہیں پست رکھنے اور شرم گاہوں کو حرام سے محفوظ رکھنے کا حکم فرمادیا ہے اور زنا کو تورات اورانجیل، زبور اور فرقان کی بہت سی آیات میںحرام قرار دیا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ بھلا کسی مومن کی عزت و آبرو لوٹنے سے بڑھ کر اور ان کے نسب کو خراب کرنے سے بڑا اور کیا گناہ ہوگا۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں بھی زنا نہیں کیا اور کہا کرتے تھے کہ جب مجھے یہ گوارا نہیں کہ کوئی شخص میری عزت کو پامال کرے تو میں کسی اور کی عزت کو کیسے پامال کرسکتا ہوں۔

پند ونصائح

یہ دیکھنا کہیں اپنی حیات اور صحت کے دھوکہ میں نہ رہنا کہ دنیا ڈھلتی چھائوں ہے اور عذاب بہت طویل ہے۔ زنا سے بچتے رہو کہ وہ غضب اور ناراضگی اور دردناک عذاب لاتا ہے اور انتہائی سنگین وہ زنا ہے جس میں کوئی شخص مسلسل لگا رہتا ہے۔ مثلا اپنی بیوی کو طلاق دے کر یونہی بطور حرام اپنے پاس ٹھہرائے رکھتا ہے۔ رسوائی کے ڈر سے لوگوں میں ظاہر نہیں کرتا ایسے شخص کو آخرت کی رسوائی کا کیوں خوف نہیں جس دن سب بھید الم نشرح ہوجائیں گے۔ سو ایسے دن کی رسوائی کے خوف کی وجہ سے زنا سے بہت ہی بچنا چاہئے اور اس پر ہرگز اصرار نہ کرے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے کی تاب کس کو ہے؟ اور خوب توبہ کرو کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ کوقبول فرماتا ہے اور توبہ وندامت کا وقت دنیاوی زندگی تک ہی ہے۔ مرنے کے بعد نہ توبہ کچھ فائدہ دے گی اور نہ ہی ندامت کام آئے گی۔
اﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح سرائی فرمائی ہے جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
والذین ہم لفروجہم حافظون الاعلیٰ ازواجہم اوماملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین فمن ابتغیٰ وراء ذلک مالئک ہم العادون (المعارج 29)
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے تو ان پر کوئی الزام نہیں، ہاں جو اس کے علاوہ طلب گار ہو، ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں یعنی یہ لوگ نافرمان ہیں لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ خود بھی زنا سے توبہ کرے اورلوگوں کو بھی اس سے روکتا رہے کیونکہ جس خطے میں زنا عام ہوجاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ وہاں پر طاعون جیسی وبائی امراض عام فرمادیتا ہے۔ فقیہ رحمتہ اﷲ علیہ اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمتہ اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب یہ حالات دیکھنے میں آئیں کہ تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور خون بہائے جارہے ہیں تو یقین کرلو کہ ان لوگوں نے اﷲ پاک کے حکم کوضائع کیا ہے جس کا انتقام ایک دوسرے کے ذریعہ لیا جارہا ہے اور جب دیکھو کہ بارش بند ہورہی ہے تو سمجھ لو کہ لوگوں نے زکوٰۃ بند کردی ہے۔ جس کی وجہ سے اﷲ پاک نے اپنی بارش روک لی ہے اور جب دیکھو کہ وباء پھیل رہی ہے یقین کرلو کہ زنا عام ہورہا ہے۔ اﷲ رب العزت ہمیں اس گھنائونے جرم سے کماحقہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭

اہلسنت کی پہچان، الصلوٰۃ قبل الاذان والسلام بعد الاذان

اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا مستحب ہے اور پڑھنے والے کو اس کا ثواب بھی ملے گا۔ اگر کوئی اذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو کوئی حرج نہیں۔ اس لئے کہ یہ فرض واجب نہیں  مستحب ہے لیکن جو خوش نصیب عاشقان رسولﷺ اذان سے پہلے یا بعد میں پڑھتے ہیں۔ ان کو بدعتی نہیں کہنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے۔

یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
اے ایمان والو تم اپنے نبیﷺ پر خوب صلوٰۃ و سلام بھیجا کرو۔

اس آیت میں درود و سلام حکم علی الاطلاق وارد ہوا اور اسے مطلق حکم پر رکھنا چاہئے۔ ہمارے دور کے ایک دیوبندی عالم نے ہم سے مباحثہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ صلوٰۃ و سلام کو اذان سے پہلے مسلسل پڑھ کر مقید کرتے ہو حالانکہ مطلق پر جب عمل کرنا ممکن ہو تو اسے خبر واحد یا قیاس کے ذریعے بھی مقید نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے کہا اگر ایک شخص ہر جمعہ کے روز تسلسل سے صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ تم جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو کیونکہ یہ ایسا مبارک دن ہے کہ فرشتے اس میں حاضر ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کی یارسول اﷲﷺ آپ کے وصال کے بعد بھی۔ فرمایا ہاں۔ بے شک اﷲ عزوجل نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو کھائے۔ جبکہ صاحبِ مشکوٰۃ کی روایت میں یہ بھی ہے۔ پس اﷲ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے ۔
(سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 76 قدیمی کتب خانہ کراچی)

اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں بہت سے اوقات مخصوصہ میں صلوٰۃ وسلام پڑھنے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے حتی کہ شب و روز صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا ثبوت بھی موجود ہے اور امام سخاوی علیہ الرحمہ نے القول البدیع میں 75 مقامات شمار کئے ہیں جن میںصلوٰۃ و سلام پڑھنا چاہئے تو کیا امام سخاوی نے ایک مطلق حکم کو 75 قیود کے ساتھ مقید کردیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں اور نہ ہی احادیث میں مقید کیا ہے بلکہ یہاں پر خاص اوقات میں فضیلت کا بیان کیا گیا لہذا اوقات مخصوصہ میں صلوٰۃ و سلام کو پڑھنے کے احکام کو فضیلت کی طرف منسوب کریں گے نہ کہ مطلق پر مقید کا الزام لگائیں گے اور یاد رہے کہ کسی بھی مباح کام کے بار بار کرنے سے اس کے مقید ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا تو پھر اذان سے قبل صلوٰۃ و سلام پر مقید ہونے کا حکم لگانا بھی جائز ہے۔ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد نفلی نماز پڑھنا مباح ہے اگر کوئی شخص اس وقت میں ہمیشگی کے ساتھ نفل پڑھے تو کیا اس پر مقید کا الزام لگاتے ہوئے اسے نماز سے منع کرو گے۔ ماشاء اﷲ

 اذان سے قبل صلوٰۃ و سلام کا ثبوت

صلوٰۃ و سلام کا مطلب: یاد رہے یہاں پر ہم تفصیل میں جائے بغیر یہ بیان کررہے ہیں کہ یہ بات تمام فقہائے اسلام اور جمہور علمائے اسلام کے نزدیک متفق ہے کہ سید عالمﷺ کے لئے صلوٰۃ و سلام کا مطلب دعا ہے۔
ابن قیم لکھتے ہیں کہ جب ہم صلوٰۃ و سلام پڑھتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اﷲ عزوجل جانِ عالمﷺ پر نزول رحمت فرمائے (جلاء الافہام ص 87، دارالکتب العربی)
تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کیا سید عالمﷺ کے لئے دعا کرنا جائز ہے یا نہیں تو اس کا ثبوت ہم فراہم کررہے ہیں۔ کیونکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر حکم نص سے ثابت ہے تاہم تسلی کے لئے ہم اس کا جزیہ بھی بیان ہیں۔
حضرت: حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ بنی نجار کی ایک عورت سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میرا گھر اونچے گھروں میں سے تھا اور مسجد کے گردونواح میں سے تھا۔ پس حضرت بلال رضی اﷲ عنہ فجر کی اذان کے لئے سحری کے وقت آتے اور میرے مکان پر بیٹھ جاتے اور فجر کا انتظار کرتے تھے اور جب وہ دیکھ لیتے تو یہ کہتے اے اﷲ عزوجل میں تیری حمد کرتا ہوں اور تجھ سے مدد مانگتا ہوں اس بات کی کہ قریش سرور دوعالمﷺ کے دین پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا پھر وہ اذان دیتے (بنی نجار کی اس عورت نے کہا) خدا کی قسم میں نہیں جانتی کہ کسی بھی رات میں آپ نے یہ کلمات پڑھنے ترک کئے ہوں (ہر رات اذان سے پہلے پڑھتے تھے)
(سنن ابو دائود، جلد 1، ص 77، مطبوعہ دارالحدیث، ملتان)
انتباہ اذان سے پہلے دعا بروایت ثابت ہے اور صلوٰۃ و سلام دعا ہے لہذا اذان سے پہلے صلوٰۃ و سلام ثابت ہوا کیونکہ وہ دعا ہے اور جمہور محدثین کے نزدیک روایت بالمعنی جائز ہے۔
نوٹ: جمہور علماء کے نزدیک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی نہ صرف قبول بلکہ قابل عمل ہوتی ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے جب اور عموم کی تصریح کے ساتھ ہو تو تمام از مسند تحت امر داخل ہوتے ہیں (فتاویٰ رضویہ جلد 9، ص 243، رضا فائونڈیشن)
اس قاعدے کے مطابق کہ جب امر کا صیغہ عموم کی تصریح کے ساتھ ہو اور یہاں صلوٰۃ و سلام میں جو امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اس کا عموم کسی سے مخفی نہیں اور جب عموم ہے تو اس میں تمام اوقات داخل ہیں لہذا نماز واذان سے قبل و بعد کا وقت لامحالہ (ضروری طور پر) داخل حکم امر ہوگا یعنی جو شخص ان اوقات میں صلوٰۃ و سلام پڑھے گا تو یہ قرآن کے اس حکم پر عمل ہوگا۔ (قواعد فقیہ معہ فوائد رضویہ ص 298 تا 301، مطبوعہ شبیر برادرز)
یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
اے ایمان والو تم بھی اس غیب بتانے والے نبیﷺ پر خوب درود و سلام بھیجو۔ مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ اﷲ الحنان جاء الحق میں ارقام کرتے ہیں۔
یہ آیت کریمہ مطلق وعام ہے۔ اس میں کسی قسم کی قید و تخصیص نہیں ہے یعنی یہ نہیں فرمایا گیا کہ بس فلاں وقت میں ہی پڑھا کرو یا فلاں وقت میں درود و سلام نہ پڑھا کرو بلکہ مطلق رکھا تاکہ تمام ممکن اوقات کو شامل رہے (جاء الحق: ص 781، مطبوعہ مکتبہ غوثیہ)
اسی لئے حضرت علامہ علی قاری علیہ رحمتہ اﷲ الباری فرماتے ہیں:
انہ تعالیٰ لم یوقت ذلک یشمل سائر الاوقات
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ نے اس امر صلوٰۃ (درود و سلام کا حکم) کا وقت معین نہیں کیا تاکہ تمام اوقات شامل رہیں (شرح الشفاء للقاری، جلد 3، ص 447)
سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ہے۔ فی صلوتکم ومساجد کم و فی کل موطن
یعنی اپنی نمازوں اور مساجد اور ہر مقام میں نبی کریمﷺ پر درود شریف پڑھو (جلاء الافہام، ص 252)
زکریا کاندھلوی دیوبندی نے لکھا ہے جن اوقات میں بھی (درود شریف) پڑھ سکتا ہو، پڑھنا مستحب ہے (تبلیغی نصاب فضائل، درود شریف ص 67)
لہذا مطلقا ہر جگہ اور ہر وقت نبی کریمﷺ پر درود وسلام پڑھنا جس میں اذان کا مقام بھی داخل ہے کلام الٰہی عزوجل سے مامور و ثابت ہے۔ لہذا روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا جائز و مستحسن ہے۔
غیر مقلدوں کے امام ابن قیم لکھتے ہیں۔ المواطن السادس من مواطن الصلوٰۃ علی النبیﷺ بعد اجابتہ الموذن وعنہ الاقامۃ
ترجمہ: یعنی حضور سید عالمﷺ پر درود شریف بھیجنے کے مواقع میں چھٹا موقع ہے موذن کی اذان سننے کے بعد اور اقامت سے پہلے (جلاء الافہام، ص 308)
امام قاضی عیاض مالکی رحمتہ اﷲ علیہ رقم طراز ہیں۔ ومن مواطن الصلوٰۃ علیہ عند ذکر و سماع اسمہ و کتابہ او عند الاذان
ترجم: نبی کریمﷺ پر درود شریف بھیجنے کے مقامات میں سے یہ ہے کہ آپﷺ کے ذکر کے وقت آپﷺ کا نام مبارک سننے کے وقت یا آپﷺ کے نام مبارک لکھنے کے وقت یا اذان کے وقت۔ (شفاء شریف فصل فی المواطن الخ جلد 2، ص 43، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
علامہ علی قاری فرماتے ہیں:
عند الاذان ای الاعلام الشامل للاقامۃ
ترجمہ: اذان سے مراد اعلام ہے جو اذان شرعی و اقامت دونوں کو شامل ہے (شرح الشفائ، جلد 2، ص 114)
عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں: یستفاد منہ بظاہرہ استحبابہ عند شروع الاقامۃ کما ہو معارف فی بعض البلاد
(الاسعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ باب الاذان ج 2، ص 41، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) امام سید ابی بکر المشہور باسید البکری رحمتہ اﷲ لکھتے ہیں:
ای الصلوٰۃ والسلام علی النبیﷺ قبل الاذان والاقامۃ
ترجمہ: اذان و اقامت سے پہلے رسول اﷲﷺ پر درود و سلام بھیجنا مسنون و مستحب ہے (امانۃ الطالبین علی فتح المعین جلد 1، ص 232، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی)
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح میں علامہ شیخ احمد طحطاوی فرماتے ہیں: وفی الدرۃ المنیقۃ: اول من احدث اذان اثنین معابنو امیۃ واول لازیدت الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد الاذان علی المنارۃ فی زمن حاجی بن الاشراف شعبان بن حسین بن محمد بن قلاون، باامر المستحب نجم الدین الطنبدی وذلک فی شعبان سنۃ احدی وتسعین وکذا فی الاوئل للسیوطی
(حاشیۃ الطحطاوی جلد 1، ص 271، مطبوعہ قاسم پبلی کیشنز کراچی)
مومن وہ ہے جو ان کی عزت پہ مرے دل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مرے دل سے
(حدائق بخشش)
اب ہم فتاویٰ امجدیہ سے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں جس سے اظہر من الشمس وابین من الامس، روز روشن سے زیادہ ظاہر گزشتہ کل سے زیادہ واضح ہوجائے گا۔
اذان و اقامت سے پہلے اور بعد میں درود و دعا و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے۔ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اﷲ القوی لکھتے ہیں: اذان کے بعد جو دعا احادیث میں وارد ہے۔ اس کا پڑھنا اتباع سنت و موجب برکات ہے۔ اس کے پڑھنے کے لئے احادیث میں شفاعت کا وعدہ فرمایا گیا۔ انبیاء علیہم السلام پر درود و سلام پڑھنا موجب ثواب و برکات اور درود کے ثواب جو احادیث میں وارد ہیں، اس کا مستحق ہے۔ احادیث میں درود پڑھنے کی فضیلت موجود ہے اور اذان کے بعد درود کی ممانعت نہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ اس کو (درود و سلام اذان و اقامت سے پہلے یا بعد میں پڑھنے کو) ناجائز و بدعت قبیحہ کہنے والے ایمان و انصاف سے بولیں کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھنا کس حدیث میں منع کیا۔ کس صحابی نے منع کیا یا تابعین و تبع تابعین یا ائمہ مجتہدین میں سے کس نے ناجائز کہا۔ اگر ایسا نہیں اور یقینا ایسا نہیں تو یہ حکم احداث فی الدین و بدعت قبیحہ ہے یا نہیں ضرور ہے اور وہ تمام احادیث جو مجوزین کے حق میں ذکر کی گئیں۔ سب مانعین کے حق میں ہیں۔ بالجملہ صلوٰۃ وسلام (اذان واقامت سے پہلے ہو یا بعد میں) پڑھنا جائز ہے کسی دلیل شرعی سے اس کی ممانعت نہیں۔
اب نجدیوں نے موقوف کردیا ہے ورنہ صدیوں سے حرمین طیبین مکہ و مدینہ دیگر بلاد اسلامیہ میں رائج و معمول بنارہا اور علماء و مشائخ بنظر استحسان دیکھتے رہے اور عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ماراہ المسلمون حسنا فہو عنہ اﷲ حسن لہذا یہ جائز و مستحسن ہے۔
در مختار و ہدایہ، فتاویٰ قاضی خان، عالمگیری و غیرہ کتب فقہ میں اس کے جواز بلکہ استحسان کی تصریح ہے۔ التسلیم بعد الاذان حدث فی ربیع الاخر سنۃ سبع مانۃ واحدی وثمانین فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الا المغرب ثم فیہا مہ تین وہو بدعۃ حسنۃ
علماء جب اسے اس ہیئت خاصہ کے ساتھ بدعت حسنہ کہتے ہیں تو اسے بدعت سیئہ قرار دے کر منع کرنا سخت غلطی ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، ص 67, 66, 65 مطبوعہ مکتبہ رضویہ)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اذان کے بعد یا اذان سے پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا جائز و مستحب امر مستحسن ہے کما حردناہ فی اوائلہ
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا
تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود
(حدائق بخشش)
امام ابن حجر متوفی 974ھ اپنی مایہ ناز تصنیف الدر المنصور فی الصلوٰۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود میں ارقام کرتے ہیں کہ نماز جمعہ اور نماز فجر و مغرب کے سوا باقی سب نمازوں سے پہلے اور اذان کے بعد مساجد کی میناروں پر رسول اﷲﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑھنے کی جو عادت اہل اسلام میں رائج ہے۔ ا سکو سلطان صلاح الدین بن ایوب رحمتہ اﷲ علیہ نے جاری کیا تھا۔ نماز جمعہ اور نماز فجر میں اذان سے پہلے پڑھا جاتا تھا اور نماز مغرب کا وقت تنگ ہونے کی وجہ سے اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام نہیں پڑھا جاتا تھا۔ بعض مورخین نے ذکر کیا ہے کہ اس عمل کی ابتداء مصر اور قاہرہ میں 791ھ سے ہوئی ہے کہ بعض معتقدین نے خواب میں اس کو دیکھا تھا۔ ان مورخین کا یہ بیان اس طریقہ کے اس سے قبل جاری ہونے کے مخالف نہیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ سلطان صلاح الدین بن ایوب کی وفات کے بعد مذکورہ تاریخ تک اس کو ترک کردیا گیا ہو اور اس تاریخ کے بعد دوبارہ اس پر عمل کیا گیا ہو یا سلطان صلاح الدین نے صرف جمعتہ المبارک کی رات اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہو اور مذکورہ تاریخ کے بعد باقی ایام میں بھی اس کو معمول بنادیا گیا ہو۔ مزید لکھتے ہیں کہ بعض متاخرین نے اس عمل کو درست قرار دیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ بدعت حسنہ ہے۔ اس پر عمل کرنے والے کو حسن نیت کی وجہ سے اجر ملے گا۔ حضرت امام احمد بن محمد بن حجر رحمتہ اﷲ علیہ کے شیخ حضرت شیخ الاسلام ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ کا قول اس کے قریب ہے۔ انہوں نے اپنے فتاویٰ میں فرمایا ہے کہ اس کی اصل مستحب ہے اور کیفیت بدعت (حسنہ) ہے (انظرنی الدر المنصور فی الصلوٰۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود ص 325)
نیز اسی میں ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا۔ اس کا کوئی دین نہیں۔
اس حدیث کو المروزی نے تخریج کیا۔ اس کی سند میں ایک راوی کا نام ذکر نہیں (الدر السمنن ص 308)
انداز لگایئے کہ درود پاک نہ پڑھنے والے پر اس وعید شدید ارشاد فرمائی گئی۔ ان بدبختوں کا انجام کیا ہوگا جو اپنے دقیانوسی خیالات فاسدہ جاہلانہ اعتراضات کے تیر برسا کر اذان سے پہلے اور بعد میں درود سلام پڑھنے کو منع کرتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ آخرت میں ان کا انجام کیا ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو سمجھنے اور حق توفیق عطا فرمائے۔
خدام الدین ستمبر 1963ء میں لکھا ہے کہ اس درود سے منع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ حاجی امداد اﷲ صاحب نے فرمایا ہے کہ اس کے جواز میں شک نہیں (مولانا محمد صدیق ملتانی) (تقاریری نکات ص 463 بتغیر مطبوعہ کرانوالہ بک شاپ لاہور)
حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم فرماتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ رحمت کونین نانائے حسنینﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ایک طرف کو نکلا تو میں نے دیکھا کہ جو درخت اور پہاڑ سامنے آتا ہے۔ اس سے السلام علیک یارسول اﷲ کی آواز آتی ہے اور میں خود اس آواز کو اپنے کانوں سے سن رہا تھا (سنن الترمذی الحدیث 3464، ج 5ً ص 359)
اہلسنت کی پہچان سنیوں کے دلوں کی جان اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن اپنے نعتیہ کلام حدائق بخشش میں فرماتے ہیں۔
ذکر ان کا چھیڑیئے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجئے
مثل فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکر آیات ولادت کیجئے
غیظ میں جل جائیں، بے دینوں کے دل
یارسول اﷲ کی کثرت کیجئے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
(باقی آئندہ)
٭٭٭

 کہنا اللہم لک حمد و بک امنت وعلیک توکلت و علیٰ رزقک افطرت یہ دونوں بدعت ہیں۔
اور خطبہ کی اذان داخل مسجد کہنا یہ بھی بدعت ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب ابو دائود جلد اول ص 162 میں ہے عن السائب بن یزید قال کان یوذن بین یدی رسول اﷲﷺ اذا جلس علی الممبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر و عمر یعنی حضرت سائب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اﷲﷺ جمعہ کے روز منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضورﷺ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے زمانہ میں اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنے کی مخالفت کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ان بدعتوں کی بھی مخالفت کریں مگر وہ لوگ ان بدعتوں کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ جس سے انبیاء کرام و بزرگان دین کی عظمت ظاہر ہو، صرف اسی کی مخالفت کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کیباتیں نہ سنیں کہ عظمت نبی کا دشمن ابلیس جنت سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ عظمت نبی کی مخالفت کرکے جنگ میں جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ (فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 ص 181 بتغیر مطبوعہ شبیر برادراز)
شامی مصری جلد اول ص 381 تا 382 میں ہے۔
قولہ (مستحبۃ فی کلاوقات الامکان) ای حیث لا مانع و نص العلماء علی استحبابہا فیمواضع یوم الجمعۃ ولیلتھا وعند الاقامۃ واول الدعا واوسطہ و آخرہ وعند ذکر
ان کا کہنا (درود مستحب ہے ہر غیر مکروہ وقت مین) یعنی جہاں کو شرع مانع نہ ہو۔ علماء نے فرمایا ہے کئی مواقع پر درود شریف مستحب ہے۔ خطبہ کے وقت جمعہ کے دن میں اور رات میں اقامت کے وقت۔ دعا کے شروع میں اس کے درمیان میں اور اس کے اخیر میں بھی نیز اﷲ کے ذکر کے وقت۔
در مختار مصری ص 228 میں ہے۔
ومستحبۃ فی کل اوقات الامکان
ہر جائز اوقات میں درود شریف مستحب ہے۔
حنفیہ کا اصول فتاویٰ میں لکھا ہے۔ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حمکفی متوفی 1088ھ نے الدر المختار میں لکھا
الاصل فی الاشیاء الابحۃ یعنی چیزوں میں اصل اباحت جائز ہونا ہے (حاشیہ شامی جلد 1، ص 77، مکتبۃ رشیدیہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ درود شریف قبل اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے قبل چاہئے یا درود شریف کی آواز آواز اقامت سے ایسی جدا ہوکر امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو (فتاویٰ رضویہ جلد 5، ص 386، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
اسی فتاویٰ رضویہ میں الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول کے بارے میں دلائل ملاحطہ فرمائیں۔ امام اہلسنت فرماتے ہیں۔
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ کہنا باجماع مسلمین جائز و مستحب ہے جس کی ایک دلیل ظاہر و باہر الستحیان میں السلام علیک ایہا النبی و رحمتہ اﷲ وبرکاتہ ہے اور اس کی سوا صحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بک ابی ربی فی حاجتی ہذہ
(جامع ترمذی میں اسی طرح ہے) اے محمدﷺ میں اپنی اصل حاجت میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور آپ کو وسیلہ بناتا ہوں۔ موجود جس میں بعد وفات اقدس حضور سید عالمﷺ کے حضور پکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے (فتاویٰ رضویہ جلد 23، ص 680، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
اس سے معلوم ہوا کہ اذان سے قبل یا بعد میں درود شریف بالخصوص الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ کہنا بھی جائز ہے۔
فتاویٰ فیض رسول میں ہے۔ اگر مخالفین اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کے زمانہ مبارکہ میں اور صحابہ کرام کے عہد میں اذان و اقامت سے پہلے درود شریف نہیں پڑھا جاتا تھا تو مخالفین سے کئے کہ مسلمان بچوں کو جو ایمان مجمل اور ایمان مفصل یاد کرایا جاتا ہے، ایمان کی یہ دو قسمیں ہیں اور ان کے یہ دونوں نام بدعت ہیں۔ کلموں کی تعداد ان کی ترتیب اور ان کے سب نام بدعت ہیں۔ قرآن شریف کا تیس 30 پارے بنانا، ان میں رکوع قائم کرنا اس پر اعراب زبر زیر وغیرہ لگانا اور آیتوں کا نمبر وغیرہ لگانا سب بدعت ہے۔ حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا حدیث کی قسمیں بنانا پھر ان کے احکام مقرر کرنا سب بدعت ہیں۔ اصول حدیث، اول فقہ کے سارے قاعدے قانون سب بدعت ہیں۔ نماز کے لئے زبان سے نیت کرنا یہ بھی بدعت ہے، روزہ کی نیت اسی طرح زبان سے کہنا نویت ان اصوم غداۃً ﷲ تعالیٰ اور افطار کے وقت ان الفاظ کو زبان سے
جب اذان اتنا بابرکت کام ہے تو ہر بابرکت کام سے پہلے جس طرح بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہئے (کل امر ذی بال لویبد بسم اﷲ فہو اقطع) اسی طرح ہربابرکت کام سے پہلے اپنے آقا و مولیٰﷺ پر درود و سلام پڑھنا چاہئے جن کے صدقے ہمیں یہ عظیم الشان نعمت ملی جیسا کہ جامع صغیر میں حدیث بھی ہے۔
القول البدیع فی الصلوٰۃعلی حبیب الشفیع میں علامہ سخاوی علیہ الرحمہ (جوکہ ابن کثیر کے وہ ابن قیم کے وہ ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں اور ابن تیمیہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہیں مخالفین کے) فرماتے ہیں۔ اذان سے پہلے سلام پڑھنا جائز ہے۔ ویوم بحسن نیتہ حسن نیت پر ثواب بھی ملے گا۔ یہی درود و سلام جو اذان سے پہلے صدیوں سے پڑھا جارہا ہے اور ادفتحیہ میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویرضی اﷲ عنہ نے اس کو چودہ سو اولیاء کا وظیفہء قرار دیا اور فرمایا جو اس کو پڑھے گا، چودہ سو اولیاء کا فیض پائے گا۔
شکر النعمہ میں سید السفہاء مولوی اشرفعلی تھانوی کا واقعہ ہے کہ کانپور میں وعظ کے دوران ایک شخص نے خواب میں حضورﷺ کی زیارت کی اور آپ نے فرمایا۔ اشرف علی کو میرا سلام دینا، اس شخص نے بیدار ہونے کے بعد مجلس وعظ میں ہی سلام عرض کیا تو تھانوی صاحب کہنے لگے۔ آج تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ کثرت سے سلام عرض کرو۔ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲﷺ۔
ضیاء القلوب میں ہے حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضورﷺ کی زیارت کے لئے یہی درودشریف بتایا ہے۔
الشہاب الثاقب میں حسین احمد مدنی (ٹانڈوی) نے لکھا ہے کہ ہمارے علماء تو کثرت سے یہ درود شریف (الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ) پڑھتے ہیںجبکہ وہابڑے (یعنی وہانی کا معنی ہے نمک حرام) منع کرتے ہیں۔ تبلیغی نصاب میں لکھا ہے کہ میرے نزیک دور ہو یا قریب یہی درود شریف پڑھنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں صلوٰۃ بھی ہے اور سلام بھی (اور اﷲ تعالیٰ نے صلوا علیہ وسلموا تسلیما)میں صلوٰۃ و سلام دونوں پڑھنے کا حکم دیا ہے)

 اذان کے بعد صلوٰۃ وسلام پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کی تصریحات

علامہ عمر بن ابراہیم ابن نجیم الحنفی المتوفی 1005ھ لکھتے ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی شافعی متوفی 911 نے حسن الصحاضرہ میں لکھا ہے کہ ربیع الاخر 781ھ پیر کے دن عشاء کی اذان کے بعد سید عالمﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع ہوا پھر اس کے دس سال بعد مغرب کے سوا ہر اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع ہوا۔ پھر میں نے علامہ عبدالرحمن سخاوی متوفی 906ھ کے القوال البدیع میں یہ پڑھا کہ شعبان 791ھ میں قاہرہ اور مصر کے موذنوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہر اذان سے فارغ ہونے کے بعد کئی مرتبہ یہ پڑھیں۔
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ اور یہ معلوم ہے کہ صلوٰۃ و سلام پڑھنا قرب کا ذریعہ ہے اور بہت احادیث میں اس کی ترغیب دی گئی۔ خصوصا اذان کے بعد کی دعا سے پہلے (کما فی ضحیح مسلم) اور صحیح یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے (للستفصیل بدعۃ الحسنۃ انظر فی اشعۃ اللمعات ج 1ص 25، مطبوعہ کوئٹہ)
اور اس کے فاعل کو اس کی حسن نیت کی وجہ سے اجر دیا جائے گا (القول البدیع ص 280، ملخصاً مکتبہ الموید الطائف)
اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنے میں کئی اقوال ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے (الحنر الفائق ج 1، ص 172، قدیمی کتب خانہ کراچی)
علامہ شامی قدس سرہ السامی کی بھی یہی تحقیق ہے کہ اذان کے بعد سرکار مدینہﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑڑھنا بدعت حسنہ (اچھی بدعت ہے) (ردالمحتار جلد 2، ص 52، دارالحیاء التراث العربی بیروت 1419ھ)
ابریز میں ہے اذان کی فضیلت میں حدیث پاک میں آتا ہے کہ اذان کی آواز سن کر شیطان گوز مارتا ہوا چھتیس میل دور بھاگ جاتا ہے۔ اس کی وجہ علماء نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اذان ایک نور ہے اور نور میں ٹھنڈک ہے جبکہ شیطان نار سے ہے جس میں تپش ہے جوکہ ٹھنڈک سے ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے شیطان مقام اذان سے بھاگ جاتا ہے (الابریز شیخ عبدالعزیز دباغ)
نیز اذان کی یہ بھی فضیلت ہے کہ جہاں جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے قیامت کے دن ہر شے موذن کی ایمان کی گواہی دے گی اور موذن کی گردن قیامت کے دن سب سے بلند ہوگی یعنی اس کی شان و عظمت بہت اونچی ہوگی۔
کتاب کنزالعباد وصلوٰۃ نخشی و کتاب السعادۃ و جامع الرموز شرح مختصر وقایہ و رد المحتار علی الدر المختار و فتاویٰ صوفیہ میں تصریح ہے کہ جب موذن پہلی مرتبہ اشہد ان محمدً رسول اﷲ کہے تو سننے والے کو صلی اﷲ علیک یا رسول اﷲ کہنا مستحب ہے اور جب دوسری مرتبہ کہے تو قرۃ عینی بک یا رسول اﷲﷺ کہنا مستحب ہے۔ اس عبارت پر حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر ہاشمی قصوری (متوفی 1315ھ) تبصرہ کرتے ہوئے ارقام کرتے ہیں۔
اب غٹور کرو کہ یہ حکم کتب معتبرہ فقہ درود کی ساتھ اور بغیر درود کے بھی اذان کے وقت یا رسول اﷲ کہنا مستحب (رسالہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ ص 27، مطبوعہ دارالاسلام لاہور)
شرح شفاء فی حقوق المصپطفی میںہے کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ کا پائوں سست اور بے حس ہوگیا تھا تو ان کو کسی نے کہا کہ محبوب (یعنی جس سی آپ کو سب سے زیادہ محبت ہو) کو یاد کر! تب آپ نے اونچی آواز سے پکارا۔ یا محمداہ
علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں گویا ابن عمنر رضی اﷲ عنہ نے فمن استعانت میں اپنی محبت کے اظہار کا قصد کیا۔ دیکھئے شرح الشفاء ملا علی قاری، اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جو اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام پڑھنا بدعت کہتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ صحابہ کرام، تابعین تبع تابعین کے دور میں نہ تھا۔ ابھی بھی ایسے بہت سے امور پائے جاتے ہیں جو قرون ثلثہ میں نہ تھے تو ان کا کیا کیا جائے جیسے کسی صحابی کے دور میں موٹر سائیکل، کار، بس، جہازوغیرہ ہ تھے تو مخالفین کو چاہئے کہ ان چیزوں کو ترک کرے۔ اس لئے کہ یہ قرون ثلثہ میں نہ تھی اور گھوڑوں اونٹوں پر سفر کیا جائے۔ لائوڈ اسپیکر پر اذان و نماز پڑھنا پڑھانا کانفرنس وغیرہ کرنا یہ سب معاملات ترک کردیئے جائیں کہ قرون ثلثہ میں نہ تھے، بریانی قورمے، کولڈرنگ بوتلیں اور دیگر اشیاء بھی ترک کردی جائیں کہ قرون ثلثہ میں نہ تھی۔
اور قرون ثلثہ میں آپ جیسے ناواقف بھی نہ تھے تو آپ کا کیا کیا جائے اور قرون ثلثہ میں بجلی، گیس، موبائل، ٹیلی فون، بلند و بالا عمارتیں بھی نہ تھیں۔ان کو بھی ترک کردیا جائے اور اگر ان تمام تر اشیاء کا استعمال ترک نہیں کرسکتے تو پھر یہ پاگلوں جیسا اعتراض کیوں؟
قل ہاتو برہانکم ان کنتم صادقین
حرمت ثابت کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جائز بتانے والے کو کسی دلیل کی حاجت نہیں۔ خود حدیث پاک میں ہیں۔ یہ اصول مقرر فرمایا
مشکوٰۃ شریف ص 367 میں ابن ماجہ و ترمذی سے نقل کیا۔
الحلال ماحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ و ما سکت عنہ فہو مما عفی عند
حلال وہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال بیان فرمایا اور حرام وہ ہے جس کو اﷲ تعالی ٰنے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جن کاموں سے سکوت فرمایا۔یہ ان کاموں سے ہیں جن پر موخذہ نہیں ہے یعنی مباح ہیں۔ لہذا جو لوگ صلوٰۃ و سلام کو ناجائز کہتے ہیں انہیں قرآن و حدیث اور فقہ سے دلیل لانا چاہئے۔ ہم سے دلیل مطالبہ غلط ہے۔
قل ہاتو برہانکم ان کنتم صادقین
در مختار میں موجود ہے۔ ویثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل
یعنی اذان و اقامت کے درمیان ہر نماز کے لئے تشویب ہے۔
(در مختار علی حاشیۃ الشامی جلد 1، ص 86، ومکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
بدرسیمائے عالم علامہ شہاب الدین احمد خفاجی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
المنقول افہم کانو یقولون فی تحیۃ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲﷺ
ترجمہ: منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نبی پاکﷺ سے ملاقات کے وقت الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ کے الفاظ سے سلام و تحیت پیش کرتے تھے (نسیم الریاض جلد 3، ص 454، دارالفکر بیروت)

 یارسول اﷲکہنے کے بارے میں

دلائل و براہین

سنیت کی جان سنیوں کی پہچان امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا فتاویٰ رضویہ جلد 30 ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں امام اہلسنت نے یارسول اﷲ پکارنے کو جائز و مستحن قرار دیا۔ موتو ابغیظکم
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول اﷲ کی کثرت کیجئے
(امام اہلسنت)
اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام دعا (وہ دعا جو احادیث میں وارد ہوئیں) کے بیشمار فضائل و برکات ہیں۔ مخالفین یہ کہہ کر عوام اہلسنت پر افتراء باندھتے ہیں کہ تم اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے ہو۔ کیا حضورعلیہ الصلوٰۃ و سلام کے دور میں کسی صحابی نے پڑھا (وغیرہ وغیرہ) ان تمام بے بنیاد سوالات کے جوابات ہم دے چکے ہیں۔ یاد رکھئے کسی معاملے میں عدم جواز کی دلیل نہ ہوناخود دلیل جواز ہے۔ یقینا ہر وہ نئی چیز جس کو شریعت مطہرہ نے منع نہیں کیا، وہ بدعت حشنہ اور مباح یعنی اچھی بدعت اور جائز ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کو کسی بھی حدیث میں منع نہیں کیا گیا لہذا منع نہ ہونا خود بخود اجازت بن گیا۔ جیسا کہ اشباہ والنظائر میںمذکور ہے۔
الاصل فی الاشیاء الابحۃ
یعنی ہر چیز اصل میں مباح و جائز ہے۔ یہ اصل میں امام شفاعی اور احناف میں حصرت امام کرخی کے نزدیک ہے (الاشباہ والنظائر الغن الاول، القواعد الکلیہ النسوع الاول القاعدۃ الثالثہ ص 51,56، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1419ھ)
متاخرین احناف نے بھی اس کوتسلیم کیا ہے اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے بھی اس کو سند لائے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اﷲ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے
ہوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا (البقرہ 29)
اﷲ ہی نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے، پیدا فرمایا۔
لہذا ہر چیز مباح اور جائز ہے جب تک اس کے عدم جواز یا تحریم پر کوئی دوسرا حکم نہ ہو۔ صاحب ہدایہ کا بھی یہی مسلک ہے (الہدایہ کتاب الطلاق باب العدۃ، ج 1،ص 278، مطبوعہ دارالحیاء التراث العربی بیروت)
حدیث شریف میں ہے۔ الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ و ماسکت عنہ فہو مما عفا عنہ
حلال وہ ہے جو اﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جو اﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت فرمایا وہ معاف ہیں اور مباح ۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باباکل المجین ولاحسن الحدیث 3367، ج 4، ص 56، مطبوعہ دارالعرفہ بیروت 1420ھ)
یہ امر بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے کہ حضورﷺ کا قول و فعل اور صحابہ کرام کا قول و فعل توحجت شریعہ ہے مگر ان کا عدم قول اور عدم فعل عدم جواز کے لئے حجت شرعیہ نہیں وہ اسی قاعدہ کے مطابق جائز و مباح ہے کہ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ بلکہامر مباح بہ نیت خیر باعث اجرو ثواب ہے اور مستحسن کہ الاعمال لابنیات حدیث صحیح ہے۔ بلکہ وہ تمام امور مباح جن سے دین کی ترقی یا تعلیمات اسلام کی اشاعت اورشریعت کا تحفظ ہوتا ہے، سب مستحسن ہیں۔
(بہار شریعت، جلد 3، ص 1071، قاعدہ نمبر 10، القواعد الفقیہ مکتبۃ العربیہ)
اصول الشاش میں یہ قاعدہ مذکور ہے کہ المطلق یجری علی اطلقہ یعنی مطلق اپنے مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم میں مومنوں کو اپنے حبیبﷺ پر درود سلام پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا اور اپنی رحمت واسع سے اس حکم کو مطلع رکھا یعنی اس زمان و مکانو صیغہ و ہیئت کی کوئیقید نہیں لگائی لہذا مومنین درود وسلام جب چاہیں، جس وقت چاہیں اور جس ہیئت و صیغہ کے ساتھ چاہیں پڑھ کرحکم خداوندی پر عمل کی سعادت پاسکتے ہیں (ہکذا فی الحسامی)
ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن
(المسندء الامام بن حنبل، مسند عبداﷲ بن مسعود، الحدیث 3600، جلد 2، ص 16، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414ھ)
یعنی وہ چیز جس کو مسلمان (اہل علم و اہل تقویٰ) اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔
یہ حدیث حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے جس کو حضرت امام احمد رحمتہ اﷲ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے بعض محدثین اسے مرفوع کہتے ہیں اور بعض اس کو موقوف کہتے ہیں
(کشف الخفاء حرف الصحیح الحدیث 2212 ، جلد 2،ص 168، مطبوعہ دارلاکتب العلمیہ بیروت 1422ھ)
یہ حدیث اس قدر عمدہ اور جامع ہے کہ اس کے تحت وہ تمام امور آجاتے ہیں جنہیںمسلمان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور مبارک میں یا اس کے بعد اچھاسمجھ کر کرتے آئے ہیں جیسے اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃو سلام، میلاد و قیام، ایصال ثواب، اعراس بزرگان دین، وغیرہ کوان بدامور کو اہل ایمان فدایان خیرالانامﷺ اچھا سمجھ کر بجا لاتے اور ثواب پاتے ہیں (عامہ کتب اصول الفقہ) (تلخیص اصولی الثاثی ص 124، بتغیر مطبوعہ مکتبتہ المدینہ)
ان تمام تر اصول و قواعد سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ اذان سے قبل اور اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام جائز وامر مستحسن ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ عقل سلیم عطا فرمائے اور حق سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ طٰہٰ ویٰسین
اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جنہوں نے شرک و بدعت کو اپنا تکیہ کلام بنایا ہوا اور شرکو بدعت کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں حالانکہ ان بے وقوفوں،عقل کے اندھوں، دل کے گندھوں سر سے گنجوں کو صحیح طرح شرک و بدعت کی تعریف بھی معلوم نہیں ہوتی اور صحیح العقیدہ سنی اسلامی بھائیوں پر شرک و بدعت کے تیر برساتے ہیں اور اصول الاصول فخر الرسول بی بی آمنہ کے مہکتے پھولﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے یا رسول پکارنے کو شرک کہتے ہیں۔
سلطان العارفین قدوۃ السالکین سیدنا سلطان باہو رحمتہ اﷲ فرماتے ہیں جو شخص حیات النبیﷺ کو نہیں مانتا بلکہ موت جانتا ہے، اس کے منہ میں خاک اور وہ دونوں جہاں میں سیاہ رو (یعنی سیاہ چہرے والا) ہے اور ضرور بالضرور شفاعت مصطفیﷺ سے محروم رہے گا۔ (عقل بیدار ص 289، ملتقطا مطبع پروگریسو بکس لاہور)
تو زندہ ہے واﷲ تو زندہ ہے واﷲ
میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
(حدائق بخشش)
لہذا ہر وہ چیز جس سے اﷲ عزوجل نے سکوت فرمایا، وہ جائز و مباح ہے۔ اگر کوئی شخص اسے ناجائز یا حرام یا گناہ کہے اس پر لازم ہے کہ وہ دلیل شرعی لائے۔ کیونکہ سکوت عنہا (جس سے سکوت کیا گیا) کو مباح و جائز کہنے کے لئے یہ حدیث ہی کافی ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت اس مفہوم کو ثابت کرنے والی اوپر بیان ہوچکی ہے۔ دوسری آیت جس میں یہ مفہوم اور زیادہ وضاحت سے ثابت ہونا ہے یہ ہے۔
یاایھا الذین امنوا لاتسئلوا اعن اشیاء ان تبدلکم تسؤ کم(المائدہ 101)
اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا حکم نازل نہیں کیا گیا کہ اگر ان کا حکم ظاہر کردیا جائے تو تمہیں تکلیف پہنچے۔
اسی لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شرعی احکام میں کثرت سوال سے منع فرمایا کہ اس سے شریعت کے احکام کے سخت ہونے کا اندیشہ ہے۔اس آیت کا واضح مفہوم یہی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ عفو میں داخل ہیں۔ اگر ان کی ممانعت یا فرضیت کا حکم نازل ہوگیا تو تمہیں تکلیف پہنچے گی۔ لہذا جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ وہ آیت مذکورہ (ہوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا) کی رو سیجائز و مباح ہیں (تلک حدود اﷲ فلا تعتدوہا (البقرہ 29) اور یہ اﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو لہذا جو ان مسکوت عنہا کو ناجائز یا حرام یا بدعت سیئہ یا فرض یا واجب کہے وہ قرآن و حدیث یا قواعد فقیہ سے دلیل لائے ورنہ یہ اﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود سے آگے بڑھنا ہے اور اﷲ عزوجل اور رسول اﷲﷺ اور شریعت کاملہ پر افتراء ہوگا جس کی قرآن میں شدید مذمت آئی ہے اور سخت ممانعت و تہدید کی گئی ہے۔ لہذا میت کو ایصال ثواب کے لئے تعین وقت کے ساتھ قرآن خوانی یا سوا لاکھ بار کلمہ شریف پڑھنا یا پڑھوانا فاتحہ و درود انعقاد محافل میلاد شریف اور صلوٰۃ و سلام اور بیعت وارادت وغیرہا کے عدم جواز و بدعت کے قائلین کوقرآن یا احدیث یا اقوال صحابہ یا اقل درجہ میں قواعد فقیہہ سیان کے عدم جواز پر دلیل لانا چاہئے ۔ بلا دلیل شرعی ان کے عدم جواز کا قول اﷲ عزوجل اور رسول اﷲﷺ پر افتراء والعیاذ باﷲ وتعالیٰ
ان اﷲ وملائکۃ یصلون علی النبی یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلمہ تسلیما
صیغہ مضارع (یصلون کے راز)
حافظ سخاوی لکھتے ہیں کہ اس آیت میں صیغہ مضارع (یصلون) لایا گیا جو دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔
دیکھو القول البدیع
اس آیت بینہ میں درود و سلام کا مطلق حکم ہوا کسی وقت، کسی مقام کی کوئی قید نہیں۔
صلوا وسلموا … دو امر کے صیغے بیان فرمائے ہیں کہ جن میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے محبوبﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود وسلام بھیجنے کا حکم فرمایا کہ اے ایمان والو میرے نبی پر درود وسلام بھیجو اور خوب بھیجو لیکن اس آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی کوئی شرط و قید لگائی کہ صرف فلاں درود پڑھو اور فلاں درود نہ پڑھو اور فلاں وقت میں پڑھو، فلاںجگہ پڑھو اور فلاں جگہ نہ پڑھو۔ صبح پڑھو اور شام نہ پڑھو، فلاں دن پڑھو اور فلاں دن نہ پڑھو۔ اذان سے پہلے اور بعد میں نہ پڑ؎و، ایسا کسی آیت میں ارشاد نہیں فرمایا تو پھر اذان سے پہلے یا اذان کے بعد الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ پڑھنے والوں پر اعتراض کیسا؟
اب ہم الصلوٰۃ والسلام یارسول پڑھنے کے مطلق چند اقوال ذکر کریں گے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
مفسرقرآن حضرت اسماعیل حقی بروسی نے اپنی تفسیر روح البیان میں 40 صیغوں کے ساتھ یہ درود لکھا۔
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ
الصلوٰۃ والسلام علیک یاحبیب اﷲ
(تفسیر روح البیان، جلد7، ص 235)
نورالایضاح و مراتی الفلاح معہ طحطاوی
السلام علیک یاسیدی یا رسول اﷲ
السلام علیک یا نبی اﷲ
السلام علیک یا حبیب اﷲ
طحطاوی مع المراتی ص 430 جلد 2، مطبوعہ قاسم پبلی کیشنز
فتح القدیر میں ہے۔ السلام علیک یارسول اﷲ یاخیر خلق اﷲ فتح القدیر جلد 3 ص 95
امام اہلسنت قاطع نجدیت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا
سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد نجد یا پھر تجھ کو کیا
بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے
یارسول اﷲ کہا پھر تجھ کو کیا
یٰعبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے
اپنا بندہ کرلیا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب
تو نہ ان کا ہے نہ تھا پھر تجھ کو کیا
نجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی
یہ ہمارا دین تھا پھر تجھ کو کیا
دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیا کریں
ہم سے راضی ہے خدا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض
ہم ہیں عبد مصطفی پھر تجھ کو کیا
(حدائق بخشش 312)
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
(حدائق بخشش 200)
میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام

دیوبند فرقہ تاریخ کے مشکل دور میں

دیوبند مسلک سے وابستہ تنظیمیں و گروپ تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہوچکے ہیں۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء اور افغان جہاد کے ذریعے غیر معمولی شہرت، طاقت ووسائل حاصل کرنے والے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد مشکلات سے دوچار ہے۔ جنرل ضیاء کے اپنے مارشل لائی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے معروف دینی شخصیات و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی ناکام کوشش کے بعد جماعت اسلامی اور دیوبند مسلک سے وابستہ افراد و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب رہا۔ حافظ تقی شہید مجلس شوری، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن و صوبائی وزیر رہے ہیں، نجی محافل میںجنرل ضیاء کے شاطر پن سے متعلق بتاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ اس بات کا ذکر کیا کہ 1979ء میںملتان سنی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے بعد جنرل ضیاء نے مولانا شاہ احمد نورانی سے مارشل لائی ایجنڈے میں تعاون کی درخواست کی جسے مولانا نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ضیاء صاحب نے اہلسنت کے مقابلے میں دیوبندی و وہابی مسلک کو پروان چڑھایا اور افغان جنگ میں شمولیت سے انہیں عسکری قوت حاصل ہوگئی۔ گزشتہ 35 سالوں سے دیوبندی پاکستان میں مذہبی طور پر سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے نصاب میں تبدیلی اور نعرہ رسالت و نعرہ حیدری کو ختم کروانے میں مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی اور میاں طفیل (جماعت اسلامی) کا کردار پوشیدہ نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سوات آپریشن اور ضرب عضب نے دیوبندیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ کالعدم تنظیمیں آپریشن کے نتیجے میں تتر بتر ہوچکی ہے۔ بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ میں (جولائی سے نومبر) افواج پاکستان 1200 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک 200 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کرکے ہزاروں ٹن بارود، سینکڑوں بموں، خودکش جیکٹس، میزائل، راکٹ اور دیگر اسلحہ تلف کرچکی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کی دوسرے درجے کی قیادت اور ان سے منسلک شدت پسندوں کو ختم کردیا گیا ہے۔
افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی نے ماضی کے برعکس پاکستان سے برادرانہ تعلقات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ 14 نومبر کو پاکستان کا دورہ کیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات اور جی ایچ کیو راولپنڈی کا بھی دورہ کیا۔ اس سے قبل پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حائل رکاوٹوں، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں اور پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی افغانستان میں پناہ پر گفتگو ہوئی جس سے یقینا دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر جہاد کے نام پر دہشت گردوں کو ملنے والی امداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث 83 تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ان تنظیموں میں پانچ کا تعلق پاکستان سے ہے جس میں تحریک طالبان، جیش محمد، مشرقی ترکستان موومنٹ، حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ (جماعۃ الدعوہ) شامل ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ضرب عضب کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ شدت پسندوں کو بلا امتیاز ہدف بنایا جارہا ہے۔ وہ حقانی نیٹ ورک ہو، کالعدم تحریک طالبان یا کوئی اور دہشت گردوں نے ہمارے فوجیوں کو شہید کیا، ان کے سروں کو فٹ بال بناکر کھیلا، یہ وحشی اور جنگلی ہیں۔ پاکستان، افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ ضرب عضب سیاسی حکومت سے مشاورت کے بعد پورے عزم اور سنجیدگی سے شروع کیا گیا ہے اور اسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ ضرب عضب ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک دہشت گردی کو پوری طرح سے شکست دینے کا تصور ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گا۔ انسداد دہشت گردی کی مہم صرف وزیرستان اور خیبر ایجنسی تک محدود نہیںبلکہ یہ پورے ملک تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان حالات میں دیوبند مسلک سے وابستہ افراد نے سرجوڑ لئے ہیں۔ 18 نومبر 2014ء کو اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھی، جس میں سپاہ صحابہ، مجلس احرار کے عطاء اﷲ شاہ بخاری (کانگریسی) کے صاحبزادے عطاء المومن بخاری، وفاق المدارس کے حنیف جالندھری اور جے یو آئی کے حافظ حسین و دیگر سرگرم تھے۔ دیوبند فرقے سے وابستہ گیارہ جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی۔ اجلاس سے متعلق عوامی تاثر یہ دیا گیا کہ تحفظ ناموس رسالت، اسلامی اقدار اور امتناع قادیانیت ایکٹ کا تحفظ سمیت آٹھ نکات پر جامعہ بنوری کراچی کے مہتمم عبدالرزاق اسکندر کی سربراہی میں دیوبند سپریم کونسل قائم کی گئی ہے۔ یہ کونسل دیوبند فرقے کا غیر سیاسی اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد دیوبند فرقے کا تحفظ اور فروغ ہے۔ کوئٹہ میں فضل الرحمن پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ 16 نومبر کو جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو میں سوال کے جواب میں اپنے اوپر ہونے والے خودکش حملے میں قومی اداروں کے کردار کی جانب اشارہ کیا۔ سلیم صافی نے وضاحت چاہی تو جوابا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ سب کچھ مجھ سے بلوانا چاہتے ہیں۔
29 نومبر کو JUI کے شدت پسند مقرر ڈاکٹر خالد محمود کا سکھر میں قتل ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق پرانی دشمنی کی بناء پر قتل ہوا۔ قتل کی مذمت میں فضل الرحمن نے کہا کہ اس قتل کو طالبان کی جانب موڑ دیا جائے گا جوکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ دیوبند فرقے کی ایک مشکل خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومتوں سے محرومی ہے۔ ماضی میں دونوں صوبوں کی مخلوط حکومتوں JUI شامل رہتی اور خاص طور پر زکوٰۃ وعشر کے محکمے ان کے پاس ہوتے جس سے مدارس و طالبان کی پرورش کی جاتی رہی ہے۔
پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں یقینا خوشحال روشن پاکستان ایک بار پھر دنیا کی امیدوں کا مرکز بنے گی۔ دوسری جانب سعودی عرب اور پاکستان کے شریف حکمران پاکستان میں وہابیت کے فروغ کے لئے جماعۃ الدعوہ کی فلاح انسانیت فائونڈیشن کے نام پر غیر مشروط مالی امداد کررہے ہیں جو مستقبل میں طالبان اور داعش سے کم خطرناک نہ ہوں گے۔ اس ملک کی غالب اکثریت اہلسنت کب جاگے گی؟
مجھے اس کا انتظار ہے…!!!